گرین لینڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یو ایس اسپتال شپ (US hospital ship) بھیجنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کہا ہے کہ ملک میں عوامی اور مفت صحت کا نظام موجود ہے، اس لیے کسی اضافی امریکی طبی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔
گرین لینڈ کے وزیرِاعظم نے فیس بک پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ کی پیشکش کا نوٹس لیا گیا ہے تاہم بہتر ہوگا کہ سوشل میڈیا پر بیانات دینے کے بجائے براہِ راست بات چیت کی جائے۔
اُنہوں نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ تعاون اور مکالمے کے لیے تیار ہے مگر اس کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحری جہاز یو ایس این ایس مرسی گرین لینڈ روانہ ہو رہا ہے تاکہ وہاں ’نظرانداز کیے گئے‘ مریضوں کا علاج کیا جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پوسٹ کے ساتھ ایک اے آئی سے تیار کردہ تصویر بھی شیئر کی گئی تھی۔
ایسے میں ڈنمارک کے وزیرِ دفاع ٹرولز لنڈ پاؤلسن نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے عوام کو ضروری طبی سہولتیں میسر ہیں اور اگر خصوصی علاج درکار ہو تو مریضوں کو ڈنمارک منتقل کیا جاتا ہے، گرین لینڈ میں کسی ہنگامی طبی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔
ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے ملک میں رہنے پر فخر محسوس کرتی ہیں جہاں صحت کی سہولتیں مفت اور سب کے لیے برابر ہیں اور جہاں دولت یا انشورنس علاج کا معیار طے نہیں کرتی۔