• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی شہری حیران ہیں کہ ایران اور اسرائیل توایک خطے میں آباد ہیں ، دس ہزار کلومیٹر دور امریکہ کو کیا خطرہ تھا کہ ایران کی جنگ میں اُتر گیا۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اسکی ایک ایسی وضاحت پیش کی، جس پر مجھے غش آگیا۔ فرمایا: امریکہ کو معلوم تھا کہ اسرائیل ایران پر حملے کا فیصلہ کر چکا ہے ۔ امریکہ کویہ بھی معلوم تھا کہ اسرائیل نے ایران پہ حملہ کیا تو ایران نے پھر امریکہ پہ حملہ کردینا ہے ۔ اس لیے بجائے ایرانی حملے کا انتظار کرنے کے ، امریکہ نے پہلے ہی جنگ شروع کر دی ۔ یہاں تک تومیں نے سنا، پھر چراغوںمیں روشنی نہ رہی۔

اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی

اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی

ایک لطیفہ یاد آیا۔گائوں سے باہر قدرے فاصلے پر ایک جنگجو خاندان آباد تھا ۔کام کبھی کوئی کیا نہیں ، لڑائی جھگڑوں میں مصروف رہتے۔ آئے دن تھانے کچہریاں۔ آخر ایک دن مل بیٹھ کر سوچنے لگے ، ماراماری میں یہ زندگی کیسے گزرے گی ۔ کوئی کام کرنا چاہیے ۔ ایک نے کہا: ہماری زمین بے کار پڑی ہے، کیوں نہ گنا کاشت کیا جائے ۔ دوسرا بولا:نہیں، آتے جاتے لوگ ہمارے گنے توڑا کرینگے ۔ پہلا چیخ کر بولا:کس کی جرات ہے ہمارے گنے توڑے ۔ دوسرے نے کہا : پاس جو گائوں ہے، اس کے لوگ ۔ جو زیادہ لڑاکا تھا، وہ چیخا :انکی یہ جرات ۔ آئو پہلے گائوں والوں سے نمٹ لیں۔ اب انہوں نے لاٹھیاں اٹھائیں اور گائوں والوں پہ چڑھ دوڑے۔ گائوں والے مار کھاتے جائیں او رپوچھتے جائیں ، ہوا کیا ہے ؟ وہ مارتے جائیں اور کہتے جائیں ’’ہو ر چوپو‘‘۔

ایران کے پاس دس ہزار کلومیٹر رینج والا میزائل ہے ہی نہیں۔ رہی خطے میں امریکی اڈوں پر حملہ کرنے میں پہل کی بات تو کون ایک بدمست بیل کو خوامخواہ خود پہ حملے کی دعوت دے سکتا ہے ۔پچھلے برس کی جنگ میں اسرائیل نے بارہ دن ایران پہ حملے کیے اور ایران نے اسرائیل پہ ۔ آخری دن امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پہ فیصلہ کن حملہ کیا لیکن ایران نے امریکی اڈوں پر حملے نہیں کیے۔اب کی بار توایران نے جنگ ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ اپنے جوہری پروگرام سے تقریباً دستبردار ہی ہو گیا۔ مذاکرات آگے بڑھ رہے تھے اور ان کا اہتمام کرانے والے اومانی خوشی سے اچھل رہے تھے کہ دنیا کا سب سے بڑا تنازع حل کر وا کے ہم معزز ہو جائیں گے ۔ تب پہلی نہیں ، دوسری بار ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران بلکہ مذاکرات میں  پیش رفت کے ہنگام حملہ کر دیا ۔

دنیا کی جنگی تاریخ میںاکا دکا واقعات کے علاوہ ایسی نظیر نہیں ملتی ۔ کوئی حکمران دورانِ مذاکرات ایسا نہیں کرتا۔ اوباما بھی نہ کرتے ۔ پیوٹن سمیت کوئی بھی نہ کرتا؛حتیٰ کہ شمالی کوریا بھی نہیں ۔اس لیے نہیں کہ وہ بہت اعلیٰ ظرف ہیں ۔ اس لیے کہ عالمی لیڈروں کو دنیا کے سامنے ایک رکھ رکھائو برقرار رکھنا پڑتا ہے ورنہ دوسری قومیں انہیں طعنہ دے سکتی ہیں ۔ صدر ٹرمپ کو اسکی کوئی پروا نہیں اورکسی معاملے میں بھی نہیں۔اب تک 28خواتین ان پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کر چکی ہیں ۔ان کی صحت پہ کیا اثر پڑا؟

