• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورین شہریت کا حامل میرا دوست عین الحق اپنے خاندان کے ہمراہ کئی ہجرتیں کر چکا ہے۔ قیامِ پاکستان کے دوران بہار سے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) پھر سقوط ڈھاکہ کے بعد دوبارہ کراچی جہاں سے جنوبی کوریا کے شہر سیول، ان مجبور ہجرتوں کے باوجود وہ ہرجائیت پسند نہیں ہے۔ ہجرتوں کی تلخیوں سے راحتوں کا سامان پیدا کرنے کا فن کوئی اس سے سیکھے اسے ہجرتوں سے ٹھہرائو ملا تو عالمی سیاحت پر نکل گیا ہے، لیکن بقول اس کے وہ ابھی تک پاکستان کی شمالی وادیوں، آبشاروں کی خوبصورتیوں اور تہذیبوں کے سحر میں گرفتار ہے۔ چناںچہ ہر سال کورین وفود لیکر پاکستان آ جاتا ہے تاکہ اپنے ہم وطنوں کو اس دیارِ محبت کی خوبصورتیوں سے آگاہ کروا سکے اور دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہو۔ کوریا اور پاکستان کے باہمی تجارتی تعلقات میں گزشتہ برسوں کے دوران جو سرد مہری محسوس کی جاتی رہی، ان وفود کے پے دَر پے دوروں سے اب برف پگھل رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارتی معاہدے ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ گندھارا تہذیب کے مراکز اور آثارِ قدیمہ پر بھی سیاحت کے فروغ کیلئے کورین سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عین الحق کی سربراہی میں کورین سیاحتی وفد میں امسال ہم بھی شامل تھے۔ ٹیکسلا میں بدھ عجائبات، دھرما، راجیکا اسٹوپا، جولیاں اور موہڑہ مرادو کے آثار اور عجائبات کے نظاروں کے دوران کورین دوستوں کی عقیدت اور وارفتگی دیکھنے کے قابل تھی۔ اس سیاحت کیلئے شاید ان کی آنکھوں میں ہمارے لئے بے حد ستائش جھلک رہی تھی اور ہم شرمندہ تھے کیوں کہ اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں کہ جس موٹروے کے ذریعے ہم نے لاہور - اسلام آباد سے ٹیکسلا تک سفر کیا وہ بھی کوریا کا شاہکار تھا اور جہاں ان اسٹوپاز کو محفوظ کیا گیا، وہ میوزیم بھی جاپان کی ابتدائی امداد سے تعمیر کیا گیا۔ ہاں البتہ واپسی کے سفر کے دوران ہم نے کوریائی وفد سے سیاحتی فروغ کیلئےبے شمار جزئیات پر بات کی۔ کورین دوستوں کی رائے میں نجی اشتراک سے شمالی علاقہ جات بالخصوص مذہبی سیاحت کیلئے جامع اقدامات شروع کر دیں تو نہ صرف پاکستان کے سافٹ چہرےکو متعارف کرایا جا سکتا ہے، بلکہ کثیر زرمبادلہ کی منفعت بھی ممکن ہے، لیکن اس کیلئےسیاحت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہو گا۔ ان کا خیال تھا کہ دہشت گردی اور خودکش حملوں کی وجہ سےپاکستان میں سیاحت انڈسٹری کوبہت نقصان پہنچا ہے جسکی بنا پر بین الاقوامی سیاح پاکستان آنے سےہچکچا رہے ہیں۔ پاکستان کی بطور ’’ٹورسٹ مقام‘‘ پروموشن مناسب نہیں ہے جسکی وجہ سے اسکی ’’ٹورازم برانڈنگ‘‘ نہ ہو سکی، جبکہ پڑوسی ملک ہندوستان اس معاملہ میں بہت آگے ہے۔ شمالی علاقہ جات میں ٹورازم کیلئے سرکاری و غیرسرکاری اداروں کا فقدان ہے۔ دوردراز کے سیاحتی مقامات تک ذرائع نقل و حمل کا جال مؤثر نہ ہے۔ معیاری ہوٹلوں کی کمی ہے۔ سیاحتی مقامات پر انسانی ضروریات کی مناسب سہولتیں موجود نہیں ۔ اگر ہندوستان، نیپال، برما، بھوٹان جیسے ممالک سالانہ سیاحتوں سے اربوں ڈالر کما سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں جن کے پاس انتہائی گراں قدر مذہبی مقامات موجود ہیں۔ پربتوں، وادیوں، دریائوں، صحرائوں میں خوبصورتیوں کی جھنکار ہے۔ قدیم قبائل ہیں، حیاتی تنوع ہے۔ جس ملک کے پاس دنیا کی 14 عظیم ترین پہاڑی چوٹیوں میں سے 5 موجود ہوں، گندھارا تہذیب، موہنجودڑو تہذیب، مغل ادوار کے شاندار آثار ہوں، مذہبی سیاحتی مقامات کرتارپور، ننکانہ صاحب، کٹاس راج ٹمپل، بلوچستان میں شیواراج کے قدیم مندر ہوں۔تخت بائی، ٹیکسلا اور ہزارہ میں بدھ مت کی شاندار باقیات ہوں، بادشاہی مسجد ہو، فیصل مسجد ہو، محبت کا فروغ دینے والے بزرگوں کے مزارات ہر ضلع، صوبہ میں موجود ہوں، ان کے آستانوں کی قدیم عمارات ہوں، وہاں اب تک سیاحت کو فروغ نہ ملے تو یہ دشمن کی سازش یا جادو ہے تاکہ دنیا پاکستان کے ظرف سے آگاہ نہ ہو سکے۔ سیاحت کے فروغ میں ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، چنانچہ ایک ہنگامی پروگرام ترتیب دینا ہو گا، ہمارے ملک میں سیاحت کیلئےپوشیدہ اور سربستہ استعداد موجودہے جسے ظاہر کرنا ہو گا اور ترقی یافتہ بنانا ہو گا۔ ماحولیاتی سیاحت کیلئے جنگلی حیات پارک کثیر تعداد میں قائم کئے جائیں۔ شندور میں پولو اور دیگر قدیم علاقائی کھیلوں کی بین الاقوامی تشہیر کی جائے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں دل افروزوادیوں اور الپائنز کی تصویرکشی کر کے پوری دنیا میں پھیلا دیا جائےتاکہ روایتی ممالک سوئٹرلینڈ وغیرہ کو لوگ بھول جائیں۔ سرکاری و نجی اشتراک سے سیاحتی مقامات پر اعلیٰ درجہ کے ہوٹل اور ریسٹورنٹ تعمیر کئے جائیں۔ سیاحتی ویزا کے فوری اجراکیلئے سفارت خانوں کو ہدایات جاری کی جائیں، جہاں ملکی سیاحتی مقامات کے بارے مکمل تفصیلات موجود ہوں۔ ملکی ایئرپورٹس پر سیاحتی ڈیسک بنا کر سیاحوں کو اعلیٰ مہمان نوازی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ پاکستان کی قدیم صناعی، دستکاریوں کو تمام شہروں کے بڑے ہوٹلوں میں آویزاں کیا جائے۔ پاکستان کے علاقائی اور روایتی کھانے سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔ اندرون ملک تمام سیاحتی مقامات پر ان کھانوں کی دستیابی کیلئے حکومتی سرپرستی میں اقدامات کئے جائیں۔ تمام مذہبی مقامات اور بدھا مورتیوں وغیرہ کو Digital maping اور سہ رخی ((3D) پروگرامنگ کے ذریعے محفوظ کر لیا جائے۔ بعدازاں سفارت خانوں اور دیگر ذرائع سے انہیں دنیا بھر میں پھیلا دیا جائے۔حالیہ برسوں میں کرتاپور راہداری کے ذریعے ہم نے مثبت مقاصد حاصل کر لئے ہیں۔ کروڑوں ڈالر کی لاگت سے بیسیوں سال تک جن کا حصول ممکن نہ تھا، ہم نے نہ صرف مذہبی سیاحت کو فروغ دیا ہے، بلکہ دنیا کے سامنے اپنا روشن پہلو مزید آشکار کیا ہے۔ مشرقی ہمسائیگی میں موجود دیرینہ مخالفت نہ صرف شکست و ریخت کا شکار ہو گئی ہے، بلکہ آبادی کے ایک بڑے طبقے کو اپنا ہمنواء اور ہمدرد بھی بنا لیا ہے۔ یہ حکمت عملی جاری رہنی چاہئے۔

تازہ ترین