امریکہ دنیا میں جمہوریت کا سب سے بڑا علم بردار اور اسرائیل پورے شرق اوسط کی واحدجمہوری ریاست ہونے کا دعویدار ہے لیکن ان دونوں کے خودغرضانہ رویوں اور انسانیت کش اقدامات نے آج دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔ غزہ میں تین سال سے جاری قتل عام کے ساتھ ایران پر مسلط کیے گئے آگ اور خون کے کھیل نے پوری انسانی برادری کو تیسری عالمی جنگ کے سنگین خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ اپنے اقدامات کو جائز اور مقدس قرار دینے کیلئے ان کے پاس یہ دلیل موجود ہے کہ یہ سب جمہوری طریق کار کے مطابق کیا جارہا ہے۔ پچھلے عشروں میں عراق اور افغانستان پر جھوٹے الزامات کی بنیاد پر فوج کشی کیلئے امریکی پارلیمان کی منظوری اور اب ایران پر میزائلوں کی وحشیانہ بارش جاری رکھنے کیلئے چند ووٹوں کی اکثریت سے امریکی سینیٹ کی اجازت، مغربی جمہوری نظام کے عدل و انصاف کی آفاقی اور مستقل اخلاقی اقدار سے قطعی بے نیاز ہونے کا بیّن ثبوت ہے۔ ایران پر میزائلوں کی بارش کا بہانہ جوہری توانائی کے حصول کی کوششوں کو بنایا گیا ہے جبکہ اپنےدفاع کابندوبست ہر ملک کا بنیادی حق ہے۔ اگر امریکہ ، اسرائیل اور دوسرے متعدد ممالک جوہری طاقت بننے کا حق رکھتے ہیں تو کسی اور کو اس سے محروم رکھنے کا آخر کیا جواز ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ عدل و انصاف اور خدا ترسی کی مستقل اخلاقی اقدار سے بے نیاز سیکولر قومی جمہوریت کا نظام بالعموم ’’بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے‘‘ کی بنیاد پرناقابل عمل وعدوں ، گمراہ کن پروپیگنڈے، سیاسی جوڑ توڑ اور دولت کے بے محابا استعمال کے ہتھکنڈوں سے سادہ لوح عوام کے ووٹ حاصل کرکے اقتدار پر قابض ہوجانے والے مفادپرست ٹولوں کو من مانی کے کھلے مواقع فراہم کردیتا ہے جسکے مظاہر آج دنیا بھر میں عام ہیں۔جمہوریت کے سب سے بڑے دعویداروں کی دیانت داری کا عالم یہ ہے کہ آٹھ دہائی پہلے امن عالم کو یقینی بنانے کیلئے اقوام متحدہ کے نام سے جو ادارہ قائم کیا گیا اس میں انہوں نے خود ویٹوپاور لے کر سینکڑوں ممبر ملکوں کی رائے کو ردّی کی ٹوکری میں پھینکنے کا مستقل انتظام بھی کردیا ۔اس غیرمنصفانہ اختیار کا سراسر ناجائز استعمال ہی اقوام متحدہ کو ایک ناکارہ ادارہ بنانے کا باعث بنا ہے۔تاہم بجائے خود کسی معاملے کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ محض کثرت رائے کی بنیاد پر کرنے کا اساسی جمہوری اصول بھی عقل کی کسوٹی پر ہرگز پورا نہیں اترتا۔ یہ اصول دو جرائم پیشہ ، ناخواندہ یا کم عقل افراد کے مقابلے میں ایک دیانت دار اور صاحب علم وعمل شخص کی رائے کو مسترد کرنے کا ہتھیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکولر جمہوری نظام دنیا میں ذاتی یا قومی مفادات کی خاطر دوسری قوموں کے جائز حقوق غصب کرلینے والے افراد کی حکمرانی کا ذریعہ بنا ہوا ہے ۔ پارلیمان میں گنتی کا کھیل کسی بھی حربے سے جیت کر من مانی قانون سازی بیشتر جمہوری ملکوں میں روز کا معمول ہے ۔مصور پاکستان علامہ اقبال ؒکی دور رس نگاہوں نے اس پرُفریب نظام کی حقیقت کو بخوبی جان کر اپنے لازوال کلام میں اس پر سیرحاصل روشنی ڈالی ہے۔ واقعات و حالات نے جمہوریت کے حوالے سے ان کے موقف کی سچائی پوری طرح ثابت کردی ہے۔ اس ضمن میں چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔
ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام
جسکے پردے میں نہیں غیرازنوائے قیصری
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری؟
جمہوی اداروں کے پردے میں سرمایہ دار طبقہ اپنے مفادات کا کھیل جس طرح کھیلتا ہے، اسے یوں بے نقاب کرتے ہیں ’’مجلس آئین و اصلاح و رعایات و حقوق،طبِّ مغرب میں مزے میٹھے‘ اثر خواب آوری۔۔گرمی گفتارِ اعضائے مجالس الاماں،یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ ِ زرگری۔۔اس سرابِ رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو،آہ ائے ناداں، قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو‘‘۔
ابلیس کی مجلس شوریٰ نامی معرکہ آرا نظم میں اپنے مشیروں کے روبرو ابلیس کی زبان سے جمہوریت کے نقاب میں چھپی ملوکیت و سامراجیت کو یوں سامنے لاتے ہیں’’ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس، جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر۔۔تونے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام،چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر‘‘۔
سوال یہ ہے کہ جمہوریت کے بجائے کون سا نظام انسانیت کو حقیقی معنوں میں عدل و انصاف اور امن و چین فراہم کرسکتاہے۔ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے پاس اس کا جواب موجود ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں سے کہتے ہیں:’’ پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دیں میں ہو،ملک و دولت ہے فقط حفظِ حرم کا اک ثمر۔۔ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے، نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر۔ تاخلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار،لاکہیں سے ڈھونڈکر اسلاف کا قلب و جگر‘‘۔
عالمی امن واستحکام کا قیام ‘ آج کی دنیا جسکی انتہائی حاجتمند ہے‘ عدل و انصاف کے آفاقی اور ناقابل تغیر اخلاقی اصولوں کی حکمرانی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان اصولوں کا تمام شکوک و شبہات سے پاک واحد ماخذ و منبع خالق کائنات کی اپنے رسولوں کے ذریعے بنی نوع انسان کو دی گئی ہدایات ہیں۔ اقبالؒ اسی نظام کے احیاء کے داعی ہیں۔پاکستان کا قیام اقبالؒ ہی کے خواب کی تعبیر ہے۔ پاکستان کا آئین منتخب مجلس شوریٰ کے ذریعے قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا علم بردار ہے۔ یہی وہ اسلامی جمہوری نظام ہے جسکا درست نفاذ جدیددور کے تکنیکی تقاضوں کے مطابق خلافت راشدہ کے احیا کا سبب بن سکتا ہے ۔اس راستے پر پیش قدمی کرکے پاکستان ،جسے اللہ کے فضل سے پچھلے کچھ ہی عرصے کے دوران عالمی سطح پر غیرمعمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے، دنیاکو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرنے والے اخلاقی اقدار سے محروم سیکولر جمہوری نظام کے مقابلے میں عالمی انسانی برادری کو عدل و انصاف اور امن واستحکام کے سو فی صد ضامن نظام سے متعارف کراسکتا ہے۔