کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی جامعۂ اردو برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر کے خلاف عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی درخواست پر تین ہفتوں میں تفصیلی جواب طلب کر لیا۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہین عباس اور پروفیسر ڈاکٹر مہہ جبین سمیت جامعہ اردو کے اساتذہ نے چیئرمین شعبہ ریاضی، ڈین فیکلٹی آف فارمیسی اور پروفیسر و ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تقرریوں کے مبینہ غیر قانونی خاتمے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے اپنے سابقہ حکم میں جامعہ انتظامیہ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ تین ماہ کے اندر اندر متعلقہ معاملات پر فیصلہ کیا جائے اور درخواست گزاران کو باقاعدہ اور منصفانہ سماعت کا حق دیا جائے۔ جامعہ کی سینیٹ میں اس معاملے پر غور ہوا اور ایک تحقیقاتی/جائزہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود کمیٹی کی رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں اساتذہ کا مؤقف ہے کہ وائس چانسلر کی جانب سے مختلف انتظامی تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں جس کے باعث عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ مزید یہ کہ درخواست گزار اساتذہ کو مبینہ طور پر انتظامی دباؤ اور ہراسانی کا سامنا بھی ہے جو نہ صرف عدالتی حکم کی روح کے منافی ہے بلکہ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے وقار اور شفاف گورننس کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ دوسری جانب عدالتی کارروائی میں خلل ڈالنے کے لے ڈاکٹر شاہین عباس کو مزید ہراساں کرنے کے لے جھوٹے الزامات پر مبنی درخواست سینڈیکٹ اجلاس میں رکھا گیا ہے تاکہ سینڈیکٹ کے زریعہ شیخ الجامعہ اور رئیس کلیہ سائنس کی غیر قانونی ہراسمنٹ کو سینڈیکٹ کا تحفظ حاصل کرکے عدالت گو گمراہ کیا جا سکے۔لہٰذا عدالت عالیہ سے استدعا ہے کہ مدعا علیہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