کراچی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قیامِ پاکستان سے قبل ہی یہاں چائے نوشی بھی عام تھی اور 24گھنٹے جاگنے کا کلچر بھی۔ بندرگاہ پر کام کرنے والے مزدور راتوں کو شفٹ ڈیوٹی کے باعث جاگتے رہتے تو انہیں کھانے پینے کے لیے ہوٹلوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ چنانچہ پورٹ کے اطراف چھوٹے چھوٹے چھونپڑا ہوٹل رات بھر کھلے رہتے، جہاں گاہکوں کا ہجوم لگا رہتا، یہی کلچر آہستہ آہستہ سارے شہر میں پھیل گیا۔ یوں کراچی ایک ایسا شہر بن گیا جو چوبیس گھنٹے جاگتا رہتا۔
جاگنے والوں کے لیے تفریح اور ملاقات کی بہترین جگہ چائے کے ہوٹل ہی تھے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس شہر کی فضا میں ہمیشہ سے مختلف تہذیبوں اور ذائقوں کی آمیزش رہی ہے۔ مگر چائے کی تہذیب کو دوام دراصل تین مختلف ادوار کے گروہوں نے بخشا۔
ملباری، ایرانی اور آج کے دور میں کوئٹہ وال پٹھان۔ انہی کے باعث کراچی کی گلیوں، بازاروں اور چوراہوں پر ہر دور میں چائے خانے آباد اور چائے کا کاروبار ہمیشہ عروج پر رہا۔ ایک زمانہ تھا جب شہر کے سماجی اور معاشرتی منظرنامے میں ملباری اور ایرانی ہوٹلوں کی اپنی ایک الگ پہچان تھی۔
ان ہوٹلوں کی رونق صرف چائے یا کھانے تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ شہر کی فکری، سماجی اور سیاسی زندگی کے مراکز بھی تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ شہر کا مزاج بدلا، لوگوں کی عادات بدلیں تو کاروبار کے انداز بھی تبدیل ہوگئے۔ یوں یہ روایت آہستہ آہستہ کوئٹہ وال پٹھانوں کے ہاتھوں میں منتقل ہو گئی، جنہوں نے آج کراچی کے چائے خانوں کی دنیا کو اپنے مخصوص انداز میں زندہ رکھا ہوا ہے۔
شہر کی کوئی گلی، محلہ یا چوک چورہا ایسا نہیں جہاں کوئٹہ چائے کا ہوٹل نہ ہو۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مقدار محدود ہی سہی مگر سارے شہر کو اس چائے کا نشہ سا ہو گیا، ایسا لگتا ہے کہ جس دن کوئٹہ وال کی چائے نہیں پی گویا کوئی کام ادھورا رہ گیا۔
ستر کی دہائی تک، شاید ہی کراچی کا کوئی رہائشی یا کاروباری علاقہ ایسا ہوگا جہاں کسی ملباری کا ہوٹل نہ ہو۔ ان کے ہوٹل سادہ ضرور ہوتے تھے مگر ان میں ایک اپنائیت اور بے تکلفی کی فضا ہوتی تھی۔ نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں، خصوصاً پرانے کراچی اور صدر کے اطراف میں ایرانی ہوٹل زیادہ نظر آتے تھے۔ یہ ہوٹل ملباری ہوٹلوں کے مقابلے میں قدرے مہنگے ضرور تھے ۔ان کی ایک نمایاں خصوصیت ان کے چھوٹے چھوٹے کیبن تھے۔
لکڑی کے پارٹیشن سے بنے ہوئے یہ کیبن گاہکوں کو ایک طرح کی نجی فضا فراہم کرتے تھے۔ لوگ یہاں بیٹھ کر گھنٹوں گپ شپ کرتے، دوستوں کے ساتھ ملاقاتیں ہوتیں اور بعض اوقات یہ کیبن ایک محفوظ گوشہ بن جاتے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ ہوٹل صبح سے لے کر رات گئے تک آباد رہتے۔ ان ایرانی ہوٹلوں کی دیواروں پر ایک دلچسپ جملہ اکثر لکھا نظر آتا تھا۔’’یہاں سیاسی گفتگو منع ہے‘‘۔
مگر حقیقت یہ تھی کہ اس پابندی کے باوجود انہی ہوٹلوں میں شہر کی سب سے زیادہ سیاسی گفتگو ہوتی تھی۔ طالب علم رہنما، صحافی، مزدور یونینوں کے کارکن، ادیب، شاعر اور دانشور یہاں گھنٹوں بیٹھ کر ملکی اور عالمی سیاست پر بحث کرتے اور علم و ادب کی موشگافیوں کا پردہ چاک کرتے۔
