• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گریٹر اسرائیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہونے کے باعث ایران پر یہودی اور عیسائی صہیونی طاقتوں کے بلاجواز جارحانہ حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ جمعہ تیرہ مارچ کو دو ہفتے مکمل کرچکی ہے۔ دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ اور اس کے لاڈلے لے پالک اسرائیل کی واضح فوجی برتری کی بنا پر عام تاثر یہ تھا اور خود جارح قوتیں بھی اس خوش فہمی میں مبتلا تھیں کہ ان کے خوفناک حملوں سے ایران دوچار ہی دن میں ڈھیر ہوجائے گا۔لیکن قیادت اور عوام سمیت پوری ایرانی قوم جس عزم اور دلیری کے ساتھ صہیونی جارحیت کا مقابلہ کررہی ہے اور بھاری نقصانات برداشت کرنے کے بعد بھی جتنے بڑے پیمانے پر اسرائیل کے فوجی اہداف اور شرق اوسط کی خلیجی ریاستوں میں واقع امریکی اڈوں کو تباہ کررہی ہے، وہ امریکہ اور اسرائیل سمیت پوری دنیا کیلئے نہایت حیران کن ہے۔

ایران میں رجیم چینج کی جو توقع صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے باندھ رکھی تھی،اس کے پورا ہونے کے دور دور تک کوئی آثار نہیں ۔تاہم خلیجی ریاستوں میں واقع امریکی اڈوں پر اس دلیل کے ساتھ جاری حملوں نے کہ ان اڈوں سے ایران کے اندر فوجی اور شہری اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے یا بنایا جاسکتا ہے، ان ریاستوں کیلئے ایک مشکل صورت حال پیدا کردی ہے۔ عرب ملکوں نے اپنی سرزمین پر امریکہ کو فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت اس خوش فہمی کی بنا پر دی تھی کہ امریکہ بیرونی خطرات سے ان کی حفاظت کا ضامن ہوگا لیکن ایران کے خلاف واشنگٹن اور تل ابیب کے تباہ کن فضائی حملوں پر ایران کی جوابی کارروائی نے عرب ملکوں اور ایران کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ یہ صورت حال اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ کیلئے بہت سازگار ہے ۔ اس کے نتیجے میں دنیائے اسلام میں ایک باہمی جنگ شروع ہوگئی تو گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل بہت آسان ہوجائے گی۔

یو این سلامتی کونسل کی قرار داد جس میں خطے میں بدامنی و خوں ریزی کی ذمے داری اسرائیل کے بجائے ایران پر ڈال دی گئی ہے جس قدر غیرمنصفانہ اور جانبدارانہ ہے، وہ بالکل واضح ہے۔ یہ حقیقت کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ گزشتہ جون کی جنگ بھی اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مسلط کی تھی اور اب موجودہ لڑائی میں بھی جارح ایران نہیں بلکہ اس کے دشمن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا لیکن باقی تیرہ ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جن میں افسوسناک طور پر پاکستان بھی شامل ہے حالانکہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت خلیجی ریاستوں اور ایران میں مفاہمت کی بھرپور کوشش کرتی چلی آرہی ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ ہے لیکن ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں پاکستان کی شمولیت اور دیگر خلیجی ریاستوں اور ایران کے مابین جنگ ، پوری عرب دنیاکیلئے خود کشی کے مترادف ہوگی ۔ اس کے نتیجے میں امریکی حمایت کے ساتھ نیل سے فرات تک گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا بہت آسان ہوجائے گا کیونکہ عرب دنیا تباہ کن خلفشار اور شکست و ریخت کاشکار ہو جائے گی۔ سلامتی کونسل سے اپنی مرضی کی قرارداد منظور کروا کے اور روس کی پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کرکے صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ادارہ اقوام متحدہ کواسرائیلی امریکی مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی راہ ہموار کرلی ہے۔ان حالات میں عرب ممالک اور پوری مسلم دنیا کے مفادات کا تقاضا ہے کہ خلیجی ریاستیں اور ایران اپنے معاملات جنگ سے نہیں، افہام و تفہیم سے طے کریں۔عرب ریاستوں پر ایرانی حملوں کو بند کرانے کیلئے ایران کو یہ ضمانت اور اس کا عملی ثبوت دینا لازمی ہے کہ ان اڈوں کو ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ مئی کی پاک بھارت جنگ میں شاندار کارکردگی کے باعث پاکستان کو عالمی سطح پر جو اہم مقام حاصل ہوگیا ہے، اس نے اس حوالے سے ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی ذمے داریاں بہت بڑھا دی ہیں۔ دوسری جانب ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ مطالبات نہ مانے گئے تو ایران کے نئے قائد کو بھی ان کے والد کی طرح نشانہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ ایران کے نئے سربراہ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے ویڈیو بیان میں واضح کردیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈے بند نہ ہوئے توآبنائے ہرمز کی بندش جاری رہے گی چاہے پٹرول دو سو ڈالر فی بیرل کیوں نہ ہوجائے۔ انہوں نے امریکی حملے میں شہید ہونے والی اسکول کی بچیوں سمیت تمام شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

عربوں کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ ایران گریٹر اسرائیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کا قیام عرب ملکوں کے وسیع علاقوں کے اسرائیل کے ہاتھوں غصب ہو جانے کا باعث ہوگا۔ اس لیے ایران کی جنگ دراصل پوری عرب دنیا کے تحفظ اور بقا کی جنگ ہے۔ دوسری جانب پوری عالمی انسانی برادری کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اسرائیل ، امریکہ کی شہ کے ساتھ آخری چارہ کار کے طور پر ایران کو ایٹمی حملے کا نشانہ بناسکتا ہے۔یہودی اور عیسائی صہیونی اپنے مذہبی تصورات کے تحت آرمیگاڈون کی تیاری کررہے ہیں جسے احادیث نبویؐ میں ملحمۃ العظمیٰ یعنی عظیم ترین جنگ کہا گیا ہے۔مشرق وسطیٰ کے معاملات کے ممتاز ماہر پروفیسر جریمی سالٹ نے اپنے ایک تازہ مضمون میںاس امر کو تقریباً یقینی قرار دیا ہے کہ نیتن یاہو اپنے روحانی مشن یعنی گریٹر اسرائیل کے قیام کیلئے ایران کے خلاف کسی بھی انتہا تک جاسکتاہے۔ان حالات میں پوری انسانی دنیا کی بقا اور سلامتی کی خاطر ضروری ہے کہ مسلم ممالک کسی باہمی جنگ میں الجھ کر اپنی بربادی کا سامان کرنے کے بجائے کرہ ارض کو آرمیگاڈون کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے ہر ممکن تدبیر عمل میں لائیں جس میں روس اور چین کی شمولیت یقینا نتیجہ خیز ہوسکتی ہے جوایران کے خلاف سلامتی کونسل کی سراسر جانبدارانہ قرارداد کا بائیکاٹ کرکے اپنی سوچ واضح کرچکے ہیں۔

تازہ ترین