حیرت ہے کسی بھی حکومت نے لینڈ مافیا کے خلاف مؤثر قانون سازی کرنے کی جرات نہیں کی، کیونکہ ہر حکومت میں طاقتور کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں جو قبضہ مافیا کے خلاف قانون سازی کے سامنے "سیسہ پلائی دیوار" کی طرح ڈٹ جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ "حکم امتناعی" بے سہارا اور کمزور لوگوں کے خلاف ظلم کی شکل میں انسانی حقوق کی تذلیل اور قبضہ مافیا کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کے "بنیادی حق" کے طور پر عطا کیا جاتا ہے،جو کوئی بھی طاقتور پیشہ ورشخص ایک معمولی درخواست کے ذریعے صاحب جائیداد کو اس کی وراثت سے محروم کرنے کی عدالتی جنگ کا آغاز کر سکتا ہے جس کے بعد یہ نظام عدل کی مرضی اور منشا پرمنحصر ہے وہ "حکم امتناعی" کے ذریعے "مقبوضہ" قرار دی جانے والی جائیداد کا فیصلہ قابض کے حق میں کرتا ہے یا جائیداد کے حقیقی مالک کو لوٹانے کا حکم صادر کرتا ہے، دونوں صورتوں میں اعصاب شکن عدالتی جنگ بیس بیس برس تک بھی جاری رہتی ہے جس کا فائدہ صرف قبضہ مافیا کو ہی ہوتا ہے۔وفاقی دارالحکومت پولیس کی جانب سے زمینوں کے تنازعات کے حوالے مقدمات درج کرنے پر پابندی عائد کرنے کے "معنی خیز" فیصلے نے متاثرین کے ذہنوں میں تلخ سوالات پیدا کر دئیے ہیں جن جواب کہیں سنائی دیتے۔ لینڈ مافیا کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج تو کجا، اسلام آباد پولیس حکومت یا اعلیٰ حکام کے احکامات کے اشاروں سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ کسی جائیداد کے کاغذات گم ہونے کی رپورٹ تک درج کرنے لئے تیار نہیں اور اگر سائل اپنی جائیداد کے کاغذات کی گمشدگی کی درخواست لے کرتھانے چلا بھی جائے تو تھانہ اس کی درخواست لینے سے یہ کہتے ہوئے کارروائی کرنے سے بلا خوف انکار کر دیتا ہے کہ جائیداد اور زمینوں کے تنازعہ کے حوالے سے رپورٹ درج کرنے سے"انہیں اوپر سے منع کیا گیا ہے"۔ لیکن اسلام آباد سے ملحقہ پنجاب کی حدود میں قائم تھانے مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 5000 سے 15,000روپے کے عوض رپٹ کاٹ دیتے ہیں۔ ان حالات میں کئی سوالات اٹھتے ہیں لیکن "لاجواب" ہی رہتے ہیں۔کیا پولیس کسی "حکم یا پرکشش آفر" کی بنیاد پرقبضہ مافیا کی معاونت کررہی ہے اور زمینوں پرقبضوں کی صورت میں تھانوں میں متاثرین کی جانب سے دائر کی جانے والی شکایات پر قانونی کارروائی کرنے سے انکار قبضہ مافیا کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی کا اعلان نہیں؟ یا کیا غیر مؤثر قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبضہ مافیا کی جانب سے جعلی کاغذات کے ذریعے زمینوں کی منتقلی جرم نہیں؟ لیکن جہاں جعلی کاغذات کے ذریعے زمینوں پر قبضوں کا معاملہ ہو وہاں مافیا کے خلاف سنگین جرم کے تحت مقدمات کیوں درج کرنا کیوں ممکن نہیں؟ کیا قبضہ مافیا کے وارث اسلام آباد پولیس کواندھے اختیارات کا غلط استعمال کرنے پر مجبورنہیں کرتے؟ یا یہ اپنے طور پر اپنی طاقت کے استعمال سے کسی مخصوص فریق کے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہی ہے؟دوسری طرف حکومت پنجاب نے لینڈ مافیا کے کریک ڈاؤن کے لئے Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance منظور کرتے ہوئے لاگو کردیا لیکن ان حالات میں اس پرعمل درآمد دشوار دکھائی دیتا ہے۔ اس نوعیت کے مقدمات کی پیروی کرنے میں مہارت رکھنے والے نوجوان قانون دان سردار نوید کا خیال ہے کہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو اپنی جائیداد رکھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا مکمل حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 23 کے تحت یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے، جبکہ آرٹیکل 24 واضح کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانون کی منشا کے بغیر اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے مطابق تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔انہی حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت نے حال ہی میں پنجاب میں جائیدادوں پر ناجائز قبضے روکنے کے لیے ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کیا ہے۔اس قانون کے تحت غیر قانونی قبضہ کرنے والے کو 5 سے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ یہ سزا ان افراد پر لاگو ہوتی ہے جو دھوکہ دہی، جعل سازی، جبر یا کسی بھی غیر قانونی طریقے سے جائیداد پر قابض ہوتے ہیں۔لیکن اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ایسے تمام قوانین اور پابندیوں سے مبرا ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ قوانین کی موجودگی کے باوجود قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی ممکن نہیں۔پاکستان میں قبضہ گروپس محض افراد نہیں بلکہ ایک ایسے سفاک گٹھ جوڑ کا نام ہیں جہاں طاقت، اسلحہ اور کرپٹ نظام باہم شیر و شکر نظر آتے ہیں۔ پٹوار کلچر سے لے کر تھانے کی دہلیز تک، یہ مافیا قانون کی کمزوریوں اور فرسودہ لینڈ ریکارڈ کا فائدہ اٹھا کر شہریوں کو ان کی اپنی ہی زمین سے بے دخل کر دیتا ہے۔پولیس کا اسے "سول تنازعہ" قرار دے کر پیچھا چھڑانا دراصل ظالم کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔سمندر پار پاکستانیوں کی جائیدادیں اس مافیا کا سب سے آسان ہدف بن چکی ہیں۔نشانہ بنانے والوں میں عموماً وزرا، سیاستدان، اعلیٰ پولیس آفیسرز اور بیوروکریٹس لینڈ مافیا کی شکل میں موجود ہیں۔اس قسم کی بیشمار مثالیں ریکارڈ پر موجود ہیں جن کی سچائی پر طویل بحث ہوسکتی ہے۔