• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دفاعی تجزیہ کار ایران-اسرائیل جنگ کے تناظر میں نمایاں ہونے والے حالات اپنے اپنے انداز میں پیشین گوئیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس تجزیہ کاری میں اسرائیل کی شکست پر یقین قدر مشترک ہے جس کی بنیاد 28 فروری کو ایران پراسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملوں کے مؤثر جواب کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا منظر سے اچانک غائب ہونے کو معنی خیز قرار دے رہے ہیں لیکن اسرائیلی حکومت کی جانب سے کوئی تسلی بخش وضاحت دیکھنے میں نہیں آئی تاہم اسرائیلی میڈیا کی جانب سے نیتن یاہو کی فرضی مصروفیات اورغیر مؤثر اسباب ضرور منظر پرآئے جن سے اسرائیلی وزیراعظم کےغائب ہونےکی پراسراریت میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ عالمی میڈیا میں یاہو کی سلامتی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور افواہوں اضافہ دیکھنے میں آیا یہاں تک کہ ذرائع ابلاغ یا سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کے ملک سے فرار، ایرانی حملے کے نتیجے میں ہلاکت یا شدید زخمی ہونے اورایرانی حملوں سے جان بچانے کے لئے زمین چھوڑ کر فضا یا خلاء میں رہنے کی اطلاعات گردش میں رہیں جبکہ فضاء میں رہنے کی اطلاع کو بعض قابل قبول شواہد کی بنیاد پر درست تصور کیا جا رہا ہے-بعض شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنے ملک پر اپنی زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے زندہ رہنے کے لئے زمین چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور 90 فیصد وقت فضاء یا خلاء میں گزارنے کو بہتر تصور کیا اور اپنے سرکاری جہاز Wings of Zion پرخلاؤں کا رخ کیا جو آسٹریلین مسافر طیارے 767-338-ER میں ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کر کے تیار کیا گیا تھا۔ اس کے شواہد موجود ہیں کہ یہ طیارہ مختلف ممالک سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا اور ریڈار پر بھی اس کی نقل و حرکت برلن اور بحیرہ روم کے اوپر سے گزرتے ہوئے ریکارڈ کی گئی-نیتن یاہو نےجنگ میں ایران کے غلبہ سے گھبرا کر معمول کی زندگی محدود کرکے کاروبار زندگی معطل کیا اور منظر سے غائب ہوگیا یہاں تک کہ ابتداء میں ہی جنگ کے حوالے سے اہم اجلاسوں میں شرکت سے گریز شروع کردیا اور جب بھی فضائی حملہ کا خطرہ محسوس ہوا، اجلاس خواہ اس کی اہمیت جتنی بھی زیادہ ہو، منسوخ کردیا جاتا یا اجلاس کے دوران ہی گفتگو ادھورا چھوڑ کر نکل جاتا- اسرائیلی وزیراعظم نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں زیر زمین بنکرز میں پناہ لی لیکن ایران نے انہیں بھی تلاش کرکے تباہ کر کے نیتن یاہو کے لئے زمیں تنگ کردی نتیجتاً اسے خلاؤں میں پناہ لینا پڑی۔ لیکن کیا نیتن یاہو خلاؤں میں پناہ لے کر موت سے بچ سکے گا؟ اور زیرزمین بنکرز کو ملیامیٹ کرنے والا ایران Wings of Zion یعنی صیہون کے پروں کوکاٹنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔؟ کیا اسرائیل کو تباہی سے دوچار کرنے والے خیبر شکن میزائیل اس طیارے کو تلاش کرکے ہدف نہیں بنا سکتا؟ شکست اور موت سے خوفزدہ نیتن یاہو جو ذہنی طور پر شکست تسلیم کرچکا ہے اور اپنے انجام کو پہنچنے کے راستے تلاش کررہا ہے، وہ راستے جن کا انتخاب صدی کے بدترین آمر ہٹلر نے دوسری جنگ عظیم میں عبرتناک شکست کے بعد کیا تھا-عالمی سطح پر اٹھنے والے سوالات سے گھبرا کے اسرائیلی میڈیا نے مؤقف اختیار کیا کہ علاقائی حریفوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے ایک مختلف تصویر پیش کی ہے۔ ایران نے ایسی رپورٹس شائع کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ نتن یاہو ممکنہ طور پر حالیہ حملوں میں ہلاک یا زخمی ہو گئے ہیں۔ ان رپورٹس میں حالیہ براہِ راست ویڈیو کلپس کی عدم موجودگی کو بطور دلیل پیش کیا گیا۔ تاہم آزاد تجزیہ کاروں اور مرکزی دھارے کے میڈیا اداروں نے ان دعوؤں کو نفسیاتی جنگ یا ’’جنگی افواہیں‘‘ قرار دیا ہے جن کا مقصد عوامی حوصلے کو کمزور کرنا ہے۔ وہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ فرانس کے صدرِ کے ساتھ نیتن یاہو کی مبینہ ٹیلیفونک گفتگو جیسے سفارتی روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ وزیرِ اعظم بدستور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ سفارتی روابط خلا سے قائم نہیں ہوسکتے؟اسرایئلی میڈیا کا مؤقف اختیار کرتے نیتن یاہو کے فرار کی حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ شدید عسکری کشیدگی کے دوران سکیورٹی پروٹوکول کے تحت اکثر سربراہانِ مملکت کو “نامعلوم مقامات” یا محفوظ کمانڈ مراکز میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ ممکنہ ہدفی حملوں سے بچایا جا سکے۔ اگرچہ اس بات کا کوئی مصدقہ ثبوت نہیں کہ نتن یاہو مستقل طور پر کسی ’’بنکر‘‘ میں موجود ہیں، لیکن جون 2025 اور اس تنازع کے ابتدائی مراحل کی رپورٹس میں یہ ذکر ضرور آیا کہ فضائی کشیدگی کے دوران انہیں اعلیٰ سکیورٹی تنصیبات میں منتقل کیا گیا تھا۔ یہ ایک عام عسکری طریقۂ کار ہے جسے بعض اوقات مخالف میڈیا دانستہ طور پر “چھپنے” کے طور پر پیش کرتا ہے تاکہ ان کی عوامی سیاسی شخصیت کے برعکس ایک تاثر قائم کیا جا سکے۔

تازہ ترین