• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

8 عرب و مسلم ممالک کی مسجدِ اقصیٰ کی بندش کی شدید مذمت

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

8 عرب و مسلم ممالک نے ماہِ رمضان کے دوران مسجدِ اقصیٰ کی مسلسل بندش اور یروشلم کے قدیم شہر میں عبادت گزاروں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کی سخت مذمت کی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق قطر، اردن، انڈونیشیا، ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ تک فلسطینیوں کی رسائی محدود کرنا بین الاقوامی قوانین، بین الاقوامی انسانی قانون اور مذہبی مقامات تک آزادانہ رسائی کے اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان کے مطابق اسرائیلی اقدامات تاریخی اور موجودہ قانونی حیثیت کے بھی منافی ہیں جبکہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔

8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر مسجدِ اقصیٰ کے دروازے کھولے، قدیم شہر یروشلم میں عائد پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کو عبادت کی آزادانہ اجازت دے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کا پورا احاطہ صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے اور اس کی انتظامی و قانونی نگرانی اردن کی وزارتِ اوقاف سے وابستہ محکمۂ اوقاف یروشلم کے پاس ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے تناظر میں سیکیورٹی خدشات کے باعث سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔

ادھر فلسطینی وزارتِ خارجہ نے مسجد کی مسلسل بندش کو فلسطینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے جبکہ حماس نے بھی اس اقدام کو مذہبی آزادی کے خلاف خطرناک مثال قرار دیتے ہوئے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید