وقت کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے۔ کبھی عرب شہسواروں نے ایران فتح کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا ، جب موت کے خوف سے عرب آزاد تھے ۔ آج ایرانی موت کے خوف سے اوپر اٹھ چکے ۔ مار دینے یا شہید ہوجانے کے آرزومند ۔قرآن کہتاہے : اگر اللّٰہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھو ڑ دے تواس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے اور ایمان والوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ آل عمران 160
رسالت مآب ﷺ نے ارشافرمایا :قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے کہا:کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہوگے،لیکن سیلاب کی جھاگ کی مانند ، اللّٰہ تعالیٰ دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں " وہن" ڈال دئیگا، دنیا کی محبت اور موت کا ڈر۔ سنن ابوداؤد، 4297۔آج کون ہے جوموت سے خوفزدہ ہے اور کون ہنس کر اسے گلے لگا رہاہے ؟ ایران تو ایسی شجاعت کا مظاہرہ کر رہا ہےکہ درسی کتابوں میں پڑھایا جائیگا۔ یہ جو ہمارے عرب بھائی خوف کا شکار ہیں ، انہیں ایک اور آیت پر بھی غور کرنا چاہئے :تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آ پکڑے گی ، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو ۔النسا 78۔
بعض ہانپتے کانپتے دانشور دہائی دے رہے ہیں : بیچارہ ایران کب تک مقابلہ کرئیگا ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ امریکہ اور اسرائیل تھے ، جنہوں نے جنگ کاآغاز کیا۔ یوں تو لیبیا اور شام جیسے ممالک کو بھی امریکیوں نے پیس کے رکھ دیا ، جنہوں نے امریکہ پہ کبھی ایک کنکر بھی نہ پھینکا تھا۔ ایران نے آخری لمحے تک مذاکرات کیے ۔ بریک تھرو ہو چکا تھا، جب حملہ کر دیا گیا۔سب جانتے تھے کہ جنگ ہوئی تو ایران میں بہت تباہی ہوگی اور ایسا ہی ہوا۔ یہ مگر ایک بہت بڑا سرپرائز ہے کہ خطے میں امریکی اڈوں اور حتیٰ کہ اسرائیل کو تباہی سے دوچار ہونا پڑا ۔ تجزیہ کا ر کہتے ہیں ، روس یوکرین جنگ کے دوران جس طرح امریکہ نے جیسے اپنی تمام ٹیکنالوجیز آزمائیں ، وہی تجربہ اب روس اور چین امریکہ کےساتھ کر رہے ہیں ۔ عوام کو تو صرف میزائل گرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ عالمی طاقتیں ایک دوسرے کی جنگی مشینری اور حکمتِ عملی کا جائزہ لے رہی ہیں ۔ کل جب انکی براہِ راست جنگ ہوگی تو وہ پہلے سے تیار ہونگے ۔حملہ کرنے سے پہلے ایران کے سامنے اگر امریکی یا اسرائیلی ہدف کی تصاویر موجود ہوںتو یہ ایک ایسی عظیم مدد ہوتی ہے ، جسکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پاک بھارت جنگ میں بھی چین نے بہت سے بھارتی راز کھول کر پاکستان کے سامنے رکھ دیے تھے ۔بھارتی مشینری جام کر دی گئی تھی۔
یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکہ نے اگر کسی کا تحفظ کرنے کی کوشش کی تو وہ اسرائیل ہے ۔ عرب سلطنتیں بیچاری منہ دیکھتی رہ گئیں ۔ اسی دن کیلئے انہوں نے امریکی اڈے بنانے دیے تھے ۔ صورتِ حال مگر یہ ہے کہ سب کو نظر انداز کر دیا گیا ؛حتیٰ کہ خطے میں موجود امریکیوں کو بھی ۔ ماضی میں اس کا تصور بھی نہ کیا جا سکتا تھا۔ پاکستانی حکومت نے موقعے سے فائدہ اٹھا کر تیل مہنگا کر دیا۔ ہمارے پاس ایک ماہ کا ذخیرہ موجود تھا اور ابھی صرف دس دن ہوئے ہیں ۔ ایران اعلان کر چکا کہ صرف امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں تباہ کیا جائیگا۔ جس طرح پاکستان میں تیل کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں ،ایک سکینڈل کی بو آرہی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا : کیوبا کا انہدام بہت تیزی سے ہوگا۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران کو توہم تباہ کر چکے ، وہاں زمینی فوج بھیج کر وسائل ضائع کیوں کیے جائیں ۔ وینزویلا، ایران ، کیوبا اور پھر کون ؟ترکی یا پاکستان ؟ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو خدا نے پورے مشرقِ وسطیٰ پہ قبضے کا حق دے رکھا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ عظیم جنگوں کا دور آپہنچا۔ دنیا اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے ۔
امریکہ میں داخلی مسائل بھی بہت بڑھ گئے ۔ ٹرمپ نے امریکی اداروں کو بلڈوز کرکے رکھ دیا ہے۔ ٹرمپ کے اپنے سکینڈل کم نہیں تھے ۔ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی میں ٹرمپ کی تعینات کردہ سیکرٹری کرسٹی نیوم اور اٹارنی جنرل پام بونڈی بھی دادِ شجاعت دے رہی ہیں۔ کانگریس انہیں طلب کر رہی ہے ۔ دونوں خواتین کانگریس میں پیش ہوتی اور الٹا سوال کرنے والوں کو ذلیل کر کے رکھ دیتی ہیں ۔ کرسٹی نیوم کو بہرحال ہٹانا ہی پڑا۔ سینیٹر ملن جنہیں کرسٹی کی جگہ لگایا ہے ، وہ اور بھی زیادہ متنازع ہیں۔
کرسٹی نیوم نے مہنگے طیارے خریدے ۔ایک لگژری طیارے میں باقاعدہ بیڈروم موجود ہے۔ آئس ایجنٹس غیر ملکیوں ہی کو نہیں ، کم از کم دو امریکیوں کو بھی قتل کر چکے ۔ سرکاری ٹھیکے اپنے دوستوں کی جعلی کمپنیوں کو دیے جا رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے۔ امریکی سینیٹ اور کانگریس اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں ۔ادارے مزاحمت توکرر ہے ہیں لیکن ٹرمپ ایک آفت کی طرح امریکہ پہ نازل ہو ا ہے ۔ امریکی سوشل میڈیامطالبہ کر رہاہے کہ ٹرمپ اپنے فرزند بیرن کو ایران جنگ پہ روانہ کرے ۔ جیفیری ایپیسٹین نامی جنسی درندے کی فائلوں میں سے ٹرمپ کی فائلیں ڈیلیٹ کی گئی ہیں ۔ کل سابق صدر بل کلنٹن کو اسی جنسی سکینڈل میں کانگرس میں پیش ہونا پڑا ۔سبکدوش بوڑھےصدر کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔
کہتے ہیں، خدا نے جب کسی کو تباہ کرنا ہوتا ہے تو ڈنڈے نہیں برساتا، عقل سلب کرلیتاہے ۔ امریکیوں اور اسرائیلیوں کی عقل سلب ہو چکی ہے ۔ رہے ہمارے عرب بھائی تو وہ اب تک امریکہ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔
کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی، گلِ تر کی صورت