عید آ رہی ہے۔ چند روز بعد بڑے شہروں سے عارضی مکینوں کی آبائی علاقوں میں واپسی شروع ہو جائیگی۔ عید کی خوشیوں کے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے شہر ’’پردیسیوں‘‘ کے بغیر اُداس نظر آئیں گے، لیکن ٹھہریئے! وہ وقت قریب آنے والا ہے جب قدیم آبادیوں کی گلیوں محلوں میں دُکانوں، مارکیٹوں کی بھرمار ہو جائے گی۔ پوش آبادیوں کی سڑکیں کمرشل ہو جائیں گی۔ شاہراہوں پر کثیرالمنزلہ عمارتوں کی بھرمار ہو گی۔ ان عمارتوں میں قائم دفاتر، شاپنگ سنٹرز، جدید ریسٹورنٹس کا ہنگام ہو گا۔ یہاں آنے والوں کی وجہ سے ملحقہ پارک، کھلے مقامات پارکنگ کے تصرف میں چلے جائیں گے، قریبی رہائش گاہوں میں نت نئے ادارے ازقسم آئی ٹی سنٹر، میڈیکل لیبارٹریز، پرائیویٹ تعلیمی ادارے قائم ہو جائیں گے۔ باقی ماندہ کوٹھیوں میں جزوقتی طالب علموں کے ہوسٹل، چھوٹی پردیسی فیملیوںکیلئے کرائے کی رہائش گاہیں نمودار ہوں گی اور یوں پورا شہر لاہور ہو کراچی یا اسلام آباد سرکاری اہلکاروں کی اَن تھک کوششوں سے مرجع پردیسیاں بن جائیں گے۔ لیکن افسوس شہری تمدن قدیم ورثہ کے تحفظ کے دعوے داروں کی آنکھوں کے سامنے دفن ہو چکا ہو گا۔ ’’شہردار‘‘ شہر سے ہجرت کر جائیں۔ تب عیدوں پر یا جنگوں کی ہنگامی صورتِ حال کے دوران سارا شہر پردیسی بن کر اپنے اپنے علاقوں میں مراجعت کر جایا کرے گا۔ افسوس شہری تہذیبوں کا یہ زوال صدیوں کے دوران نہیں ہماری چند دہائیوں کی حرص و ہوس کا شاخسانہ ہے۔ 1990ء کی دہائی کی تو بات ہے، جب ہم لاہور تعیناتی کے دوران اپنے بزرگ وار ’’میاں صاحب‘‘ کی مہمان نوازی کا لطف اُٹھانے اندرون کشمیری گیٹ ان کی رہائش گاہ پر چلے جاتے۔ میاں صاحب والڈسٹی لاہور کی روایتی فیملی کے سربراہ تھے۔ اس دوران ان کے ہمراہ مقیم جواں سال بچوں سے دیسی ناشتے پر گپ شپ رہتی۔ بعدازاں پڑوس کی دیگر قدیم عمارات کے جائزہ کیلئے نکل جاتے۔ تب تک اندرونِ شہر کا یہ علاقہ مارکیٹوں اور دُکانداریوں سے پاک تھا۔ میاں صاحب اور ان کے بچوں کا پڑوسیوں سے سرراہ پُرخلوص میل ملاپ بتا رہا تھا کہ ابھی اندرونِ شہر کی روایتی تہذیب میں جان موجود ہے۔ برسوں بعد میاں صاحب کا انتقال ہوا تو ان کے بچے بھی اندرونِ شہر چھوڑ کر پوش آبادیوں میں منتقل ہو گئے۔ افسوس ان کی یہ نقل مکانی جدیدیت کے شوق میں نہیں تھی۔ پورے خاندان کو اندرونِ شہر اس لئے چھوڑنا پڑا کہ والڈسٹی میں زیرزمین اور بالائی منزلوں پر مارکیٹس بن چکی تھیں یہ کوئی ایک قدیم روایتی فیملی کی بات نہیں، ہزاروں خاندان بے ترتیب کمرشلائزیشن کے ہاتھوں آباء کی مکانیت کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تیزی سے رہائشی علاقوں کی کمرشلائزیشن نے گرین مقامات، زرعی اراضی اور شہر کے کھیل اور تفریحی کے مقامات تباہ کر دیئے ہیں۔ کمرشل بلڈنگ کے کنکریٹ نے شہری درجہ حرارت کو بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ کمرشل ازم کی وجہ سے جائیدادوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، لیکن شرفاء کے طبقہ کیلئےاس میں کوئی کشش نہیں وہ اپنے آبائی علاقوں کو نہیں چھوڑنا چاہتے، لیکن ان کے رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کی بھرمار ہے جسکی وجہ سے ماحولیات تباہ ہو چکی ہیں۔
