واشنگٹن (اے ایف پی) امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین سے دو ہفتے قبل بیجنگ میں اس حوالے سے غیر یقینی پائی جا رہی ہے کہ امریکی صدر کے اصل اہداف کیا ہوں گے، جبکہ ایران جنگ نے بھی اس اہم ملاقات پر سایہ ڈال دیا ہے۔ٹرمپ اپنے دوسرے صدارتی دور میں پہلی بار چین کا سرکاری دورہ کریں گے جہاں وہ چینی صدر ژی جن پنگسے 31 مارچ سے 2 اپریل کے دوران ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کا مقصد اس تجارتی جنگ میں عارضی وقفے کو مستحکم کرنا ہے جس پر دونوں رہنماؤں نے اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ملاقات کے دوران اتفاق کیا تھا۔تاہم بیجنگ، جو اس نوعیت کی سربراہی ملاقاتوں کو انتہائی منظم انداز میں ترتیب دینے کا عادی ہے، ٹرمپ کے غیر متوقع طرزِ سیاست کے باعث محتاط دکھائی دیتا ہے۔ مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے مطابق چینی حکام اس نوعیت کی اہم سربراہی ملاقات کے لیے زیادہ وسیع تیاریوں کی توقع کر رہے تھے۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ دورے کی تیاریوں کے حوالے سے بیجنگ کے ساتھ مسلسل رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک کی معیشتوں سے متعلق اہم معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ امریکی کسانوں، صنعت کاروں اور مزدوروں کے لیے تجارتی میدان کو متوازن بنانے کے خواہاں ہیں۔ادھر کاروباری حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ امریکی کاروباری رہنماؤں کو اب تک سرکاری وفد میں شامل ہونے کے لیے دعوت نامے نہیں بھیجے گئے۔ US-China Business Council کے صدر Sean Stein نے کہا کہ اتنے بڑے دورے کے لیے مضبوط کاروباری وفد کی موجودگی ضروری ہے۔