• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فوزیہ وہاب فلائی اوور
فوزیہ وہاب فلائی اوور

کراچی محض پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں بلکہ تاریخ، تہذیب اور یادوں کا ایک وسیع دفتر بھی ہے۔ تقریباً ۳۷۸۰ مربع کلومیٹر پر پھیلے اس شہر میں ہزاروں چھوٹی بڑی سڑکیں، شاہراہیں، فلائی اوور اور انڈر پاس موجود ہیں جن کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ ان سڑکوں کے نام صرف جغرافیہ کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ شہر کی سماجی، ثقافتی اور تاریخی شناخت کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔

خوش آئند امر یہ ہے کہ اس شہر میں کئی سڑکیں ایسی خواتین کے نام سے بھی منسوب ہیں جنہوں نے اپنے کردار، جرأت اور خدمات سے معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔کراچی میں خواتین کے نام پر سڑکوں کی روایت صرف جدید دور تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں شہر کی قدیم تاریخ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ تقریبا دو صدیاں قبل بحیرہ عرب کے ساحل پر آباد لوگوں کا بنیادی ذریعۂ معاش ماہی گیری تھا۔ اسی ساحلی علاقے میں مچھیروں کی ایک بستی آباد تھی جسے مائی کولاچی کے نام سے جانا جاتا تھا۔

روایت ہے کہ مائی کولاچی نہایت بہادر اور عقل مند خاتون تھیں۔ ایک مرتبہ ان کے شوہر اور بستی کے مچھیرے سمندر میں طوفان کے دوران پھنس گئے۔ مائی کولاچی نے ہمت و تدبر کا مظاہرہ کیا، خود سمندر میں جا کر خطرناک لہروں کے بیچ ان کی جان بچائی اور بستی میں اپنی بہادری کے باعث مشہور ہو گئیں۔اسی وجہ سے اس بستی کو مائی کولاچی کی بستی کہا جانے لگا، جو وقت کے ساتھ ترقی کرتے کرتے موجودہ کراچی بن گئی۔

مائی کولاچی کی بہادری اور قیادت آج بھی سندھ کی تاریخ میں ایک روشن مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ اسی طرح گل بائی فلائی اوور اور گل بائی چوک بھی شہر کی تاریخ سے جڑی ایک یادگار ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ نام دراصل برطانوی دور کی معروف پارسی سماجی شخصیت جمشید نوسروانجی رستم جی مہتا کی والدہ گل بائی کے نام پر رکھا گیا۔

جمشید نوسروانجی مہتا 1922 میں کراچی بلدیہ کے صدر منتخب ہوئے تھے اور اپنی خدمات کے باعث انہیں ’’بابائے کراچی‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی والدہ کے نام سے منسوب یہ مقام شہر کی سماجی ہم آہنگی اور قدردانی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ادبی اور ثقافتی میدان میں بھی خواتین کی خدمات کو کراچی کی شاہراہوں کے ناموں میں محفوظ کیا گیا ہے۔ کراچی کے ضلع وسطی کی ایک اہم اور مصروف شاہراہ نور جہاں کو تاریخ کی ایک غیر معمولی شخصیت کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

یہ شاہراہ مغل دور کی عظیم اور بااثر ملکہ نور جہاں کی یاد کو زندہ رکھتی ہے، جنہوں نے سترہویں صدی میں برصغیر کی وسیع و عریض مغل سلطنت کی سیاست اور حکمرانی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ملکہ نور جہاں کا اصل نام مہرالنسا تھا۔ وہ غیر معمولی ذہانت، سیاسی بصیرت اور انتظامی صلاحیتوں کی مالک تھیں۔

جب ان کی شادی مغل بادشاہ جہانگیر سے ہوئی تو بادشاہ نے ان کی شخصیت اور اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے انہیں “نور جہاں” یعنی دنیا کی روشنی کا خطاب عطا کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ صرف ایک ملکہ ہی نہیں بلکہ دربار اور سلطنت کے اہم فیصلوں میں فعال کردار ادا کرنے لگیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ نور جہاں نے نہ صرف درباری سیاست بلکہ انتظامی امور، فنونِ لطیفہ اور سماجی معاملات میں بھی گہرا اثر چھوڑا۔ ان کے دور میں سکے ان کے نام سے ڈھالے گئے اور کئی سرکاری فرمان ان کی منظوری سے جاری ہوئے، جو ان کے غیر معمولی اثر و رسوخ کی واضح علامت ہیں۔ نور جہاں نے جس وسیع خطے کی سیاست اور اقتدار پر اثر ڈالا وہ اپنی نوعیت میں کہیں زیادہ متنوع اور وسیع تھا۔