مارکو روبیو ہی پہ موقوف نہیں ۔ پوری ٹرمپ انتظامیہ ایسی ہی حرکتیں کر تی پھر رہی ہے ۔ گزشتہ برس صدر ٹرمپ اور ولادی میر پیوٹن کی ملاقات کیلئےہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ کا انتخاب ہوا۔ایک رپورٹر نے پوچھا: اس شہر کا انتخاب کس نے کیا؟ وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا: تمہاری ماں نے ۔ سب ہکا بکا رہ گئے ۔رپورٹرز کی تذلیل کا صدر ٹرمپ خود بھی خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔

امریکی شہریوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد اس بات پہ یقین رکھتی ہے کہ ایپیسٹین فائلز میں سابق صدر کلنٹن کے ساتھ ساتھ ٹرمپ بھی ملوث ہیں ۔وہ اسرائیل کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جس شخص نے ووٹ ہی جنگیں ختم کرانے کے وعدے پر لیے اور جو نوبل امن انعام مانگتا پھر رہا ہو وہ میدانِ جنگ میں کیوں کود پڑا۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جنگ شروع کرواکے بھی ٹرمپ ایپیسٹین فائلز سے پیچھا چھڑا نہ سکیں گے ۔بل کلنٹن اور ہیلری کلنٹن کو پورا زور لگا کے بھی کانگریس کے سامنے پیش ہونا پڑا ۔وینزویلا کی مہم جوئی نے صدر ٹرمپ کو خوداعتمادی کے نشے میں مبتلا کیا۔ جو شخص بے پناہ خواہشات کے جلو میں زندگی گزار رہا ہو اور چالاکی سے ان خواہشات کی تکمیل ہی جسکی زندگی ہو، وہ کیسے ادراک کرتا کہ ایران وینزویلا نہیں۔

پانچ عشروں سے شدید معاشی پابندیوں کے نرغے میں اپنی بقا کی خوفناک جنگ لڑنے والے ایران نے گزشتہ برس کی بارہ روزہ جنگ سے بہت کچھ سیکھا۔میدانِ جنگ میں یہ صاف نظر آرہا ہے ۔ ایران کو کوئی جلدی نہیں ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو البتہ ضرور مضطرب ہیں ۔ ایران معاشی پابندوں اور خوفناک جنگوں ، دونوں کا سامنا کر چکا ہے ۔ ایک بہت بڑا رسک یہ بھی لے چکا کہ جنگ کو عرب ہمسایوں تک پھیلا دیا۔اس جنگ سے جب وہ گزر جائے گا تو ایران ایک بے خوف معاشرہ ہوگا۔

اس کے برعکس عربوں نے جنگیں ہاریں ۔ وہ شکست خوردہ ہیں۔امریکہ کو اڈے فراہم کیے۔اپنا دفاع غیرملکیوں کو سونپ دیاجودرحقیقت ان کے مخالف اسرائیل کا اتحادی ہے ۔ یہ امریکی اڈے مشکل وقت میں عربوں کے کسی کام نہ آئے ۔سب سے اہم عرب ملک نے ایک کثیر الملکی فوج بنائی۔ فوج کثیر الملکی ہوتی ہی نہیں بلکہ قومی ہوتی ہے۔ وہ عشروں میں اپنی جنگی صلاحیت حاصل کرتی ہے ۔ عربوں نے اپنی توجہ کاروبار پہ مرکوز رکھی ۔دفاع سے نظریں چرالیں ۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ دنیا کی کوئی قوم دوسری قوم کی جنگ لڑہی نہیں سکتی، جیتنا تو دور کی بات ۔پھر یہ کہ ایک قوم اگر اپنی جنگوں میں پھنسی ہو تو دوسری قوم کی وہ کیا مدد کرے۔

پاک بھارت جنگ میں بھارت کی عبرتناک شکست، یوکرین کی جنگ میں روس کا غلبہ،بکھرتا ہوا نیٹو اور اب ایران میں پھنسے ہوئے امریکہ اور اسرائیل۔ دنیا کی عسکری ہیئت تیزی سے بدل رہی ہے ۔ کبھی کبھی دل میں یہ حسرت اٹھتی ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت اگر اپنے اپنے دائرے پہ توجہ مرکوز کر سکتی تو کتنا اچھا ہوتا!

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

تازہ ترین