• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرق وسطیٰ کشیدگی کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے، پیٹرول سپلائی میں تعطل، غیر ملکی میڈیا

شیخوپورہ(اے ایف پی)مشرق وسطیٰ کشیدگی کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے،پیٹرول سپلائی میں تعطل،غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں پیٹرول پمپوں پر رش، گاڑیوں کی قطاریں، حکومت نے قیمتوں میں فوری اضافہ کی تردید کردی ،ایران نے بھی اپنی سرحد بند کردی، پیٹرول نہ ملاتو ٹینکرز رک جائیں گے، ڈرائیوروں کی پریشانی بڑھ گئی ۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان میں ٹینکر ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی کمی کے باعث ڈپو پر انہیں طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے جبکہ حکومت نے قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے خدشات کو کم اہمیت دی ہے۔منگل کے روز درجنوں ٹینکر، جو پورے پاکستان میں ایندھن فراہم کرتے ہیں، پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے قریب ڈپو کے باہر سڑک کے کنارے کھڑے دیکھے گئے۔ٹرک ڈرائیورز نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے چار دن سے ڈپو میں پٹرول نہیں ہے۔ ایران نے اپنی طرف سے سرحد بند کر دی ہے۔ڈرائیور آج بھی ڈپو گئے تھے، لیکن ڈپو کے عملے نے بتایا کہ ایندھن دستیاب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایندھن پانچ سے چھ دن میں دستیاب ہوگا۔انہوں نے مزید کہا:“ملک میں صورتحال اچھی نہیں ہے۔ ملک میں پٹرول نہیں ہے، اسی لیے گاڑیاں یہاں کھڑی ہیں۔ ڈپو بالکل خالی پڑا ہے۔پاکستان تیل اور گیس کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے اور اس ہفتے ایندھن لے جانے والے جہازوں کو بحریہ کی حفاظت فراہم کی گئی تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے دوران سپلائی جاری رکھی جا سکے۔گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں حکومت نے قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیا تھا، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں اور لوگوں نے گھبراہٹ میں ایندھن خریدنا شروع کر دیا۔ ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں جہاز رانی کو متاثر کیا ہے اور تیل و گیس کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں کیونکہ ممالک سپلائی کے خدشات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایندھن کی قیمت میں “فی الحال کوئی بڑا فوری اضافہ نہیں ہوگا۔”وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیر کو ایندھن بچانے کے لیے کفایت شعاری کا ایک منصوبہ بھی اعلان کیا، جس میں سرکاری ملازمین کے لیے کام کے ہفتے کو چار دن تک محدود کرنا اور اسکول بند کرنا شامل ہے۔
اہم خبریں سے مزید