پشاور(کرائمرپورٹر)تھانہ شاہ پور کے علاقے میں تقریبا ڈھائی ماہ قبل جواں سالہ لڑکی کے قتل کیس کا ڈراپ سین ہوگیا، قتل کیس میں لڑکی کے مبینہ دوست کو گرفتار کرلیا گیا جس نے ویڈیوزسوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے خوف سے لڑکی کو قتل کرکے اس کا موبائل فون بھی توڑ دیا تھا۔ پولیس کے مطابق 4دسمبر کو انہیں تھانہ شاہ پورکے علاقے نادرن بائی پاس میں20یا 22سالہ نازش دختر سیفور کی نعش ملی جسے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے ایک مشکوک لڑکے شہباز کو گرفتار کیا جس سے اصل حقائق سے پردہ اٹھایا۔ دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ اس کا لڑکی کے ساتھ دوستانہ تعلق تھا اورانہوں نے ایک دوسرے کی ویڈیوز بھی بنائی تھیں۔ بعد میں لڑکی نے اس سے شادی کا کہاتاہم وہ شادی نہیں کرناچاہتا تھا جس پر مقتولہ نے اسے قابل اعتراض ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دی۔بعد میں دونوں نے فیصلہ کیاکہ وہ ویڈیوز ڈیلیٹ کردینگے تاہم لڑکی نے ویڈیوز ڈیلیٹ نہیں کی جس پر اس سے زبردستی موبائل فون لے لیا اور دو روز بعد ملزم نے لڑکی کو فون کرکے جائے وقوعہ پر بلایاکہ وہ آکر موبائل لیجائے تاہم اسے بلا کر قتل کردیا اور فرار ہوگیا۔ ملزم نے بدنامی کے ڈر سے لڑکی کی جان لی۔پولیس نے مزید بتایاکہ واردات کے بعد ملزم نے مذکورہ موبائل توڑ کر ثبوت مٹانے کی کوشش کی۔ دوسری جانب لڑکی کے ورثاءکو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اسکے پاس موبائل بھی ہے تاہم تفتیش کے دوران پولیس موبائل ڈیٹا کے ذریعے ملزم تک پہنچی۔ملزم کے بارے میں بتایاگیاکہ وہ محلہ خدادادقصہ خوانی میں گارمنٹس دکان میں کام کرتا ہے جبکہ مقتولہ لڑکی گھروں میں کام کاج کرتی تھی اور دونوں کے درمیان وقوعہ سے کچھ ماہ قبل راستے میں دوستی قائم ہوگئی تھی ۔ملزم شہباز کو گرفتار کرکے اس سے مزید پوچھ گچھ شروع کردی گئی ہے ۔