سچ تو یہ ہے کہ نظم و ضبط، منصوبہ بندی اور انصاف کی اجتماعی صورت قیامِ پاکستان کے بعد کراچی سے بتدریج ایسی غائب ہونا شروع ہوئی کہ آج صورتِ حال اس نہج پر پہنچ چکی کہ کبھی "ملکۂ مشرق" کہلانے والا یہ شہر ایک شکستہ پیکر کی مانند دستِ سوال دراز کیے کھڑا پکار رہا ہے، ہمیں نظم و ضبط چاہیے، ہمیں انصاف دو، مگر کوئی اس کی طرف مڑ کر دیکھنے کو بھی تیار نہیں۔
1980ء کی دہائی کا جائزہ لیں، جب طویل عرصے بعد کراچی کے شہری نمائندوں کو بلدیاتی نظام کے تحت اقتدار سنبھالنے کا موقع ملا تو اس وقت بھی شہر سسک رہا تھا۔ 1982ء میں جب عبدالستار افغانی کومیئر کا عہدہ سنبھالے دو برس ہونے کو تھے، وہ شہر کے مسائل کی تہہ تک پہنچ چکے تھے۔ انہیں بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ روایتی طریقوں سے یہ شہر نہیں سنبھل سکتا، اس کے لیے غیر معمولی اقدامات درکار ہیں۔
انہوں نے حکومتِ وقت سے پانچ ارب روپے کا مطالبہ کیا اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ کراچی تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے، اس پر خصوصی توجہ دی جائے یا بلدیہ کراچی کے 1954ء کے اختیارات بحال کیے جائیں تاکہ زوال کے آگے بند باندھا جا سکے۔ میئر کی اس پکار پر صدرِ مملکت جنرل ضیاء الحق اپنی کابینہ کے ہمراہ کراچی آئے، دن بھر بریفنگ لی اور شام کو ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں 14 کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا۔
مگر یہ رقم "ہاتھی کے منہ میں زیرہ" ثابت ہوئی، چند سو گیلن پانی کا اضافہ اور کچھ سیوریج کی بہتری۔ اسی دور کے ایک سروے کے مطابق کراچی کی تقریباً 70 لاکھ آبادی میں سے 13 لاکھ افراد کچی آبادیوں میں رہائش پذیر تھے۔ یہ محض ایک عددی حقیقت نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی المیہ تھا۔
ایک طرف جدید شہری زندگی کے دعوے، دوسری طرف لاکھوں انسان بنیادی سہولتوں، پانی، بجلی، نکاسیٔ آب، صحت، حتیٰ کہ بعض جگہ کچن اور باتھ روم، سے محرومی۔ یہ سوال آج بھی ہے کہ ان لوگوں کو وہاں رہنے پر کس نے مجبور کیا اور کس نے اجازت دی؟ مارشل لا حکومت کی پالیسی بظاہر ہمدردی پر مبنی تھی کہ کچی آبادیوں کو بھی شہری سہولتیں فراہم کی جائیں، مگر اس کے پیچھے نہ کوئی جامع حکمتِ عملی تھی اور نہ ہی شہری منصوبہ بندی۔
نئی بستیاں بسانے یا وسائل پیدا کرنے کے بجائے پہلے سے محدود وسائل کو ہی تقسیم کیا گیا، یہی وہ موڑ تھا جہاں تناؤ نے جنم لیا۔وہ شہری جو باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے تھے، ان کے لیے یہ ناقابلِ قبول تھا کہ پہلے سے ناکافی سہولتوں میں مزید کمی کر کے ان لوگوں کو دیا جائے جنہوں نے نہ زمین کی قیمت ادا کی، نہ ٹیکس دئیے اور نہ ہی یوٹیلیٹی چارجز کی ادائیگی میں دلچسپی لی۔
یہ ردعمل فطری تھا، مگر اس کے پیچھے ریاستی ناکامی کی ایک تلخ حقیقت بھی پوشیدہ تھی، عوام ایک دوسرے کے مقابل آ گئے، جب کہ اصل ذمہ دار نظام کو بدلنے میں ناکام رہے۔ میئر عبدالستار افغانی اس تمام منظرنامے میں ایک ایسے کردار کے طور پر سامنے آئے جو نیک نیتی کے باوجود محدود وسائل اور مارشل لا پالیسیوں کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔
انہوں نے بلدیہ کی آمدنی صرف دو سال میں دگنی کر دی، ایک ارب روپے جمع کیے، مگر یہ سب بڑھتے ہوئے مسائل کے آگے ناکافی ثابت ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک میئر، بغیر اختیارات اور وسائل کے، ایک بے قابو شہر کو سنبھال سکتا تھا؟حقیقت یہ ہے کہ انہیں ایک ایسے نظام میں کام کرنا پڑا جہاں فیصلے مقامی ضروریات کے بجائے وقتی سیاسی مصلحتوں کے تحت کیے جاتے تھے۔
کچی آبادیوں کو سہولتیں دینے کا فیصلہ بھی اسی نوعیت کا تھا، بغیر کسی ماسٹر پلان اور طویل المدتی وژن کے۔اگر اس وقت ان آبادیوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ترقی دی جاتی، فلیٹ سسٹم متعارف کراکے لوگوں کو کچے گھروں سے نکال کر فلیٹوں میں آباد اور زمین کا مؤثر استعمال کیا جاتا تو نہ صرف وسائل میں اضافہ ممکن تھا بلکہ شہری دباؤ کو بھی منظم کیا جا سکتا تھا۔ لی مارکیٹ کوارٹر کی صورت میں ایک کامیاب ماڈل موجود تھا، مگر اسے اپنانے کے بجائے کچی آبادیوں کو جوں کےتوں مالکانہ حقوق دے کر جدید شہری ترقی کے اُصول نظر انداز کر دیے گئے۔
