• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے دفاع میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے جائز اقدام ہے، ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی : فوٹو اے ایف پی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی : فوٹو اے ایف پی 

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اپنے دفاع میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے جائز اقدام ہے، امریکی اہداف پر ایرانی حملے امریکا و اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کا ردعمل ہیں۔

امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے تنازع کا انتخاب نہیں کیا تھا، ایران تو اپنا دفاع کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ تنازع بلااشتعال، غیر مطلوبہ اور ناجائز ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی صرف حملوں کے خلاف جوابی اقدامات کیے ہیں، ایرانی کارروائیوں میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات، اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ہمارے لوگوں کو ہماری طالبات کو مار رہے ہیں، اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں،  اسرائیل، امریکا گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے بعد والی جنگ بندی توڑ چکے ہیں،  یہ اب دوبارہ جنگ بندی کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں؟ تو یہ اس طرح نہیں ہوسکتا، جنگ کا مستقل خاتمہ ہونا ضروری ہے، جب تک جنگ کا مستقل خاتمہ نہ ہو، ہمیں اپنے عوام اور سلامتی کی خاطر لڑائی جاری رکھنی پڑے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی نہیں جانتا کہ ایران کا اگلا سپریم لیڈر کون ہوگا، اس حوالے سے بہت سی افواہیں ہیں، لیکن ہمیں انتظار کرنا ہوگا جب اسمبلی آف ایکسپرٹس اجلاس کرے اور نئے سپریم لیڈر کے لیے ووٹ ڈالے۔

اسمبلی آف ایکسپرٹس 88 سینئر علماء پر مشتمل ہے جو ایران کے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں اور ان کے ارکان ایرانی ووٹروں کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ہم کسی کو اپنے اندرونی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ صرف ایرانی عوام کا معاملہ ہے، ایران کبھی بھی ٹرمپ کی غیر مشروط سرنڈر کی شرط قبول نہیں کرے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید