• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ریلویز وفاقی حکومت کا دوسرا بڑا ادارہ ہے۔ پچھلے دنوں خسارے میں جانے والے اداروں کی خبر چھپی تو اس میں چوتھے نمبر پر ریلوے کا نام بھی تھا۔ درست بات یہ ہے کہ ریلوے آپریشنل خسارے میں نہیں ہے۔ ریلوے وفاقی حکومت کے ان گنے چنے اداروں میں سے ایک ہے جس نے خود ہی آمدن جنریٹ کرنی ہے اور پھر اسی آمدن سے اپنے آپریشن چلانے ہیں اور دیگر اخراجات بھی کرناہوتے ہیں۔ ریلوے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پنشنرز کی تعداد حاضر سروس ملازمین سے دو گنا سے بھی زائد ہے۔ ریلوے کے اٹھاون ہزار ملازم ہیں جبکہ سوا لاکھ سے زائد پنشنرز ہیں۔ عمومی طور پر اداروں کے پنشنرز کی ادائیگی حکومت خود کرتی ہے۔ البتہ ریلوے میں معاملہ الٹ ہے۔ یہاں ریٹائرڈ ملازمین کی ادائیگی بھی ریلوے نے اپنے آپریشنز سے ریونیو جنریٹ کر کے کرنی ہوتی ہے۔ تنخواہوں کا معاملہ بھی اسی طرح سے ہے، جب ریلوے کمائے گا تو تنخواہ بھی تب ہی ملے گی۔ ریلوےکو تنخواہوں اور پنشن کی مد میں اس سال تقریباً 125 ارب روپے ادا کرنے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے ریلوے کو 70 ارب روپے دیے گئے ہیں۔ باقی 55 ارب کا خلا ریلوے نے خود پُر کرنا ہے۔ اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات بھی ریلوے ہی نے کما کر ادا کرنے ہیں۔ ان سب رقوم کی خود سے ادائیگیوں کے باوجود ریلوے رُکا نہیں، چل رہا ہے۔ اس وقت آمدن کے اعتبار سے پاکستان ریلویز کی کارکردگی تاریخ کے سب ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ پچھلے سال یہ آمدن 93 ارب روپے تھی اور توقع یہ کی جا رہی ہے کہ موجودہ مالی سال میں یہ پچانوے ارب روپے سے بھی زیادہ ہو گی۔ جب مالی سال کا آغاز ہوتا ہے تو حکومت پاکستان، ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کرتی ہے، اور یہ اضافہ ریلوے پر ایک بوجھ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر بھی ریلوے اس کو اپنے آپریشنل منافع کی بنیاد پر مینج کر لیتا ہے۔ اگر ریلوے آپریشنل خسارے میں چلا جائے تو اس کا سارا سسٹم درہم برہم ہو جائے گا۔ سو یہ کہنا کہ ادارہ آپریشنل خسارے میں ہے، سراسر غلط ہے۔ یہ ادارہ چل ہی اسی وجہ سے رہا ہے کہ اپنے آپریشنل اخراجات خود اٹھا رہا ہے۔

