سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کپتان داسن شاناکا نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء سے باہر ہونے کے بعد اپنی حکومت سے ایک خصوصی اپیل کی ہے۔
داسن شناکا کا کہنا ہے کہ بطور کھلاڑی، ہمارے لیے باہر کے شور کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے، لہٰذا زیادہ تر ہم منفی باتیں ہی سنتے ہیں تو اس طرح کی صورتِ حال میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم بطور کھلاڑی کتنی مثبت سوچ رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے ارد گرد کے ماحول کو منفی بنایا جاتا ہے۔
اُنہوں نے کہا ہے کہ یہ منفی ماحول سری لنکا میں کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہے، ہمارے پاس صرف یہی ایک کھیل ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ اس طرح کے ماحول میں اسے بچایا جا سکتا ہے۔
سری لنکن کپتان نے کہا کہ اس طرح منفیت کیوں پھیلائی جا رہی ہے؟ ٹھیک ہے ہم ورلڈ کپ ہار گئے ہیں، ہم وجوہات جانتے ہیں، ہم سب کے خدشات ہیں۔
اُنہوں نے اپنی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں ہم کھیلیں گے اور چلے جائیں گے لیکن کم از کم نئے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے اگر حکومت اپنی مداخلت کر کے اس منفی ماحول پر قابو پا سکے تو مجھے یقین ہے کہ یہ کھلاڑیوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں بہت مددگار ثابت ہو گا۔
داسن شناکا نے کہا کہ ہمیں اس پر بہت افسوس ہے کہ ہم ایونٹ سے باہر ہو گئے ہیں، انگلینڈ سے میچ بھی ایک ایسا میچ تھا جسے اگر ہم زیادہ سمجھداری سے کھیلتے تو جیت سکتے تھے، یہ میچ یک طرفہ کھیل تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ مداحوں کو بتانے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے کیونکہ ہماری کوئی ایسی کامیابی نہیں ہے جس پر وہ خوش ہو سکیں۔
سری لنکن کپتان نے کہا کہ میں پوری ایمانداری سے یہ کہہ رہا ہوں کہ جو کچھ ہوا ہمیں اس پر بہت افسوس ہے، میدان میں کوئی بھی ناکام ہونے کے لیے نہیں جاتا بلکہ ہر کوئی ٹیم کے لیے اچھا کھیلنے اور جیتنے کے ارادے سے ہی جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمیں ہمیشہ اس طرح کے حالات نہیں مل پاتے جیسے ہم چاہتے ہیں، بعض اوقات ہم چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے بھی کھیل میں ہار جاتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کی فٹنس بھی معیاری نہیں ہے، اس ورلڈ کپ کے دوران 4 سے 5 انجریز ہوئیں اور ہمارے بہترین کھلاڑی باہر ہیں تو ہمارے فٹنس کے بھی کچھ مسائل ہیں۔
داسن شناکا نے کہا کہ ہم گزشتہ چند بڑے ایونٹس کا جائزہ لیں تو ان ایونٹس کے دوران سب سے زیادہ زخمی کھلاڑی رکھنے والے ممالک کی فہرست میں سری لنکا ہو گا، کبھی کبھی، مجھے لگتا ہے کہ فٹنس کے حساب سے دوسری ٹیمز ہم سے بہت آگے ہیں۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے خیال میں کسی ملک کے لیے کھیلتے وقت فٹنس کو پہلی ترجیح ہونا چاہیے کیونکہ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