تحریر:نازیہ مصطفیٰ یہ پاک فضائیہ کی خطے میں اسٹریٹجک برتری اور فضائی دفاع کے ارتقائی سفر کا ایک شاندار باب ہے۔ فروری 2019 کی وہ روشن صبح جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، جب پاکستان کی فضائی سرحدوں کو چیلنج کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی تو جواب میں جو حکمت، توازن اور پیشہ ورانہ مہارت سامنے آئی، اس نے نہ صرف طاقت کا توازن واضح کیا بلکہ جارح کو ایک مضبوط اسٹریٹجک پیغام بھی دیا۔ یہ تھا آپریشن "سویفٹ ریٹارٹ" جس نے پاکستان ایئر فورس کی عملی تیاری، رفتار، درستگی اور ڈیٹرنس صلاحیت کو دنیا کے سامنے فخر سے آشکار کیا۔ حقیقت میں یہ دشمن کے حملے کے خلاف ایک فوری مگر متوازن ردِعمل تھا۔ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کسی جذباتی ردِعمل کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا، نپا تلا اور قواعدِ جنگ کے عین مطابق کیا گیا اقدام تھا۔ پاک فضائیہ نے نہ صرف اپنی فضائی حدود کا مؤثر دفاع کیا بلکہ دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور فضائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اس آپریشن کی سب سے نمایاں خصوصیت رفتار اور درستگی تھی۔ مشن پلاننگ، انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن، ایئر ڈیفنس الرٹس اور فضا میں فیصلہ کن کارروائی نے یہ ثابت کیا کہ پاک فضائیہ صرف دفاعی نہیں بلکہ مؤثر جوابی حکمت عملی رکھنے والی ایک جدید فضائی قوت ہے۔ عالمی عسکری مبصرین نے بھی اس امر کا اعتراف کیا کہ پاک فضائیہ کا ردعمل محدود، متناسب اور اسٹریٹجک ڈیٹرنس کے اصولوں کے عین مطابق تھا۔ اس آپریشن میں پاک فضائیہ نے ایک جانب پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا تو دوسری جانب طے شدہ جنگی اصول و ضوابط کی مکمل پاسداری بھی کی۔ فضائی کارروائی کے دوران اہداف کا انتخاب اس انداز سے کیا گیا کہ پیغام بھی پہنچے اور غیر ضروری تصادم سے بھی اجتناب رہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ پاک فضائیہ نہ صرف عسکری طاقت رکھتی ہے بلکہ اس کے استعمال میں ذمہ داری اور دانش بھی شامل ہے۔ پاک فضائیہ کے پائلٹس کی تربیت، اعصاب کی مضبوطی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت اس موقع پر نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ ایک محدود وقت میں فضائی برتری قائم کرنا، دشمن کے طیاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا اور اپنی فضائی حدود کا مکمل تحفظ یقینی بنانا، یہ سب اس امر کا ثبوت تھا کہ پاکستان کی فضائی دفاعی لائن ہر لمحہ مستعد ہے۔ اس آپریشن نے علاقائی سکیورٹی ڈائنامکس تبدیل کیے اور ایک مضبوط اسٹریٹجک پیغام بھی دیا۔ جنوبی ایشیا ایک حساس خطہ ہے جہاں معمولی عسکری کشیدگی بھی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ جارحیت پر نہیں بلکہ ڈیٹرنس پر مبنی ہے۔ یعنی ایسا مضبوط اور قابلِ اعتماد دفاعی نظام جو دشمن کو مہم جوئی سے باز رکھے۔ اس کارروائی نے خطے میں طاقت کے توازن کو ازسرِنو واضح کیا۔ یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی فضائی سرحدوں کا دفاع کر سکتا ہے بلکہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے اسٹریٹجک استحکام کو تقویت ملی اور یہ ثابت ہوا کہ امن کی ضمانت کمزوری نہیں بلکہ مضبوط دفاع ہے۔آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا ارتقائی تسلسل ہمیں آپریشن بنیانٌ مرصوص 2025 میں بھی دکھائی دیا۔ اگر 27 فروری 2019 کا آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ ایک سنگ میل تھا تو مئی 2025 کے آپریشن بنیان مرصوص کو اسی تسلسل کی اگلی کڑی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں آپریشنز کے درمیان ایک واضح نظریاتی اور عملی ربط موجود ہے۔ پہلا آپریشن فوری ردِعمل اور ڈیٹرنس کا مظہر تھا، جبکہ دوسرا آپریشن جدید ٹیکنالوجی، بہتر انضمام اور ارتقائی حکمت عملی کی مثال بنا۔ آپریشن بنیانٌ مرصوص میں ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ منظم اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کے تحت کیا گیا۔ انٹیگریٹڈ ایئر ڈیفنس، نیٹ ورک سنٹرک وارفیئر، جدید سرویلنس پلیٹ فارمز اور درست نشانے والے ہتھیاروں نے یہ ظاہر کیا کہ پاک فضائیہ نے صرف ماضی کی کامیابی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے بنیاد بنا کر اپنی صلاحیتوں کو مزید وسعت دی ہے۔ ان دونوں آپریشنز میں ہمیں ڈاکٹرائن اور ٹیکنالوجی کا ارتقاء بھی نظر آتا ہے۔ سال 2019 سے سال 2025 تک کا عرصہ پاک فضائیہ کے لیے تکنیکی اور نظریاتی ارتقاء کا دور رہا۔ جدید لڑاکا طیاروں کی شمولیت، بغیر پائلٹ طیاروں کی بڑھتی ہوئی اہمیت، ایئر ڈیفنس سسٹمز کی اپ گریڈیشن اور پریسیژن گائیڈڈ امیونیشنز کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے بدلتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو ہم آہنگ کیا۔ فضائی دفاع اب صرف طیاروں تک محدود نہیں رہا۔ اس میں سائبر سکیورٹی، اسپیس بیسڈ سرویلنس، الیکٹرانک وارفیئر اور ڈیٹا انٹیگریشن بھی شامل ہو چکے ہیں۔ آپریشن بنیانٌ مرصوص میں ان تمام عناصر کا مربوط استعمال اس بات کی علامت تھا کہ پاک فضائیہ ایک ملٹی ڈومین آپریٹنگ فورس بن چکی ہے۔ پاک فضائیہ نے کسی بھی لمحے تیاری، تربیت اور ریڈی نیس کے اہم ترین عناصر کو نظر انداز نہیں کیا۔ کسی بھی فضائی آپریشن کی کامیابی صرف ہتھیاروں پر نہیں بلکہ انسانوں پر منحصر ہوتی ہے۔ پاک فضائیہ نے گزشتہ برسوں میں تربیتی نظام، فلائنگ آورز، سمیولیٹر بیسڈ ٹریننگ اور مشترکہ مشقوں کے ذریعے اپنی افرادی قوت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چیلنج کے وقت فورس ریڈی نیس ایک عملی حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ اور آپریشن بنیانٌ مرصوص دونوں اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ پاک فضائیہ کی تیاری محض کاغذی منصوبہ بندی نہیں بلکہ عملی مشقوں اور مربوط کمانڈ اسٹرکچر کا نتیجہ ہے۔اسٹریٹجک ڈیٹرنس کا بنیادی مقصد جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ جنگ کو روکنا ہوتا ہے۔ جب ایک ریاست اپنی دفاعی صلاحیتوں کا واضح اور مؤثر مظاہرہ کرتی ہے تو وہ دراصل تصادم کے امکانات کو کم کرتی ہے۔ آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ نے یہی کردار ادا کیا۔ اس آپریشن نے یہ باور کرایا کہ پاکستان کی فضائی سرحدیں ناقابلِ تسخیر ہیں اور کسی بھی مہم جوئی کی قیمت چکانا پڑے گی۔ آپریشن بنیانٌ مرصوص نے اس پیغام کو مزید مضبوط کیا کہ یہ صلاحیت وقتی نہیں بلکہ ارتقائی اور پائیدار ہے۔ پاکستان کی فضائی دفاعی پالیسی وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور مربوط ہو رہی ہے۔آج جب آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی ساتویں سالگرہ منائی جا رہی ہے تو یہ محض ایک یادگار دن نہیں بلکہ عزم کی تجدید کا لمحہ ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ قومی سلامتی کسی ایک واقعے کا نام نہیں بلکہ مسلسل تیاری، جدیدیت اور بصیرت افروز قیادت کا تقاضا کرتی ہے۔ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ سے آپریشن بنیانٌ مرصوص تک کا سفر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک فضائیہ ایک متحرک، جدید اور قابلِ اعتماد فضائی قوت ہے۔ اس نے نہ صرف ماضی کے چیلنجز کا کامیابی سے سامنا کیا بلکہ مستقبل کے خطرات کے لیے بھی خود کو تیار رکھا ہے۔جنوبی ایشیا کے پیچیدہ سکیورٹی ماحول میں پاکستان کی فضائی دفاعی حکمت عملی امن کے قیام، طاقت کے توازن اور قومی خودمختاری کے تحفظ کی ضامن ہے۔ سالگرہ کی یہ تقریب دراصل اس پیغام کی تجدید ہے کہ پاکستان کی فضاؤں کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔یہی عزم، یہی تیاری اور یہی ارتقائی سوچ پاک فضائیہ کو ایک جدید، ذمہ دار اور باوقار فضائی قوت کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