ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی کپتان سلمان علی آغا، بابر اعظم سمیت ٹاپ آرڈر بیٹنگ لائن اَپ بُری طرح ناکام رہی، جس نے پاکستانی کشتی کو ایک بار پھر طوفان میں پھنسا دیا اور پاکستان کی سیمی فائنل میں رسائی مشکل ہو گئی۔
بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی بھی ایشیائی ٹیم ایشیاء میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل 4 میں شامل نہیں ہو گی، میزبان سری لنکا سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے۔
سلمان علی آغا اور مائیک ہیسن نے سلیکشن میں جو ہارڈ لائن اختیار کی اس کا خمیازہ پاکستان ٹیم کو بھگتنا پڑا رہا ہے، کپتان فرنٹ سے لیڈ نہ کر سکے اور اب پاکستان کا سیمی فائنل میں جگہ بنانا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
ماضی کے عظیم کھلاڑی وسیم اکرم نے شکوہ کیا کہ پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے مجھ سے پاکستانی کھلاڑی پوچھنے کی زحمت نہیں کرتے، اب کیا میں خود ڈریسنگ روم کے باہر جا کر کھڑا ہو جاؤں کہ مجھ سے مشورے لیے جائیں۔
انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین کا کہنا ہے کہ فخر زمان جیسا بیٹر ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں ٹیم سے ڈراپ نہیں ہوتا، مسٹری اسپنر ابرارا حمد دنیا کے صفِ اوّل کے بولر ہیں لیکن ابتدائی 3 میچوں کے بعد ٹورنامنٹ کے اگلے 3 میچوں میں انہیں ٹیم سے باہر بٹھا دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آدھا تیتر آدھا بیٹر والی پالیسی کے تحت بہت سارے آل راونڈرز کھلا کر اسپیشلسٹ بیٹسمینوں اور بولرز کو کھلانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق ناقص حکمتِ عملی کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کو بڑی ٹیموں کے خلاف مشکلات کا سامنا ہے، اوپنر صاحبزادہ فرحان نے ورلڈ کپ کے 6 میچوں میں 70.75 کی اوسط سے 283 رنز بنائے ہیں، انہوں نے ایک سنچری 2 نصف سنچریاں 28 چوکوں اور 13چھکوں کی مدد سے بنائے ہیں، وہ ابھی تک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں۔
بابر اعظم کو ایشیاء کپ کے بعد ٹی ٹوئینٹی ٹیم میں واپس لایا گیا، وہ 6 میچوں میں 22 کی اوسط سے صرف 91 رنز بنا سکے ہیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور 46 رنز امریکا کے خلاف ہے۔
اوپنر صایم ایوب 6 میچوں میں 14 کی اوسط سے صرف 70 رنز بنا سکے ہیں۔
سلمان علی آغا گراؤنڈ میں درست وقت پر غلط فیصلے کرتے دکھائی دیے ان کا بیٹ بھی خاموش رہا، انہوں نے 12 کی بیٹنگ اوسط سے صرف 60 رنز بنائے ہیں۔
وکٹ کیپر عثمان خان 13 کی اوسط سے صرف 52 رنز بن اسکے، انہیں محمد رضوان اور محمد حارث پر ترجیح دے کر ٹیم میں شامل کیا گیا۔
فہیم اشرف بولنگ آل راونڈر ہیں، انہوں نے 5 میچوں میں40 رنز بنائے ہیں تاہم نیدر لینڈز کے خلاف 29 ناٹ آؤٹ بنا کر فہیم اشرف نے پاکستان کو پہلی کامیابی دلوائی، بولنگ میں انہیں نمیبیا کے خلاف 2 اوورز ملے بقیہ میچوں میں فہیم کو بولنگ نہیں دی گئی۔
فخر زمان نے ایک اننگز میں 25 رنز بنائے، آل راؤنڈر شاداب خان نے 5 میچوں میں 103 رنز بنائے ہیں اور 5 وکٹیں لی ہیں جبکہ محمد نواز نے 9 رنز بنانے کے علاوہ 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے، اسپنر عثمان طارق نے 5 میچوں میں پاکستان کے لیے سب سے زیادہ 10 وکٹیں حاصل کی ہیں، شاہین آفریدی نے 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