• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایپسٹین کیس کی فائلیں ایف بی آئی کے سرور سے ہیک کیے جانے کا انکشاف

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے نیویارک فیلڈ آفس میں موجود بدنامِ زمانہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقاتی فائلیں 2023ء میں ایک غیر ملکی ہیکر کی جانب سے ہیک کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے واقف ذرائع اور امریکی محکمۂ انصاف کی حالیہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ہیکر نے ایف بی آئی کے نیویارک فیلڈ آفس کے سرور تک رسائی حاصل کر لی تھی، اس واقعے کی تفصیلات پہلی مرتبہ سامنے آئی ہیں۔

ایف بی آئی نے ایک بیان میں اس واقعے کو سائبر واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک الگ تھلگ واقعہ تھا اور ادارے نے فوری طور پر ہیکر کی رسائی روک کر نیٹ ورک کو محفوظ بنا دیا، ایف بی آئی کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ہیکنگ 12 فروری 2023ء کو اس وقت ہوئی جب نیویارک فیلڈ آفس کے چائلڈ ایکسپلوئٹیشن فرانزک لیب کے سرور میں سیکیورٹی کمزوری پیدا ہو گئی۔

دستاویزات کے مطابق ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹ ایرون اسپائی ویک ڈیجیٹل شواہد کو سنبھالنے کے پیچیدہ طریقہ کار سے نمٹنے کی کوشش کر رہے تھے جس کے دوران سرور غیر ارادی طور پر غیر محفوظ رہ گیا۔

اگلے دن جب ایجنٹ نے اپنا کمپیوٹر آن کیا تو انہیں ایک ٹیکسٹ فائل ملی جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ان کا نیٹ ورک ہیک ہو چکا ہے، بعد ازاں تحقیقات میں سرور پر غیر معمولی سرگرمی کے آثار ملے جس میں ایپسٹین کیس سے متعلق فائلوں کو کھنگالنا بھی شامل تھا۔

تاہم دستاویزات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہیکر نے کون سی مخصوص فائلیں دیکھیں، آیا کوئی ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کیا گیا یا ہیکر کی شناخت کیا تھی۔

ذرائع کے مطابق یہ حملہ کسی ریاستی خفیہ ایجنسی کے بجائے ایک سائبر مجرم کی کارروائی معلوم ہوتا ہے، بتایا گیا ہے کہ ہیکر کو ابتداء میں یہ علم نہیں تھا کہ وہ کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سرور تک پہنچ چکا ہے، سرور پر بچوں کے استحصال سے متعلق تصاویر دیکھ کر اس نے غصے کا اظہار کیا اور ایک پیغام چھوڑا جس میں سرور کے مالک کو ایف بی آئی کے حوالے کرنے کی دھمکی دی۔

بعد ازاں ایف بی آئی حکام نے ویڈیو چیٹ کے ذریعے ہیکر کو قائل کیا کہ سرور دراصل ایف بی آئی ہی کا ہے، جس کے بعد صورتِ حال کو قابو میں کر لیا گیا۔

ماہرین کے مطابق ایپسٹین کیس کی فائلیں عالمی سطح پر بڑی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ ان میں سیاست، کاروبار، مالیات اور تعلیمی حلقوں کی کئی اہم شخصیات کے ساتھ اس کے روابط کا ذکر ہے۔

یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین نے 2008ء میں کم عمر لڑکی کو جسم فروشی کے لیے مجبور کرنے سمیت دیگر الزامات میں جرم قبول کیا تھا، انہیں 2019ء میں کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم وہ جیل میں مردہ پائے گئے اور حکام نے اسے خودکشی قرار دیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید