کراچی (نیوز ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ چند ممالک نے ثالثی کی کوششوں کا آغاز کیا ہے، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ثالث ممالک کو ثالثی کے دوران اُن (امریکا اور اسرائیل )سے بات کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے اس تنازع کو شروع کیا اور ایرانی عوام سے متعلق غلط اندازے لگائے، خطے میں دیرپا امن چاہتے ہیں لیکن اپنی قوم کا وقار اور خودمختاری کا دفاع کرنے میں بلکل نہیں ہچکچائیں گے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے غیر مشروط پر ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،امریکی اخبارنے متعدد یورپی حکام کےحوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کو محدود کرنے کی کوشش میں ایران کے ساتھ براہِ راست رابطوں میں اضافہ کر دیا ہے، ذرائع کے مطابق، کئی یورپی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک ان کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ذرائع کےمطابق سعودی حکام نے کشیدگی کم کرنے اور تنازع کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لئے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی پس پردہ رابطوں (backchannel) کو انتہائی ہنگامی بنیادوں پر فعال کر دیا ہے جبکہ کئی یورپی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک ان کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایرانی صدر پزشکیان نے روسی صدر پیوٹن سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے ، صدرپیوٹن نے خطے میں جاری جنگ روکنے اور طاقت کے استعمال کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار بھی کیا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کےاسپیکر ڈاکٹرمحمد باقر قالیباف نے کہا ہےکہ امریکاکے طیارہ برداربحری جہاز ابراہم لنکن میدان جنگ سے بھاگ گیا ہے۔آذربائیجان نے ایک بار پھر ایران پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم پاسداران انقلاب نے آذربائیجان پر حملوں کی تردید کی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان حملوں کو فالس فلیگ آپریشن قرار دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’پھر ایک بہترین اور قابل قبول قیادت کے انتخاب کے بعد امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لانے کے لئے بھرپور کام کریں گے،امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو معاشی طور پر پہلے سے زیادہ بڑا، بہتر اور مضبوط بنایا جائے گا،ایران کا مستقبل شاندار ہوگا، اسے دوبارہ سے عظیم بنائیں گے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کو فون کرکے انہیں جنگ سے متعلق صورتحال پر بریفنگ دی ہے ۔ پیوٹن نے خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا جبکہ پزشکیان نے ایرانی عوام کیساتھ یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد، روسی صدارتی دفتر کریملن نے ایک بیان میں کہا کہ پیوٹن نے "فوری طور پر دشمنی ختم کرنے، ایران اور پورے مشرق وسطیٰ کے خطے میں مسائل کو حل کرنے کے لئے طاقت کے استعمال سے گریز، اور سیاسی و سفارتی تصفیے کی راہ پر تیزی سے واپسی کے بارے میں ماسکو کے اصولی موقف" کا اعادہ کیا۔امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ جنگ کی شروعات سے اب تک مشرق وسطیٰ سے قریب 24 ہزار امریکی شہری باحفاظت امریکا واپس آ چکے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہفتے کے روز کویت میں ایران کے ایک حملے میں ہلاک ہونے والے چھ فوجیوں کی میتوں کی واپسی کی باوقار تقریب میں شرکت کریں گے۔ عرب میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کےاسپیکر ڈاکٹرمحمد باقر قالیباف نے کہا ہےکہ یو ایس ایس ابراہم لنکن ایرانی میزائلوں اور ڈرونزکے پہلے ہی حملے میں پیچھے ہٹ گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ جس بحری بیڑےکو امریکی اتحادیوں کا دفاع کرنا تھا وہ اپنا دفاع نہیں کرسکا، امریکاکےاتحادی اپنی سلامتی کوٹرمپ اور نیتن یاہو کےجھوٹ کی نذر نہ کریں۔آذربائیجان نے کہا ہے کہ وہ ایران سے اپنے سفیرکو واپس بلارہے ہیں۔آذربائیجان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران سے اپنی حدود میں ہونے والے کئی حملے ناکام بنادیئے ہیں۔ ایران نے ایک بار پھر آذربائیجان پر ڈرون حملوں کی تردید کی ہے ۔ پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ان کا ملک کسی کے بھی خلاف دفاعی آپریشن کا ارادہ کرے گا تو وہ اس طرح چھوٹے ڈرونز سے حملہ نہیں کرے گا ۔