• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معمولی نوعیت کے مقدمات میں قید 422قیدی رہا

پشاور، سوات (نیوز رپورٹر، نمائندہ جنگ ) عید کے موقع پر پشاور سنٹرل جیل سمیت صوبے کے دیگر جیلوں سے معمولی نوعیت کے مقدمات میں قید 422قیدیوں کو جیلوں سے رہا کردیا گیا ہے ۔ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹس نے عیدالفطر 2026 سے قبل جیلوں کے خصوصی دورے کیے۔ ان دوروں کا مقصد معمولی نوعیت کے مقدمات کو قانون کے مطابق جلد نمٹانا تھا۔ڈسٹرکٹ سیشن ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹس نے دوروں کے دوران مجموعی طور پر 378 معمولی نوعیت کے مقدمات نمٹادیئے جو مختلف جرائم سے متعلق تھے۔ اس کے نتیجے میں ایسے مقدمات میں ملوث 422 قیدیوں کو قانونی ریلیف فراہم کرتے ہوئے مختلف جیلوں سے رہا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔یہ اقدام عدلیہ کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور انصاف کی بروقت فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔ہائیکورٹ انتظامیہ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد عیدالفطر کے موقع پر مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرنا ہے ۔چیف جسٹس نے اس عمل میں شریک تمام جوڈیشل افسران کی محنت، لگن اور ذمہ داری کے ساتھ فرائض کی انجام دہی کو سراہا ہے جس سے جیلوں میں قیدیوں کے بڑھتے ہوئے ہجوم میں کمی لانے میں بھی مدد ملی ہے۔جبکہ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی سید عمران علی شاہ نے ڈسٹرکٹ جیل سیدو شریف کا دورہ کرتے ہوئے قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی اور سنجیدہ جائزہ لیا۔ انہوں نے جیل کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے خوراک کے معیار، صفائی، طبی سہولیات اور مجموعی انتظامات کا بغور مشاہدہ کیا اور واضح ہدایات جاری کیں کہ قیدی بھی معاشرے کے اہم افراد ہیں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے، کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
پشاور سے مزید