شہر صرف عمارتوں، سڑکوں اور پلوں سے نہیں، انسانوں سے پہچانے جاتے ہیں، مگر کیا کہیں کہ کراچی میں اب ایک ایسا طبقہ تیزی سے پھیل رہا ہے جو انسان ہوتے ہوئے بھی حکمرانوں کو نظر آتا ہے نہ این جی اوز کو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پلوں کے نیچے، فٹ پاتھوں پر، انڈر پاسز، ندی نالوں کے کنارے اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ کراچی کے وہ باسی ہیں جو ہیں تو پاکستانی مگر انہیں نہ مردم شماری میں ان کی پوری طرح گنتی ہے، نہ پالیسی سازوں کی فائلوں میں ان کا کوئی مستقل وجود ہےاور نہ ہی ان کے مستقبل کے بارے میں کسی سطح پر سوچ بچار ہو رہی ہے۔
دسمبر 1980ء میں اس وقت کے میئر عبدالستار افغانی اپنی مدت کے پہلے سال کی کارکردگی بتانے کے لیے بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میں اعلی حکام کو خبردار کر رہے تھے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کراچی پر خصوصی توجہ نہ دی تو یہ شہر خوف ناک تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا، جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی۔
ان کے مطابق اس وقت پندرہ ایکڑ پر پھیلی کچی آبادیوں میں دس لاکھ افراد آباد ہو چکے تھے اور ہر سال تین لاکھ نئے لوگ شہر میں داخل ہو رہے تھے، ان افراد کے لیے سب سے بڑا مسئلہ رہائش ہی کا تھا، تاہم زمین وافر مقدار میں ہونے کے باعث جس کا جہاں دل کرتا جھونپڑی لگاتا اور رہنا شروع کر دیتا۔
میئر افغانی کا کہنا تھا کہ اس بحران سے نکلنے کے لیے کم از کم پانچ ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی پیکیج کی ضرورت ہے۔پانچ ارب کا بندوبست تو نہ ہو سکا البتہ صدر جنرل ضیاء الحق پوری کابینہ کے ساتھ کراچی پہنچے اور سوک سینٹر میں ایک دن شہر کے مسائل سننے میں گزارا۔
شام کو ہاتھی کے منہ میں زیرہ کے مصداق، چودہ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا، بعد ازاں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے تیس ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام اور پھر نعمت اللہ خان کی تجویز پر جنرل پرویز مشرف کے دور میں انتیس ارب روپے کے منصوبے بھی سامنے آئے،مگر یہ سب اقدامات کراچی کو مستقل سہارا دینے کے بجائے وقتی سانس ہی دے سکے۔
کسی ماسٹر پلان پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد نہ ہونے کے باعث مسائل بڑھتے گئے، اور شہر ہر چند سال بعد پھر 80 کی دہائی میں لوٹ کر آتا رہا ،جہاں آبادی، وسائل اور منصوبہ بندی کے درمیان توازن ٹوٹ چکا تھا۔آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ کراچی نہ صرف کچی آبادیوں کا شہر بن چکا ہے بلکہ اس کی گلیوں، فٹ پاتھوں اور پلوں کے نیچے بسنے والے بے گھر افراد ایک خاموش المیہ بن گئے ہیں۔
یہ لوگ کہاں سے پانی لیتے ہیں، سیوریج کی سہولت کہاں استعمال کرتے ہیں، بیماری کی صورت میں کہاں جاتے ہیں، ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ کہیں پلاسٹک اور استعمال شدہ پنیفلیکس کی جھونپڑیاں ہیں، کہیں اینٹوں اور ٹین کی چادروں سے بنے عارضی کمرے، اور کہیں صرف ایک کمبل جو فٹ پاتھ پر بچھا ہوا ہے۔اب تو صورت حال یہ ہے کہ لیاری اور ملیر ندی کے اندر بھی جھونپڑیاں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔
حسن اسکوائر سے لیاقت آباد جاتے ہوئے پل کے نیچے لیاری ندی کے اندر سیکڑوں عارضی ڈیرے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ بستیاں ہیں جو کسی نقشے میں درج نہیں، مگر شہر کے جسم پر ناسور کی طرح اُبھر آئی ہیں۔ان بے گھر افراد کی درست تعداد کا کوئی حتمی اور متفقہ سرکاری ڈیٹا موجود نہیں۔ 2017ء کی مردم شماری میں تقریباً پانچ ہزار تین سو افراد کو بے گھر ظاہر کیا گیا، مگر جب مردم شماری ہی متنازع بن گئی تو اس عدد پر کیسے یقین کیا جائے؟
مختلف سول سوسائٹی، ادارے دس سے پندرہ ہزار بے گھر افراد کی بات کرتے ہیں، حالیہ میڈیا رپورٹس ساٹھ ہزار سے زائد بتاتی ہیں، جب کہ بعض غیر جانب دار سروے رپورٹ کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ 80 ہزار تک پہنچ چکی ہے اور ان کے مقامات ساڑھے چار ہزار سے بڑھ کر ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ ہو گئے ہیں۔