اسی تاریخی عظمت اور کردار کے اعتراف میں کراچی کی اس اہم شاہراہ کو ان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، جو آج بھی شہریوں کو برصغیر کی اس باوقار اور بااثر خاتون کی یاد دلاتی ہے۔ کراچی کے ضلع ساؤتھ کی ایک اہم اور مصروف شاہراہ کو سولہویں صدی کی عظیم اور دلیر خاتون چاند بی بی کے نام سے منسوب ہے۔ تاریخ میں چاند بی بی کو ایک زیرک، مدبر اور نہایت بہادر حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے والد حسین نظام شاہ اول سلطنت احمد نگر کے حکمران تھے۔

کم عمری ہی سے انہیں علم، سیاست اور فنونِ حرب سے آگاہی حاصل ہوئی۔ محض چودہ برس کی عمر میں ان کی شادی علی عادل شاہ اول سے ہوئی جو ریاست بیجا پور کے فرمانروا تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ چاند بی بی نے غیر معمولی سیاسی بصیرت اور قیادت کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے بیجا پور اور احمد نگر دونوں ریاستوں کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً 1595ء میں جب مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کی افواج نے احمد نگر کا محاصرہ کیا تو چاند بی بی نے غیر معمولی جرأت اور حکمتِ عملی کے ساتھ شہر کا دفاع کیا۔

ان کی بہادری، عزم اور قیادت نے انہیں برصغیر کی تاریخ میں ایک منفرد اور قابلِ فخر مقام عطا کیا۔چاند بی بی صرف ایک جنگجو اور حکمران ہی نہیں بلکہ وہ علم و حکمت کی قدردان سمجھی جاتی تھیں۔1600ء میں ان کا انتقال ہوگیا، لیکن ان کی جرأت، بصیرت اور قیادت کی داستانیں آج بھی تاریخ کے صفحات میں روشن ہیں۔ برصغیر کی اس عظیم خاتون کا نام آج بھی بہادری، تدبر اور عزم کی علامت کے طور پر زندہ ہے۔

ضلع جنوبی میں واقع ایم اے جناح روڈ سے جوبلی، رامسوامی اور رنچھوڑ لائن کے راستے نشتر روڈ تک جانے والی سڑک جمیلہ اسٹریٹ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ جمیلہ کا تعلق اس الجیریا سے تھا جو طویل عرصے تک فرانس کے قبضے میں رہا۔ طالب علمی کے زمانے ہی میں وہ آزادی کی تحریک الجیرین نیشنل لبریشن فرنٹ سے وابستہ ہو گئیں۔ 1957ء میں انہیں بغاوت کے الزام میں گرفتار کر کے جھوٹے مقدمے میں سزا دی گئی اور سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

آزادی کے بعد وہ الجیرین ویمن ایسوسی ایشن کی سربراہ بھی بنیں۔اس سڑک کا پرانا نام بارنس روڈ تھا، جو ایک برطانوی فوجی افسر کی اہلیہ مسز بارنس سے منسوب تھا۔ روایت ہے کہ 14 فروری 1843ء کو دریائے سندھ کے کنارے اترنے والے برطانوی فوجیوں اور مقامی سندھی نوجوانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس میں ایک سندھی جوان بخشو چانڈیو نے مسز بارنس کو قتل کر دیا۔

بعد میں برطانوی قبضے کے بعد انہیں گرفتار تو کیا گیا مگر اس بنیاد پر سزا نہ دی جا سکی کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب سندھ پر برطانوی اقتدار قائم نہیں ہوا تھا۔یوں تاریخ کے مختلف ادوار کی یادگار یہ سڑک آج بارنس روڈ سے بدل کر جمیلہ اسٹریٹ کے نام سے جانی جاتی ہے، جو نوآبادیاتی دور سے آزادی کی جدوجہد تک کی ایک معنی خیز داستان سناتی ہے۔

فاطمہ جناح روڈ کراچی کی ایک اہم اور تاریخی شاہراہ ہے، جو بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کی چھوٹی بہن، مادرِ ملت اور شمعِ جمہوریت فاطمہ جناح کے نام سے موسوم ہے۔ یہ سڑک شہر کے مرکزی حصے میں واقع ہے اور اپنی تاریخی و سیاسی اہمیت کے باعث خاص مقام رکھتی ہے اسی شاہراہ پر 1868 میں تعمیر ہونے والی بانیٔ پاکستان کی تاریخی رہائش گاہ واقع ہے، جسے قائداعظم میوزیم کے نام سے جانا جاتا ہے اور عام طور پر فلیگ اسٹاف ہاؤس بھی کہا جاتا ہے۔

ابتدا میں یہ عمارت برطانوی دور میں فوجی افسران کے زیرِ استعمال تھی، بعد ازاں محمد علی جناح نے اسے 1943 میں کراچی کے اُس وقت کے میئر، سہراب کیٹرک سے ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے میں خریدا۔ اس سے قبل یہ مکان 1922 میں کاؤس جی نے رام چند ہنس لال سے خریدا تھا۔ 1948 میں قائداعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن فاطمہ جناح اسی گھر میں منتقل ہو گئیں اور تقریباً اٹھارہ برس تک یہیں مقیم رہیں۔ یہی وہ تاریخی مقام ہے جہاں سے انہوں نے اپنے سیاسی سفر اور صدارتی انتخاب کی مہم بھی چلائی تھی۔

