شاعر مشرق علامہ اقبال کے ہاں رمضان کا اہتمام کیسے ہوتا تھا؟ اس کا کچھ احوال ان کے بیٹے، جسٹس (ر) جاوید اقبال کی خودنوشت اپنا گریباں چاک میں ملتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ماہ رمضان میں گھر میں والدہ اور دیگر خواتین باقاعدہ روزے رکھتیں اور قرآن شریف کی تلاوت کرتیں۔
گھر کے ملازم بھی روزے رکھتے تھے۔جب عید کا چاند دکھائی دیتا ، تو گھر میں بڑی چہل پہل ہوجاتی۔ میں عموماً والد کو عید کا چاند دکھایا کرتا تھا۔ گو مجھے نہانے سے سخت نفرت تھی، لیکن اس شب گرم پانی سے والدہ نہلاتیں اور میں بڑے شوق سے نہاتا۔ نئے کپڑے یا جوتوں کا جوڑا سرہانے رکھ کر سوتا۔
صبح اٹھ کر نئے کپڑے پہنے جاتے، عیدی ملتی، کمخواب کی ایک اچکن، جس کے نقرئی بٹن تھے، مجھے والدہ پہنایا کرتیں۔ عید کی صبح علامہ اقبال کی سرگرمیوں کی انہوں نے یوں منظر کشی کی کہ والد کے ساتھ موٹر میں بیٹھ کر نماز پڑھنے جایا کرتا تھا۔ ان کی انگلی پکڑے شاہی مسجد میں داخل ہوتا اور ان کے ساتھ عید کی نماز ادا کرتا۔
نماز سے فارغ ہوکر میرے والد بہ مطابق معمول بارودخانہ میں میاں نظام الدین کی حویلی میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزارتے۔ گھر واپس آکر والد کی عادت تھی کہ وہ عید کے روز سویوں پر دہی ڈال کر کھایا کرتے تھے۔ سارا دن ان سے ملنے والوں کا تانتا بندھا رہتا۔