یہ صرف اعداد نہیں، شہر کے بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ پر شدید دباؤ کی کہانی ہے۔ ان میں سے اکثریت بیگاری ہے اور بیگاری کا یہ پھیلتا ہوا جال اچانک نہیں بنا۔ یہ برسوں کی غربت، دیہی علاقوں سے بے ہنگم ہجرت، بے روزگاری، مہنگائی، قدرتی آفات اور ریاستی بے حسی کا منطقی نتیجہ ہے۔ اندرونِ سندھ، بلوچستان یا جنوبی پنجاب اور کے پی کے، کے دیہات میں جب روزگار کے در بند ہو جاتے ہیں تو کراچی آخری اُمید بن کر سامنے آتا ہے،مگر یہاں آ کر یہ اُمید اکثر دھوکے میں بدل جاتی ہے۔
نہ مستقل نوکری ملتی ہے، نہ رہائش اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ جو ان لوگوں کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دے۔ یوں پلوں کے نیچے بسنا مجبوری بن جاتا ہے۔یہ منظر اب کراچی کی شناخت کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ شہر کے بڑے پلوں اور فلائی اوورز کے نیچے انسان نہیں، مسائل رہتے ہیں۔ یہ ڈیرے صرف افراد کے نہیں، ایک ناکام شہری نظم و نسق کے ہیں۔ کراچی کبھی روشنیوں کا شہر تھا، پل اس لیے بنائے گئے تھے کہ ٹریفک رواں دواں رہے اور شہر آگے بڑھے، روشنیاں گل ہو رہی ہیں اور شہر بوجھ تلے دب کر سست رفتار ہوتا جا رہا ہے۔
آج یہ پل اور فلائی اوورز سماجی المیے کی علامت ہیں۔ ان بیگاریوں اور بے گھروں میں مرد بھی ہیں، عورتیں بھی اور معصوم بچے بھی۔ بچے جن کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے تھی، ان کے ہاتھ میں کٹورا ہے۔ وہ سگنلز پر دوڑتے ہیں، گاڑیوں کے شیشوں پر دستک دیتے ہیں اور اپنی زندگی کی سب سے قیمتی عمر ذلت میں گزار دیتے ہیں۔ یہ بچے نہ صرف تعلیم سے محروم ہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی استحصال کا بھی شکار ہوتے ہیں۔
پلوں کے نیچے پلنے والی یہ نسل آنے والے کل کے لیے ایک خوف ناک سوالیہ نشان ہے۔ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ پیشہ ور بھیک مافیا کے شکنجے میں ہیں۔ یہ مافیا بچوں کو اغوا کرتا ہے، عورتوں کو مجبور کرتا ہے اور معذور افراد کو ہمدردی بٹورنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پلوں کے نیچے بننے والے ان کیمپوں میں ایک منظم کاروباری گروہ بھی آباد ہے، جو روزانہ لاکھوں روپے اکٹھے کرتاہے، مگر اس آمدنی کا فائدہ ان افراد کو نہیں، جو سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں، پردے کے پیچھے بیٹھے سرغناؤں کو ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ پولیس، سوشل ویلفیئر کے ادارے اور شہری انتظامیہ اس سب سے بے خبر کیسے رہ سکتی ہے؟پلوں، فلائی اوور کے نیچے یہ ڈیرے صرف سماجی مسئلہ ہی نہیں، شہری سلامتی کا مسئلہ بھی ہیں۔ یہاں منشیات کا استعمال عام ہے، جرائم کی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور کئی بار یہ مقامات واردات کے بعد چھپنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ رات کے وقت ان پلوں کے نیچے سے پیدل گزرنا عام شہری کے لیے خوف کی علامت بن چکا ہے، مگر اس خوف سے زیادہ خطرناک وہ بے حسی ہے جو ان مناظر کو معمول بنا چکی ہے، اور کچھ بھی نظر نہیں آتا۔
کراچی کو اس وقت وقتی پیکیجز کی نہیں، ایک جامع سماجی پالیسی کی ضرورت ہے، ایسی پالیسی جو غربت کے خاتمے، روزگار کی فراہمی، سستی رہائش اور تعلیم پر مبنی ہو۔ اگر دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، اگر شہروں میں آنے والوں کے لیے رجسٹریشن اور تربیتی مراکز قائم ہوں اور ان بیگاریوں، بے گھر افراد کو شہر میں پہلے سے قائم 8 سے زائد شیلٹر ہومزمیں رہنے پر پابند کر دیا جائے، جس کو روزگار ملے بس اسی کو باہر نکلنے کی اجازت ہو اور فٹ پاتھ پر قائم دستر خوان شیلٹر ہوم کے اندر منتقل کر دیئے جائیں اور وہیں بچوں کے لیے لازمی تعلیم پر سختی سے عمل ہو تو شاید پلوں کے نیچے بسنے والے یہ ڈیرے خود بخود ختم ہونا شروع ہو جائیں۔ اور شہر اس بڑھتی ہوئی سماجی بیماری سے بھی محفوظ ہوجائے۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ نظر نہ آنے والے نہیں، ہم ہی نے انہیں نظر انداز کر رکھا ہے۔ اور جو معاشرہ اپنے کمزور ترین شہری کو دیکھنے سے انکار کر دے، وہ آخرکار خود بھی اندھا ہو جاتا ہے۔