کراچی کے اہم کاروباری مرکز میں واقع صدر کی ایک مصروف اور خوبصورت شاہراہ زیب النسا اسٹریٹ ہے۔ اس سڑک کا نام ممتاز صحافی، ادیبہ اور دانشور زیب النسا حمیداللہ کے نام پر رکھا گیا ہے، جو پاکستان میں انگریزی صحافت کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔

زیب النسا حمیداللہ نہ صرف ایک باصلاحیت صحافی بلکہ خواتین کے حقوق اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے بھی ایک مضبوط آواز بن کر سامنے آئیں۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں خواتین کی نمائندگی اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

کراچی کی جدید تاریخ میں بھی کئی ایسی خواتین گزری ہیں جنہوں نے اپنی خدمات، جرأت اور قربانیوں سے اس شہر کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور معاشرے کو ایک نئی سوچ دی۔ انہی روشن کرداروں میں دو نمایاں نام پروین رحمٰن اور سبین محمود کے ہیں۔سماجی کارکن پروین رحمٰن نے کراچی کے پسماندہ علاقوں، بالخصوص اورنگی ٹاؤن میں رہنے والے محروم طبقات کے مسائل کے حل اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔

انہوں نے غریب بستیوں میں پانی، نکاسیٔ آب اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی جدوجہد کی اور کمزور طبقات کی آواز بنیں۔ 2013 میں انہیں نامعلوم افراد نے بے دردی سے قتل کر دیا، مگر ان کی جدوجہد اور نظریہ آج بھی شہری حقوق کی تحریکوں میں زندہ ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں باغِ ابنِ قاسم کے قریب واقع ایک سڑک کو پروین رحمٰن روڈ کا نام دیا گیا، جو ان کی یاد اور جدوجہد کی دائمی علامت ہے۔

اسی طرح سماجی و ثقافتی سرگرمیوں میں فعال، جرأت مند اور روشن خیال دانشور سبین محمود نے مکالمے، برداشت اور فکری آزادی کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ 2015 میں انہیں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں 2016 میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نوٹیفیکیشن کے تحت کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے قریب واقع سڑک کو سبین محمود روڈ کا نام دیا گیا۔

سندھ کی حکمران جماعت سے وابستہ چند معروف خواتین کے ناموں پر بھی شہر کی اہم شاہراہوں پر تعمیر ہونے والے منصوبوں کو منسوب کیا گیا ہے۔ ان میں مادرِ جمہوریت نصرت بھٹو انڈر پاس، فوزیہ وہاب فلائی اوور اور ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی اہلیہ کے نام پر شیریں امیر بیگم بھٹو فلائی اوور شامل ہیں، جو شہر کی ترقی اور سیاسی تاریخ دونوں کی جھلک پیش کرتے ہیں۔سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے دورِ حکومت میں محکمہ بلدیات سندھ نے آئی آئی چندریگر روڈ پر شاہین کمپلیکس فلائی اوور کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

اس منصوبے کا سنگِ بنیاد اُس وقت کے وزیرِ بلدیات اویس مظفر ٹپی نے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران رکھا اور اس فلائی اوور کو پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید قائد بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم تاحال اس منصوبے پر کام شروع نہ ہو سکا۔ اسی طرح کینٹ اسٹیشن سے صدر اور صدر سے کینٹ اسٹیشن جانے والی ڈاکٹر داؤد پوتہ روڈ کو سگنل فری بنانے کے لیے شاہراہ فیصل پر ایک انڈر پاس تعمیر کیا گیا، جسے مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کے نام سے منسوب کیا گیا۔

شاہراہ فیصل ہی پر ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے ٹیپو سلطان فلائی اوور تعمیر کیا گیا، اس منصوبے کو پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی فوزیہ وہاب کے نام سے منسوب کیا گیا۔ فوزیہ وہاب کے صاحبزادے مرتضیٰ وہاب صدیقی میئر کراچی ہیں۔ کراچی کے علاقے شمالی ناظم آباد کی ایک سڑک ممتاز شاعرہ پروین شاکر کے نام سے منسوب ہے۔ پروین شاکر اردو ادب کی وہ درخشاں آواز تھیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نسائی احساسات کو ایک نئی جہت عطا کی۔

یہ روشن چراغ 26 دسمبر 1994کو ایک المناک ٹریفک حادثے میں گل ہوگیا۔ یہ حادثہ اسلام آباد کے علاقے سیکٹر F-7، اسلام آباد میں پیش آیا۔ بعد ازاں اسی مقام پر واقع سڑک کو پروین شاکر روڈ کا نام دے دیا گیا۔