بعض اوقات بحث اس قدر گرم اور طویل ہو جاتی کہ چائے کے کئی دور چل جاتے مگر گفتگو ختم نہ ہوتی۔ ملباری اور ایرانی ہوٹلوں کی چائے کا ذائقہ بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا اور گاہک بھی مختلف ہوتے تھے۔
ملباری چائے میں دودھ اور چینی کی خاص مقدار اور اُبال کا ایک مخصوص انداز ہوتا تھا، جس سے چائے گاڑھی اور خوشبودار بن جاتی تھی۔ دوسری طرف ایرانی ہوٹلوں میں چائے نسبتاً ہلکی مگر خوش ذائقہ ہوتی تھی، جس کے ساتھ مسکہ بن یا بیکری کی اشیا پیش کی جاتیں۔
ان ہوٹلوں نے کراچی کے لوگوں کو صرف چائے ہی نہیں پلائی بلکہ کئی نئے کھانے بھی متعارف کروائے۔ ان میں انڈا گھٹالا، چلو کباب سیستانی، ماہی کباب، مٹن پیٹس اور سبزی کے سموسے خاص طور پر مقبول تھے۔
یہ کھانے بعد میں کراچی کی عمومی خوراک کا حصہ بن گئے۔ بعض ہوٹل تو اتنے مشہور ہوئے کہ ان کےکھانے اور چائے کے لیے کونے کونے سے لوگ آتے۔ کھارادر میں باکڑا ہوٹل کے کھانے کی لذت کئی دنوں تک زبان پر رہتی اور ناظم آباد کے پیالہ ہوٹل کی چائے پینے لانڈھی سے بھی لوگ آتے۔
ملباری ہوٹلوں کی کہانی قیامِ پاکستان سے پہلے شروع ہوتی ہے۔ ملباری دراصل جنوبی بھارت کی ریاست کیرالہ کے مسلمان تھے جن کے آبائی علاقوں میں چائے اور مسالوں کی تجارت عام تھی۔ کراچی میں ان کی آمد کا سلسلہ 1921 کے بعد شروع ہوا، جب کیرالہ کے ضلع مالاپورم میں برطانوی راج اور مقامی اونچی ذات کے ہندوؤں کے خلاف ایک بغاوت ہوئی جسے سختی سے کچل دیا گیا۔
اس کے بعد مسلمانوں پر تشدد اور پابندیاں بڑھیں تو بہت سے ملباری اپنا وطن چھوڑ کر کراچی آ گئے۔ چوں کہ ان کے علاقوں میں چائے کی کاشت اور تجارت عام تھی اس لیے انہیں اس پیشے کا بھرپور تجربہ تھا۔ کراچی آ کر انہوں نے ابتدا میں کشادہ فٹ پاتھوں اور بازاروں کے کنارے چھوٹے چھوٹے اسٹال لگائے۔ نیم اور برگد کے درختوں کے سائے تلے کیتلیوں اور سماواروں میں چائے بنائی جاتی اور گاہکوں کو مٹی یا چینی کے کپوں میں پیش کی جاتی، رفتہ رفتہ ان کے یہ اسٹال مقبول ہوتے گئے اور ان کا کاروبار پھیلنے لگا۔
جب فٹ پاتھوں پر رش بڑھنے اور ٹریفک متاثر ہونے لگا تو بلدیہ کراچی نے ان اسٹالوں کو ہٹانا شروع کیا۔ اس کے بعد ملباریوں نے دکانیں کرائے پر لے کر چھوٹے چھوٹے جھونپڑا ہوٹل قائم کرنا شروع کیے۔ یہ جھونپڑے بظاہر سادہ ہوتے مگر ان میں چائے کا ذائقہ اور ماحول ایسا ہوتا کہ لوگ بار بار وہاں آتے۔ لیاری کے قدیم علاقے میں جونا مسجد کے قریب ایک مشہور ملباری ہوٹل تھا ،جہاں دال فرائی اور پراٹھے کا منفرد ناشتہ ملتا تھا۔
ناشتہ فجر کی نماز کے بعد شروع ہوتا اور تقریباً گیارہ بجے تک جاری رہتا۔ شہر کے دور دراز علاقوں سے لوگ خاص طور پر یہاں ناشتہ کرنے آتے۔ سیکڑوں لوگ ہوٹل میں بیٹھ کر کھاتے اور بہت سے لوگ پارسل بھی ساتھ لے جاتے۔ اس طرح یہ جگہ صرف ایک ہوٹل نہیں بلکہ ایک سماجی مرکز بن گئی تھی۔
وقت کے ساتھ ملباریوں کی نئی نسل نے تعلیم حاصل کی اور مختلف سرکاری و نجی اداروں میں ملازمت کرنے لگے۔ بہت سے لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک بھی چلے گئے۔ یوں آہستہ آہستہ ملباری ہوٹل کلچر کراچی سے غائب ہوتےچلے گئے۔ آج اگر کہیں کوئی یہ ہوٹل ہیں بھی تو وہ اس ماضی کی صرف ایک مدھم سی یاد ہیں۔
