• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

30,000 تارکین وطن کو قانونی شہریت دلانے میں حکومت کا مثبت کردار

سپین میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں کے مستقبل کا سوال آج محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ قومی وقار، انسانی ہمدردی اور ریاستی ذمہ داری کا امتحان بن چکا ہے۔ ایسے نازک موڑ پر اوورسیز پاکستانیز کی نمائندہ آواز بن کر Overseas Pakistanis Global Foundationکے چیئرمین اختر ظہیر احمد نے ایک اپیل کے ذریعے حکومتِ پاکستان کو متوجہ کیا ہے کہ سپین میں مقیم تقریباً پچیس سے تیس ہزار پاکستانیوں کے روشن مستقبل کو بچانے کے لیے نئے پاسپورٹ کے اجراء سے قبل پولیس رپورٹ کی شرط کو فوری اور عارضی طور پر معطل کیا جائے۔سپین میں OPGF کے یورپیئن کوآرڈنیٹر فرحان نذیر نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں شائد یہ پہلا موقع تھا جب سپین کی شہریت حاصل کرنے کے لئے سالہاسال سے کوشاں پاکستانیوں کی مرادیں پوری ہونے کے روشن امکانات ہیں اور ان کے لئے "اب یا کبھی نہیں" پیش نظرمسئلہ ہے جس کےلئے تیس ہزار سے زائد پاکستانیوں کی نگاہیں حکومت پاکستان کی طرف ہیں کیونکہ کاغذات کی تیاری میں جائز مدد کے ذریعے ہی ان کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔یہی موقع تھا جب OPGF کے چیئرمین اختر ظہیر احمد نے وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ مصطفی جمال قاضی کے نام ارسال کردہ خطوط میں اس سنگین مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔خط میں واضح کیا گیا ہے کہ سپین کی حکومت نے پچیس برس بعد ایک تاریخی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کا نادر موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی سے فائدہ اٹھا کر ہزاروں پاکستانی نہ صرف اپنے روزگار کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ ہسپانوی معاشرے میں باعزت انضمام کا خواب بھی حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ان ہزاروں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کے پاس اس وقت پاکستانی پاسپورٹ موجود نہیں۔ بیشتر افراد کٹھن اور صبر آزما راستوں سے سپین پہنچے، اور آج وہی افراد وطن عزیز کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ بھیج رہے ہیں۔لیکن موجودہ ضابطے کے مطابق نئے پاسپورٹ کے حصول کے لیے مقامی ہسپانوی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس شرط کے باعث سپین بھر میں پولیس اسٹیشنوں کے باہر طویل قطاریں لگ چکی ہیں، نظام پر غیر معمولی دباؤ ہے، اور وقت کی کمی کے سبب ہزاروں افراد مقررہ مدت میں اپنی دستاویزات مکمل کرنے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں۔یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر یہ شرط برقرار رہی تو سب سے زیادہ نقصان انہی پاکستانیوں کو ہوگا جو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر معمولی حالات اور سپین کی پالیسی کے محدود دورانیے کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس رپورٹ کی شرط کو عارضی طور پر ختم کیا جائے تاکہ یہ افراد قانونی دائرے میں آ کر نہ صرف سپین کے ذمہ دار شہری بن سکیں بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کریں۔یہ محض سہولت کا مطالبہ نہیں، بلکہ ہزاروں خاندانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔دوسری جانب سپینش ریذیڈنٹ کارڈ کے حوالے سے ایک اہم اور اعلیٰ سطح اجلاس بھی منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے کی۔اجلاس میں وزارتِ داخلہ کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو قانونی تحفظ اور سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ وزارتِ خارجہ نے سپینش ریذیڈنٹ کارڈ کے عمل میں مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی۔سپین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ظہور احمد نے پالیسی کے خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ پالیسی سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کے لیے نہیں ہے۔ کریکٹر سرٹیفکیٹ اور دیگر لازمی دستاویزات کی فراہمی ضروری ہوگی۔ ابتدائی طور پر اہل افراد کو ایک سال کے لیے ریذیڈنٹ کارڈ جاری کیا جائے گا۔ اورسات سے آٹھ سال مکمل ہونے پر مستقل رہائش اور شہریت کی راہ ہموار ہوگی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دستاویزات کی تصدیق کے عمل کو تیز اور سہل بنایا جائے گا تاکہ درخواست گزاروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزید برآں، الگ الگ کریکٹر سرٹیفکیٹس قابلِ قبول نہیں ہوں گے بلکہ نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے ایک مشترکہ قومی کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت دی کہ تصدیقی عمل کو برق رفتار اور درخواست گزاروں کے لیے ہر سطح پر سہل بنایا جائے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنے بیرون ملک مقیم شہریوں کو محض ترسیلات زر کا ذریعہ نہ سمجھے بلکہ انہیں قومی اثاثہ تصور کرے۔ سپین میں مقیم یہ ہزاروں پاکستانی اگر قانونی حیثیت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندانوں کے لیے استحکام کا سبب بنیں گے بلکہ پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی سطح پر مضبوط ستون ثابت ہوں گے۔پولیس رپورٹ کی شرط کا عارضی خاتمہ ایک انتظامی فیصلہ ضرور ہے، مگر اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہ لمحہ تدبر، ہمدردی اور بروقت اقدام کا ہے — تاکہ سپین میں مقیم پاکستانیوں کا خواب ادھورا نہ رہ جائے۔

تازہ ترین