وہ 1954ءمیں راولپنڈی کے ایک غریب ترین گھرانے میں پیدا ہوا۔ چھ سال کی عُمر سے جبری مشقت اور تشدد کا شکار ہونا شروع ہوا ۔اٹھارہ سال کی عُمر پر مرچنٹ نیوی میں بھرتی ہوا اور کارگوشپ کے ذریعے 1970کی دَہائی کے اوائل میں فرانس کے دارالحکومت پیرس جا پہنچا۔ اُس وقت اُسکی عُمر تقریباََ بیس سال کے لگ بھگ تھی۔ پہلے پہل وہ فرانس کے شہرRouen کے ایک ہوٹل میں برتن دَھوتا رہا پھر اس کی ملاقات Georget Bernier المعروف Professor Choron سے ہوئی جس نے اُسےHara-Kiriاور Charlie Hebdo میگزین فروخت کرنے کا کام دیا ۔ ابتداء میں اُس نے بے حد غربت دیکھی۔ وہ سڑکوں، گلیوں اور پُلوں کے نیچے سوتا رہا۔ وہ اخبار بیچنے کی خاطر روزانہ کئی میل کا سفر پیدل طے کرتا۔ وہ اخبار فروخت کرتے وقت لطیف اور شائستہ انداز میں آوازیں لگاتا۔ وہ خبروں کی پیروڈی بناتا۔ St. German-des-Presکے علاقے کے لوگ اُس سے آشنا ہونے لگے ۔ وہ ریسٹورینٹس ، مارکیٹس اور باروغیرہ میں جاتا اور اخبار فروخت کرتا۔ کرتے کرتے اُسکی زندگی کے تقریباََ پچاس سال پیرس کی سڑکوں اور بازاروں میں اخبار فروخت کرتے ہوئے گزر گئے۔
پچھلے کئی برسوں سے پرنٹ میڈیا پرلوگوں کا انحصار کم ہو گیا اور Digitalization کی وجہ سے لوگوں نے اخبار خریدنا بہت کم کر دیا مگر وہ اِس نا گُفتہ بہ صورتحال کا بھی بڑی ہمت اور جوانمردی سے مقابلہ کرتا رہا اور آٹھ گھنٹوں میں محض بیس اخبار فروخت کر پاتا۔ اب وہ پیرس کا واحد اور اکلوتا اخبار فروش ہی رہ گیا تھا۔ اُس دُبلے پتلے 73سالہ شخص کا نام علی اکبر ہے جسے چند دن قبل فرانس کے صدر Emmanuel Macronنے اپنی سرکاری رہائش گاہ Elysee Palaceمیں منعقدہ ایک پُروقار تقریب میں اعلیٰ ترین ایوارڈ National Order of Meritسے نوازاہے۔ اِس موقع پر فرانسیسی صدر نے کہا کہ مسٹر اکبر ! آپ فرانسیسی پریس کی آواز ہو۔ فرانسیسی زباں آپکی زبان بن چکی ہے۔ آپ کو اس زبان پر عبور حاصل ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دُنیا آپ کے بازوئوں میں ہے اور فرانس آپ کے دِل میں ہے۔ اِس موقع پر علی اکبر نے کہا "Thats it, I'm a knight! I've made it"۔ وہ ایک ہزار یورو ماہانہ پنشن لیتا ہے مگر آج بھی اخبار فروخت کر رہا ہے اور اِسی میں اپنی پہچان اور عظمت محسوس کر تا ہے۔ وہ اِس کام کو جاری رکھنے کے لئے پُر عزم ہے۔ اِسکا کہنا ہے کہ میں لوگوں کو خبریں اپنی مزاحیہ حس اور فن کے ساتھ پیش کرنا جاری رکھوں گا۔ علی اکبر کا ایوارڈ در حقیقت پوری پاکستانی قوم کا ایوارڈ اور اعزاز ہے ۔ اُس شخص نے زندگی کی آزمائشیں ،تکالیف اور مشکلات جھیلیں اور مصائب کا بُری طرح شکار رہا۔ مگر اُس نے ہمت نہ ہاری۔ اُس کی ہمت، حوصلہ ، لگن ، محنت کا جذبہ ، خلوصِ نیت اور جفاکشی اُسے ممتاز بنا گئی ہے۔ اُس نے نہ صرف دُنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے بلکہ اُسکی وجہ سے پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ علی اکبر کو بلاشبہ ایک رَول ماڈل کہا اور سمجھا جا سکتا ہے ۔ علی اکبر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ارادہ مُصمم ہو تو رزقِ حلال کے حصول میں مشکلات اور تکالیف آپکا راستہ نہیںروک سکتیں۔ علی اکبر کا ایوارڈ درحقیقت پاکستانی قوم بالخصوص نوجوان نسل کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں اور جس پیشے سے مُنسلک ہوں اُس میں پوری دل جمعی سے بھر پور محنت کریں سارے پیشے یکساں باوقار، قابلِ عزت اور شاندار ہیں۔
ہم لو گ پیشہ اختیار کرتے وقت پچاس مرتبہ سوچتے ہیں کہ یہ پیشہ دُنیا کی نظر میں زیادہ باقار نہیں ہے اورمعیوب نظرآتا ہے لہٰذا لوگ کیا کہیں گے۔ مگر یقین کیجیے کہ ترقی یافتہ قوموں اور معاشروں میں ایسی کوئی سوچ ہر گز نہیں پائی جاتی۔ وہاں لوگ بڑے فخریہ انداز میں ہر طرح کا پیشہ بِلاتامل اور بِلاجھجک اختیا ر کر لیتے ہیں ۔بِلاشبہ یہی رویہ اور سوچ اُن قوموں کی کامیا بی کی ایک وجہ بھی ہے پیرس کے گلی کوچوں بازاروں میں اخبار فروشی کیلئے پچاس سال جُوتے گھسیٹنے والے بے یارو مددگار شخص نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بِلا شُبہ محنت ہی میں عظمت اور برکت ہے ۔ بے شک کسی کی محنت رائیگاں نہیں جاتی۔ ویلڈن علی اکبر۔