• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تنخواہ دار طبقے نے پہلے 8 مہینوں میں 365 ارب روپے ٹیکس دیا

اسلام آباد(مہتاب حیدر) پاکستان کی بے آواز تنخواہ دار طبقہ نے رواں مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں (جولائی تا فروری) میں انکم ٹیکس کی مد میں 365 ارب روپے ادا کیے ہیں، جو کہ تمام امیر طبقات—جن میں ریٹیلرز، تھوک فروش، برآمد کنندگان اور پراپرٹی ٹائیکونز شامل ہیں—کی مجموعی ادائیگی سے بھی زیادہ ہے۔ایف بی آر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تنخواہ دار طبقہ نے رواں مالی سال 2026 کے پہلے آٹھ مہینوں میں 365 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جبکہ گزشتہ مالی سال 2025 کے اسی عرصے میں یہ رقم 332 ارب روپے تھی۔ اگرچہ حکومت نے دعویٰ کیا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ابتدائی ٹیکس سلیبز میں معمولی کمی کی گئی ہے، مگر حقیقت میں ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب، حکومت کے پاس اب تک ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ آئندہ بجٹ 2026-27 میں ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کوئی نئی اسکیم متعارف کرائی جائے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں کچھ تجاویز زیر غور آئیں، لیکن ریٹیلرز سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔اگر ایف بی آر ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ناکام رہتا ہے تو تنخواہ دار طبقے کے لیے کسی ریلیف کی امید بھی ختم ہو جائے گی۔
اہم خبریں سے مزید