یکم مارچ کو کولاچی کراچی کے صفحے پر ایک مضمون بہ عنوان ’’کراچی کے محلوں کے نام‘‘ شائع ہوا، جس میں مضمون نگار نے محلوں کے ناموں کی تضحیک کرتے ہوئے قومیت کے حوالے سے کچھ قابل اعتراض باتیں لکھی تھیں، جو نادانستہ طور پر شائع ہوگئیں، جس سے بہت سے قارئین کی دل آزاری ہوئی، ہمیں اس پر انتہائی دکھ ہے، ہم تہہ دل سے معذرت خواہ ہیں۔
ہماری ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے قلم سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ اس مضمون کے جواب میں ہمیں ’’امین الحق، ممبر قومی اسمبلی ‘‘ کا جواب شکوہ بہ عنوان ’’شہر ناموں سے نہیں نیتوں سے بگڑتے ہیں‘‘ موصول ہوا ہے، جو نذر قارئین ہے۔
طنز کے پردے میں شائع ہونے والا مضمون محض ایک تحریر نہیں بلکہ ایک منظم فکری حملہ ہے شہر پر بھی اور شہریوں کی شناخت پر بھی، مضمون نگار نے محلّوں کے ناموں کو بہانہ بنا کر ایک پوری قوم کو ’’شہر پر قابض‘‘ ،’’بدذوق‘‘اور ’’جاہل‘‘ قرار دیا، جن محلّوں اور علاقوں کے ناموں کا ذکر مضمون نگار نے کیا اُن میں سے بیشتر نام کسی منظم شہری منصوبہ بندی یا تاریخی پس منظر کے بجائے وقتی غیر سنجیدہ اور غیر رسمی ذرائع سے رائج ہوئے جنہیں عموماً منی بسوں کے غیر مقامی کنڈیکٹرز اور عوامی ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد نے عام کیا۔
دراصل یہ محلوں کے نام نہیں بلکہ انہیں بس اسٹاپ کے نام سمجھا جائے تو زیادہ مناسب رہے گا، اس کے علاوہ وطنِ عزیز کے مختلف حصوں بالخصوص سندھ اور پنجاب میں موجود علاقوں کے اس طرح کے نام ہیں جو نہ مقامی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں اور نہ ہی ایک مہذب معاشرے کے شایانِ شان ہیں یہ نام ہماری غیر سنجیدگی اور بے حسی کا کھلا ثبوت ہیں، مگر اس حساس اور شرمناک مسئلے پر لب کشائی کی جرأت تک نہیں کی جاتی۔
اگر کراچی کے محلّوں کے نام کسی کو’’بدصورت‘‘ لگتے ہیں تو یہ سوال اٹھانے کی جرآت کیوں نہیں کی جاتی کہ یہ شہر بدصورت کیوں بنایا گیا؟ ۔ یہ کہنا کہ ’’ہندوستان سے آنے والوں نے کراچی کو بگاڑا‘‘ ۔ اگر یہ لوگ نہ آتے تو کیا یہ شہر تعبیر، تعمیر، تعلیم، صنعت، تجارت، صحافت اور بیوروکریسی کا مرکز بنتا؟ یا آج بھی ایک خاموش بندرگاہ ہوتا؟ اُس سچ سے نظریں چرا کر محلّوں علاقوں کے ناموں پر تنقید کرنا انتہائی نامناسب بات ہے۔
نازیبا اور توہین آمیز ناموں پر آنکھیں بند رکھنا دراصل قومی شناخت تہذیبی وقار اور معاشرتی شعور کے قتل کے مترادف ہے، دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں شہری مسائل کا حل ناموں کے مذاق میں نہیں وسائل کی منصفانہ تقسیم میں تلاش کیا جاتا ہے مگر یہاں دانستہ طور پر اصل سوالات سے توجہ ہٹا دی گئی کہ کراچی کو صاف پانی کیوں نہیں ملا؟ اِس کے بلدیاتی اختیارات کیوں سلب کیے گئے؟
اِس کے مینڈیٹ کو بار بار کیوں پامال کیا جاتا رہا؟ اِن سوالات پر بات کرنے کے بجائے گلی محلّوں کے نام اچھالنا دراصل ریاستی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ یہ کراچی کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھنے کی حکمتِ عملی ہے تاکہ اِس کے عوام اپنے حقوق کے بجائے اپنی شناخت کا دفاع کرتے رہیں اور افسوس کہ اس کھیل میں قلم بھی استعمال ہو رہا ہے۔
کراچی کسی ایک زبان ایک نسل یا ایک طبقے کا شہر نہیں مگر یہ شہر اُن لوگوں کی قربانیوں سے بنا ہے جن کا اس پاک سر زمین پر قدم رکھنا بار بار ’’غلطی‘‘ قرار دیا جاتا ہے جو اِس شہر کو کسی یک قوم کی لغزش ثابت کرنے پر تُلے ہیں وہ دراصل اپنے تعصب کو نظریہ اور اپنی نفرت کو صحافت کا نام دے رہے ہیں، اگر واقعی کراچی کو بہتر بنانا ہے تو محلّوں کی تختیاں بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، بدلنا ہوگا وہ ذہن جو اس شہر کو مسلسل مشکوک اُس کے عوام کو مستقل ملزم اور اِس کی شناخت کو قابلِ تمسخر و تسخیر سمجھتا ہے کیونکہ شہر ناموں سے نہیں بگڑتے شہر پالیسیوں بدنیتی پر مبنی فیصلوں اور اُن تعصبات سے بگڑتے ہیں جو اُنہیں بار بار نشانے پر رکھتے ہیں۔