بادلِ نخواستہ ان کو علاقہ چھوڑنا پڑ رہا ہے۔ یہی پہلو انسانی تہذیب و تمدن کیلئے زوال کا باعث ہے کہ تمدن مسلسل تبدیلی مکانیت کی وجہ سے جم نہیں پاتا۔پرانے رہائشیوں کی خالی کردہ عمارات پریا تو کمرشل بلڈنگز تعمیر ہوتی ہیں یا پھر پردیسی افرادی قوت کے عارضی ٹھہرائو کیلئے بطور کرایہ داری رہائش۔ اس بے ہنگم کمرشلائزیشن کی وجہ سے شہر میں کرایہ دار اور سنگل رہائشی افراد کی تعداد بڑھ جاتی ہے جو نجی دفاتر، تعمیراتی و تجارتی اداروں میں کام کرتے ہیں، لیکن تہواروں وغیرہ میں آبائی علاقوں کو واپس چلے جاتے ہیں اور یوں شہر میں عارضی مکینوں کا بسیرا اور سکونت بڑھ جاتی ہے۔
یہ تو ایک وجہ تھی کہ جس نے بے شمار پرانے خاندانوں کو کمرشلائزیشن کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور کر دیا اور بیشتر خاندان پوش علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اب نئی افتاد آ پڑی ہے کہ جسکی وجہ سے نئی نسل تیز رفتاری سے بلاامتیاز غریب اور امیر تن تنہا ہی ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اُونچے درجے کا افراطِ زر، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام، جان و مال کا عدم تحفظ اور ترقی کیلئے مسدود راہیں۔ یہ وہ وجوہات ہیں جنکی بنا پر نوجوان نسل اپنے بزرگوں کو چھوڑ کر اَن دیکھے دیسوں کا رُخ کر رہی ہے۔ اس رحجان نے پسماندہ آبادیوں کے ساتھ ساتھ پوش علاقوں کو بھی نوجوانوں سے محروم کر دیا ہے۔
شہر کی پوش آبادیوں میں بوڑھے ماں باپ ہیں یا پھر ان کے ہمراہ ڈرائیور، چوکیدار۔ آج کل ہم شہروں کی پرانی آبادیوں، عمارات اور تہذیب و تمدن کے تحفظ بارے بڑے پُرجوش ہیں۔ لیکن موجودہ دور کی تہذیب جو مستقبل کی نسلوں کیلئےنام نہاد تہذیبی ورثہ بننا چاہتی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں قصۂ پارینہ نہ بن جائے، کیوں کہ بڑے شہروں میں Land use تبدیل ہو رہا ہے۔ موجودہ نسلوں کے تعمیرکردہ گرین پارک کار پارکنگ میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ رہائشی عمارتوں پر کمرشل پلازے ایستادہ ہو رہے ہیں۔ کھیل کے میدانوں پر شادی گھر اور دفاتر تعمیر ہو رہے ہیں۔ گلی گلی اور ہر شاہراہ پر دُکانوں کی بھرمار ہے۔ رہائشوں کے مکین محلہ داریاں ختم کر کے بار بار نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ دریں صورت انسان تمدن کی مرئی یا غیرمرئی صورت کہاں میسر ہو گی؟ ہم نے تو اس صدی کی تہذیب میں خلا پیدا کر دیا ہے۔ آنے والی نسلیں ’’ثقافتی ورثہ‘‘ کے پائیدار تحفظ‘‘ بارے منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہمیں کہاں مقام دیں گی؟ ہمارا وجود کدھر ہے؟ ہمارے ورثے کو کب سکون، ٹھہرائو اور سکوت نصیب ہو گا؟