ایرانی ہوٹل بھی کراچی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ گزشتہ صدی کے آغاز میں ایران سے پارسی، بہائی اور دیگر اقلیتی برادریوں کے لوگ برصغیر کے بندرگاہی شہروں کا رخ کرنے لگے۔ کراچی ان کے لیے ایک محفوظ اور پرکشش مقام تھا،یہاں آ کر انہوں نے بیکریاں، کیفے اور چائے خانے قائم کیے۔ ایرانی ہوٹل زیادہ تر صدر اور اولڈ سٹی ایریا تک محدود رہے۔
صدر سے کھارادر تک کے علاقے میں ان کے ہوٹلوں اور کیفوں کی ایک الگ دنیا آباد تھی،جہاں بیٹھ کر نہ صرف چائے پی جاتی بلکہ ادب، سیاست اور سماجی مسائل پر گفتگو بھی ہوتی۔ صدر میں ایک زمانے میں فریڈرک کیفے ٹیریا خاص طور پر مشہور تھا۔ یہاں دوست احباب بیٹھ کر بڑے بڑے منصوبے بنایا کرتے تھے جو اکثر فارسی کہاوت ’’نشستند، گفتند و برخاستند‘‘ (بیٹھے، باتیں کیں اور اٹھ کر چلے گئے) سے آگے نہیں بڑھتے تھے۔
اس کیفے میں ایک پبلک ٹیلی فون بوتھ بھی تھا جہاں دس پیسے کا سکہ ڈال کر مقامی کال کی جا سکتی تھی۔ جہانگیر پارک کے کونے پر کیفے رات دیر تک کھلا رہتا جہاں جامع کراچی کے طلبا اکثر آتے۔ اسی طرح وکٹوریہ روڈ اور فریئر روڈ کے سنگم پر واقع کیفے جارج اپنے لذیذ مٹن پیٹیز اور خاص چٹنی کے باعث پورے شہر میں مشہور تھا۔ اس کے سامنے انڈیا کیفے ہاؤس تھا جو بعد میں زیلنس کافی ہاؤس اور پھر ایسٹرن کافی ہاؤس کے نام سے جانا جانے لگا۔
یہاں شاعروں، ادیبوں، طالب علم رہنماؤں اور ترقی پسند کارکنوں کی محفلیں جمتیں۔ آئی آئی چندریگر روڈ پر بھی واقع خیر آباد ریسٹورنٹ ایک قدیم ایرانی ہوٹل ہے جو 1932 میں قائم ہوا تھا۔ اس کی میزوں پر رکھی چائے اور کافی کے کپوں کے گرد نصف صدی تک صحافیوں، بینکاروں اور دانشوروں کی محفلیں جمتیں رہیں۔ طارق روڈ کا لبرٹی ریسٹورنٹ کس کو یاد نہیں ہو گا، یہاں شعر و سخن کی اکثر محفلیں ہوتیں۔
وقت کی گردش نے بہت کچھ بدل دیا۔ شہر کی سیاست، معیشت اور سماجی فضا میں آنے والی تبدیلیوں نے ان ہوٹلوں کی دنیا کو بھی متاثر کیا۔ کئی ایرانی خاندان اپنا کاروبار سمیٹ کر چلے گئے۔ کچھ ہوٹل آج بھی موجود ہیں، مگر وہ پرانی رونق اب باقی نہیں رہی۔آج کراچی کی چائے کی روایت کو کوئٹہ وال نے سنبھال رکھا ہے۔ شہر کے تقریباً ہر محلے بلکہ ہر گلی میں ان کے چائے خانے نظر آتے ہیں۔ ان ہوٹلوں میں رات گئے تک گفتگو، سیاست اور زندگی کے قصے چلتے رہتے ہیں۔
نوجوانوں کے لیے یہ جگہیں تفریح، ملاقات اور بحث و مباحثے کا مرکز بن چکی ہیں۔ شہر بدل جاتے ہیں، عمارتیں مٹ جاتی ہیں، مگر چائے کے کپ کے گرد بیٹھنے والی محفلیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ صرف انداز بدل جاتا ہے اور ذائقے بدل جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کراچی کی اصل روح ایک پیالی چائے میں سانس لیتی ہے۔
کبھی یہ روح ملباری کے جھونپڑا ہوٹلوں میں بسی ہوتی تھی، پھر ایرانی کیفوں میں منتقل ہوئی، اور آج سڑکوں کے کناروں پر قائم کوئٹہ وال چائے خانوں میں زندہ ہے۔ گزشتہ 78 برسوں میں کراچی کا ہوٹل کلچر ضرور بدل گیا ہے، مگر چائے کی پیالی میں اٹھنے والا انقلاب کا دھواں اب بھی اسی طرح فضا میں گھلتا دکھائی دیتا ہے۔