ریلوے بارے ایک اور بات بھی کی جاتی ہے کہ اس کی نجکاری کی جا رہی ہے اور ہر ٹرین نجی کمپنیوں کے حوالے کی جارہی ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ریلوے ایک اسٹرٹیجک اثاثہ ہے، اس کی نجکاری نہیں کی جا رہی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مختلف ٹرینوں کی کمرشل مینجمنٹ نجی کمپنیوں کے حوالے کی جا رہی ہے تو ایسا صرف چند ٹرینوں کے ساتھ ہے اور اس کی بھی ایک نہایت معقول وجہ ہے۔ نجی کمپنیاں چاہتی ہیں کہ وہ پاکستان ریلوے کی مقبول ٹرینیں چلائیں۔ اس ضمن میں وہ پاکستان ریلوے کو گارنٹی دیتی ہیں کہ وہ اس ٹرین سے ریلوے کی حاصل کردہ آمدن سے زائد آمدن کی ادائیگی کریں گی۔ جب یہ گارنٹی پاکستان ریلوے کو ملتی ہے تو ادارے کو یک مشت ایک معقول آمدن مل جاتی ہے جسے وہ اپنے دیگر آپریشنز میں استعمال کر سکتا ہے۔ ٹرینوں کو پرائیویٹائز کرنے سے ریلوے کی آمدن پہلے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک ٹرین سے پاکستان ریلوے نے پچھلے سال ایک سو روپیہ کمایا ہو تو اس کو نجی کمپنی کے حوالے صرف اسی صورت کیا جائے گا جب وہ کمپنی پاکستان ریلوے کو 100 روپے سے زائد ادائیگی کرے۔ عمومی طور پر یہ ادائیگی پچھلے سال کی انکم سے 10 سے 20 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ یوں پاکستان ریلوے ٹرینوں کی نجکاری کرنے سے فائدے میں رہتا ہے۔ اس نجکاری سے پاکستان ریلوے اپنی ٹرینوں کی نگرانی سے بری الذمہ نہیں ہو جاتا بلکہ وہ نظر رکھتا ہے کہ ٹرینوں کی نجکاری کے وقت جو معاہدہ کیا گیا ہے اس کی پاسداری ہو رہی ہے اور مسافر جن سہولیات کے حقدار ہیں کیا وہ سہولیات انہیں مل رہی ہیں یا نہیں۔ کسی شکایت کی صورت میں ٹرینوں کی نجکاری کا معاہدہ ختم کر دیا جاتا ہے اور متعلقہ پارٹی سے اس کی پرفارمنس گارنٹی جو کہ کروڑوں میں ہوتی ہے ضبط کر لی جاتی ہے۔

ٹرین پاکستان کا محفوظ ترین سفر ہے۔ یہاں بغیر مسافر کے خالی ٹرین کا پٹری سے اتر جانا بھی حادثہ تصور کیا جاتا ہے۔ جب سال بھر کے اعداد و شمار اکٹھے ہوتے ہیں تو خالی انجن اور خالی ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات کو بھی حادثات میں جمع کر لیا جاتا ہے اور پھر یوں لگتا ہے جیسے سال بھر میں ٹرینوں کے درجنوں حادثات ہو گئے۔ ریلوے روزانہ تقریباً ایک سو سے زائد مسافر ٹرینیں چلاتا ہے۔ سال بھر میں یہ تعداد تقریباً 37 ہزار بنتی ہے۔ ان ہزاروں آپریشنز میں حادثات کی تعداد 60 ہے۔ واضح رہے کہ کسی ہینڈزفری لگائے شخص کا ٹرین سے ٹکرانا بھی (جس میں ریلوے کی کوئی غلطی نہیں ہوتی) ان حادثات میں شامل ہے۔

یہ درست ہے کہ اس وقت پاکستان ریلویز دیگر ترقی یافتہ ممالک کے ٹرین سسٹمز سے پیچھے ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ریلوے میں انویسٹ ہی نہیں کیا۔ ریلوے کو وہ ترجیح نہیں دی گئی جس کا وہ حقدار تھا۔ وسائل کا ایک بہت بڑا حصہ سڑکیں بنانے پر لگایا گیا اور ریلوے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ پچھلے دنوں وزیراعظم پاکستان نے اس بات کا اظہار کیاہے کہ ریلوے میں انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے اور اس سال ریلوے کو وسائل دیے جائیں گے، یہ نہایت خوش آئند ہے۔ مسافروں کیلئے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ جولائی سے کراچی سے روہڑی ریلوے لائن اپ گریڈ ہونے جا رہی ہے جس سے ان کے سفر میں تین سے چار گھنٹے کمی ہوگی اور ریلوے کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔ ریلوے سفید ہاتھی نہیں، اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسے مضبوط کرنا ہو گا۔

تازہ ترین