کراچی( افضل ندیم ڈوگر) ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو ایک ہفتہ گزر گیا ہے ایسے میں مشرق وسطی کے 10 ممالک کی فضائی حدود شدید متاثر اور فلائٹ آپریشنز بند ہیں۔ ایران امریکہ تنصیبات کو جواز بنا کر یو اے ای سمیت مشرق وسطیٰ کے کئی مسلم ملکوں کو نشانہ بنا چکا ہے تو پھر ایسے میں متحدہ عرب امارات اچانک پھنسے ہوئے لاکھوں مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچانے کیلئے کیسے سینکڑوں خصوصی پروازیں آپریٹ کررہا ہے۔ اس سلسلے میں غیرملکی میڈیا نے امارات اور ایران سے معاہدے کیلئے بیک چینل ڈپلومیسی کا انکشاف کیا ہے۔ کویت بحرین قطر سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کوئی ایک پرواز بھی اڑان نہیں بھر سکیں, غیرملکی چینل اے بی سی کی رپورٹ کے مطابق امارات کی فضائی حدود اور فلائٹ اپریشن بند ہے۔ ایسے میں سوچنے کی بات ہے کہ پروازیں کیسے چل رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امارات سے اپریٹ کی گئی پروازیں طے شدہ پروازیں نہیں بلکہ خصوصی پروازیں ہیں اور یہ ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کی ایک غیر معمولی کہانی کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ بیک چینل روٹس قطر اور یمن کے ذریعے قائم کیے گئے ہیں۔