رمضان المبارک کی عبادات اور روحانی ریاضت کے بعد جب شوال کا چاند طلوع ہوتا ہے تو گھروں میں خوشیوں کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ نئی پوشاکیں، عیدگاہوں کی رونق، مصافحے اور معانقے،سب اپنی جگہ، مگر عید اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک دسترخوان پر سویوں کا میٹھا موجود نہ ہو۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سویوں کی خوشبو کے بغیر عید کی صبح ادھوری رہ جاتی ہے۔
سویوں سے بنے میٹھے کی روایت صدیوں پر محیط ہے، جو نہ صرف ذائقے کا حصہ بلکہ اجتماعی یادداشت، خاندانی محبتوں اور تہذیبی تسلسل کی علامت بھی ہے۔ گھروں میں تیار ہونے والی سادہ دودھ والی سوئیاں ہوں یا قوامی بنارسی سوئیاں، ہر ایک کا تعلق کسی نہ کسی یاد، کسی خوشی اور کسی دعا سے جڑا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عید کے موقع پر سویوں کا تبادلہ عزیز و اقارب کے درمیان محبت اور خلوص کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔ ایک پیالہ سویوں کا میٹھا دراصل رشتوں کی مٹھاس کو تازہ کرنے کا ایک خاموش پیغام ہوتا ہے۔ سویوں کی تیاری ایک قدیم فن ہے، جو وقت کے ساتھ صنعتی شکل بھی اختیار کر چکا ہے۔ یہ گندم، میدہ، ساگودانہ، اور اراروٹ سے تیار کی جاتی ہیں۔
فیکٹریوں میں میدہ گوندھنے سے لے کر سانچوں میں ڈالنے، رنگ و خوشبو شامل کرنے، تیل میں تلنے، دھوپ میں سکھانے اور پھر بھٹی میں سنہری رنگ دینے تک ہر مرحلہ مہارت اور صبر کا متقاضی ہوتا ہے۔ دھوپ میں لٹکتی ہوئی سویوں کی قطاریں اور بھٹیوں سے اٹھتی خوشبو خود ایک تہذیبی منظرنامہ پیش کرتی ہیں۔
رمضان کے آخری عشرے میں جب فیکٹریاں دن رات چلتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا شہر عید کی مٹھاس کی تیاری میں مصروف ہو۔ عید کے دن سویوں کا استعمال صرف سادہ میٹھے تک محدود نہیں رہتا۔ شیر خرمہ، کھیر، دودھ میں پکی ہوئی سوئیاں اور قوامی سوئیاں ہر گھر میں ذائقے کی ایک الگ روایت موجود ہوتی ہے۔ یہی تنوع برصغیر کے کھانوں کی ثقافتی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی افراد بھی عید کے موقع پر سویوں کی تیاری کو خاص اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ یہ میٹھا ان کے لیے وطن، بچپن اور ماں کی گود کی یادوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں رہنے والے بہت سے خاندان آج بھی رمضان کے آخری دنوں میں خاص طور پر سوئیاں خریدتے یا تیار کرتے ہیں تاکہ عید کی صبح وہی مانوس خوشبو اور ذائقہ گھر میں بس سکے۔
ذاتی طور پر سویوں کا ذکر میرے لیے والدہ مرحومہ کی قوامی بنارسی سوئیوں کے بغیر نامکمل ہے۔ چینی کے شیریں قوام میں ڈوبی ہوئی سنہری سوئیاں، زعفران کی مہک، دودھ کی ملائمت اور پستہ بادام کی خوش رنگ آمیزش یہ سب مل کر ایک ایسا ذائقہ پیدا کرتے تھے جو محض ذائقہ نہیں بلکہ محبت، شفقت اور دعا کا احساس ہوتا تھا۔ عید کی صبح جب گھر کے صحن میں وہ میٹھی خوشبو پھیلتی تھی تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے خوشیاں خود ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہوں۔
آج بھی جب کہیں بنارسی سوئیاں دیکھتا ہوں یا ان کی خوشبو محسوس کرتا ہوں تو یادوں کی ایک پوری دنیا آنکھوں کے سامنے تازہ ہو جاتی ہے اور دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ ماں کے ہاتھ کے ذائقے کا کوئی نعم البدل نہیں۔ بچپن کی یادوں میں بیگم سوئیاں اور قوامی بنارسی سوئیاں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ کراچی اور دیگر شہروں میں بیگم سوئیاں ایک زمانے تک معیار اور ذائقے کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔
بعد ازاں درجنوں مقامی اور بین الاقوامی برانڈز مارکیٹ میں آ گئے، مگر اس دور کی سادگی، خلوص اور گھریلو ذائقہ آج بھی یادوں میں زندہ ہے۔ یہ سوئیاں صرف ایک صنعتی پیداوار نہیں تھیں بلکہ ایک تہذیبی یادگار تھیں، جو ہر عید پر گھروں میں خوشیوں کی مہک بکھیرتی تھیں۔ سویوں کی روایت محض ایک مٹھائی تک محدود نہیں، بلکہ یہ تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے۔ ہر نسل اسے اپنی یادوں، عادات اور روایات میں محفوظ رکھتی ہے۔
عید کے دن دسترخوان پر سویوں کی موجودگی محض ذائقے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ خاندانی محبتوں، مشترکہ یادوں اور تہوار کی روح کا اظہار ہے۔ یہ میٹھا گھر کے بزرگوں، بچوں اور نوجوانوں کو ایک ہی دسترخوان پر جمع کرتا اور عید کی خوشیوں کو اجتماعی رنگ دیتا ہے ۔ کسی مفلس گھر میں عید کی صبح جب چولہا ٹھنڈا رہ جائے اور بچہ حسرت سے کہے کہ ’’ہمارے گھر آج سوئیاں نہیں پکیں‘‘، تو یہ جملہ محض ایک اطلاع نہیں رہتا، ایک پورا سماجی مرثیہ بن جاتا ہے۔ یوں سوئیاں خوشحالی اور محرومی کے درمیان لکیر کھینچ دیتی ہیں۔
وقت بدل گیا، پکوان بدل گئے، مگر عید کی صبح جب کسی گھر میں دیگچی میں دودھ اُبلتا ہے اور باریک سوئیاں اس میں گھلتی ہیں، تو یوں لگتا ہے جیسے صدیوں کی روایت پھر سے زندہ ہو گئی ہو۔ عصر حاضر میں اگرچہ فاسٹ فوڈ، کیک اور جدید مٹھائیاں بھی مقبول ہو چکی ہیں، مگر سویوں کا مقام آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ سویوں کے ساتھ صرف ذائقہ نہیں بلکہ یادیں، دعائیں اور جذبات بھی وابستہ ہیں۔
یہ ایک ایسا میٹھا ہے جو وقت کے ساتھ جدید ضرور ہوا، مگر اپنی روایت اور روح کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔یقیناً سویوں کی یہ روایت آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتی رہے گی۔ ہر عید پر یہ میٹھا اپنے رنگ، خوشبو اور ذائقے کے ساتھ دسترخوانوں کو سجاتا اور بچپن کی یادیں تازہ کرتا رہے گا۔ والدہ مرحومہ کی قوامی بنارسی سوئیاں اس روایت کا سنہری باب ہیں، جو نہ صرف زبان بلکہ دلوں کو بھی میٹھا کر دیتی ہیں۔ اس طرح سوئیاں محض ایک پکوان نہیں بلکہ عید کی خوشیوں کا سنہری رنگ، خاندانی محبتوں کی علامت اور یادوں کی خوشبو ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود ماند نہیں پڑتیں۔