ماہرین کے مطابق جب وسائل محدود ہوں اور آبادی بڑھتی جائے تو مقابلہ ناگزیر ہو جاتا ہے، اگر ریاست اس مقابلے کو منصفانہ طور پر منظم نہ کرے تو وہ تصادم میں بدل جاتا ہے۔ میئر افغانی بارہا مطالبہ کر رہے تھے کہ موٹرویکل اور جائیداد ٹیکس بلدیہ کے حوالے کیے جائیں جو قانونی اور اخلاقی طور پر اس کا حق تھا،مگر صوبائی سطح پر یہ اختیار دینے سے گریز کیا گیا، اور یوں ایک بار پھر مقامی حکومت بے اختیار ثابت ہوئی۔
اسی دوران، شہر کے بہتر منصوبہ بندی والے علاقے بھی مسائل کی زد میں آ گئے۔ فیڈرل بی ایریا، جو کبھی ایک مثالی رہائشی علاقہ سمجھا جاتا تھا، گٹر لائنوں کی بندش اور سڑکوں کی خستہ حالی کا شکار ہو گیا۔ بجلی کا "کنڈا سسٹم"، جو اس وقت بھی موجود تھا، آج بھی کراچی کی تلخ حقیقت ہے، یہ صرف چوری نہیں بلکہ ریاستی کمزوری کی علامت ہے۔
ترقیاتی کاموں میں جانبداری نے بھی مسائل کو بڑھایا۔ بااثر علاقوں میں کام تیزی سے مکمل ہوتے، جب کہ کمزور طبقات نظر انداز رہتے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ناانصافی کو جنم دیتا بلکہ شہری اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کراچی کے مسائل کی جڑیں اسی دور میں مضبوط ہوئیں، جب ایک شہر کو بغیر منصوبہ بندی کے بڑھنے دیا گیا۔ آج کا کراچی اسی ماضی کا تسلسل ہے، فرق صرف یہ ہے کہ مسائل اب کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہرے ہو چکے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ کراچی کو وقتی اقدامات سے نہیں سنبھالا جا سکتا۔ اس کے لیے ایک جامع، طویل المدتی اور غیر سیاسی حکمتِ عملی درکار ہے، ایسا ماسٹر پلان جو صرف کاغذوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی شکل اختیار کرے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو، اور شہریوں کو ان کا حق ملے، چاہے وہ کچی آبادی میں رہتے ہوں یا پوش علاقوں میں۔
وقتی حل تو نکالنے کے لیے ماضی میں بھی کوشیش کی گئی، ضیاء الحق کا 14 کروڑ کا پیکیج ہو یابے نظیر کا 31 ارب روہے کا، پروز مشرف کا 29 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج ہو یا بلاول بھٹو کا اربوں روپے کا پیکیج، یا مرتضی وہاب کے 70 ارب روپے، سب وقتی سہارا ہے، کہ نیم مردہ کرنے نہ پائے، ورنہ اب اس شہر میں، بین الاقوامی شہر والی کوئی صفت رہی نہیں۔
جب تک بلدیہ کراچی کو جدید لوکل گورنمنٹ کے تصور کے تحت اختیارات و وسائل مہیا نہیں ہوتے یہ شہر دوبارہ ترقی کی پٹری پر نہیں چڑھ سکتا، اگر حکمران ایسا نہیں چاہتے تو کم از کم 14 اگست 1947ء کو جو اختیارات حکیم محمد احسن کے پاس تھے وہ کراچی کے میئر کودے دئیے جائیں۔
جب تک اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جائیں گے، مسائل کا حل ممکن نہیں۔ یہی مطالبہ عبدالستار افغانی سے وسیم اختر تک جو بھی منتخب نمائندہ یہاں رہا اس کا ایسا ہی مطالبہ رہا، رہا سوال مرتضی وہاب کا، وہ تو ایسا مطالبہ کر ہی نہیں سکتے، میئر سے زیادہ چئیرمین کے ترجمان میں چارم ہے۔ لیکن اندازہ ان کو بھی ہو چکا ہو گا کہ ایک میئر، بغیر مکمل اختیار کے، محض علامتی کردار ہی ادا کر سکتا ہے۔ کراچی کو بچانے کے لیے ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ غیر منصوبہ بندی، ناانصافی اور کمزور حکمرانی نے اس شہر کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو آنے والا وقت مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کراچی اب صرف ایک شہر نہیں رہا، یہ ہماری اجتماعی ترجیحات، ہماری ناکام منصوبہ بندی، اور ہمارے غیر متوازن نظامِ حکمرانی کا آئینہ بن چکا ہے۔
یہاں ٹوٹی سڑکیں صرف انفراسٹرکچر کی خرابی نہیں بلکہ پالیسیوں کی شکست کی علامت ہیں آور کچی آبادیاں صرف غربت کی کہانی نہیں بلکہ ریاستی غفلت کا ثبوت ہیں۔ اگر اب بھی اس شہر کو سنبھالنے کے لیے سنجیدہ، منصفانہ اور طویل المدتی فیصلے نہ کیے گئے، تو کراچی صرف مسائل کا شہر نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسا بوجھ بن جائے گا جسے نہ ہم اٹھا سکیں گے اور نہ ہی آنے والی نسلیں معاف کریں گی۔