قرآن کہتاہے ، جسے حکمت عطا کی گئی ، اسے خیرِ کثیر عطا کی گئی ۔ انسانی عقل میں اگر حکمت کارفرما نہ ہو تو وہ صرف اور صرف شارٹ ٹرم میں سوچ سکتاہے ۔ ایسا انسان چالاکی سے دوسروں کو چکمہ دے کر صرف قلیل مدتی فائدے حاصل کرسکتاہے ۔ جیسا کہ کئی بار لکھا ،انسانی عقل میں سے حکمت نکال دی جائے تو باقی ڈونلڈٹرمپ بچتاہے ۔ ایسا انسان اپنا تو جو بیڑہ غرق کرتا ہے ، سو کرتاہے لیکن اگر وہ کسی معاشرے کا لیڈر بن جائے تو اپنی قوم کو تباہ کر کے چھوڑتا ہے ۔حکمت کے ساتھ لانگ ٹرم میں سوچنے والے قائدِ اعظم محمد علی جناح اور ابرہام لنکن جیسے لوگ ہوتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جو راستہ اختیار کیا، وہ یہ تھا کہ امریکہ چونکہ دنیا میں سب سے زیادہ جنگی قوت رکھتاہے اس لیے دنیا کو دھمکا کر لوٹ لینا چاہئے ۔ جس کینیڈا سے انہیں شکوہ ہے کہ وہ جنگی مدد نہیں کر رہا ، اسے ہتھیانے کی کوشش کی۔ کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو سے کہا : کینیڈا کو 51 ویں امریکی ریاست بنا دو۔ وہ حیرت اور بے یقینی سے ٹرمپ کا منہ دیکھتا رہ گیا ۔ٹرمپ نے یورپ کو دھمکایا ۔امریکہ نے پہلےیوکرین کو ہلہ شیری دی۔ یورپ کے ساتھ مل کر2014ء میں روس نوازحکومت گرائی اور اپنی مرضی کی بنوادی ۔ اسکے بعد جو خوفناک جنگ یوکرین میں شروع ہوئی ، اس میں سب سے زیادہ کردار امریکہ ہی کا تھا۔ روسی فوج بے حد دلاوری سے لڑی۔ امریکی اور یورپی افواج تو لڑنے کے قابل ہی نہیں۔ انہیں بس ان کے جنگی گیجٹس پہنا کر، ہاتھ میں چاکلیٹ اور بیئر پکڑا کر فوٹو شوٹ کرتے رہو۔ 2011ء میں سلالہ چیک پوسٹ پرحملہ کر کے امریکیوں نے دو درجن پاکستانی فوجی شہید کر دیے ۔ اس پرجنرل کیانی نے نیٹو سپلائی روک دی اور چھ ماہ وہ رکی رہی ۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ نیٹو سپلائی میں سب سے بڑی مقدار میں ڈائپرز جایا کرتے تھے ۔ امریکی فوجی جب رات کو اپنی بکتر بم گاڑیوں میں گشت کیا کرتے تو پیشاب کرنے کیلئےباہر نکلنے کی ہمت نہ ہوتی ۔ برسبیلِ تذکرہ شاید ہی کسی کو یاد ہو ،جنرل کیانی نے زرداری حکومت کی طرف سے ایکسٹینشن کی پیشکش پر پہلی بار انکار کر دیا تھا۔ دوسری بار اصرا رپر یہ پیشکش قبول کی۔ آسٹریلیا میں جو جنرل کیانی کا جزیرہ ہے ، وہ صرف سوشل میڈیا کے سمندر میں پایا جاتا ہے ۔ ان کی کردار کشی کرنے والے دراصل وہ تھے ، جنکے دلوں میں کچھ باتوں کارنج تھا۔
ٹرمپ نے یوکرین میں شکست سامنے دیکھی تو زیلینسکی کو بے عزت کرتے ہوئے کہا : تم تیسری عالمی جنگ کا جوا کھیل رہے ہو۔ اگر امریکی ہتھیار تمہیں مہیا نہ ہوں ، تم دو ہفتے میں روس سے ہار جائو۔ پھر وہ دن بھی آیا، جب امریکہ نے زیلنسکی سے رابطہ کیااور پوچھا کہ وہ روسی ڈرونز سے کس طرح دفاع کرتے ہیں ۔ ایران کے بیس ہزار ڈالر کے ڈرون کو گرانے کیلئے امریکہ کا تیس لاکھ ڈالر کا میزائل استعمال ہو رہا تھا ۔ پوٹھوہار میں کہاوت ہے ،پنجابی اردو مکس کر کے سنیں تو مزہ آتا ہے: اتنے کا کھوتا نہیں تھا، جتنے کے ٹانڈے کھا گیا۔
صدر ٹرمپ نے چین سمیت پوری دنیا سے ٹیرف پہ جنگ کی ۔ صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر میکرون کو دھمکایا کہ وہ اپنے عہدے پہ برقرار نہ رہیں گے ۔ کل کیوبا کو دھمکایا ۔ وینزویلا کا صدر اغوا کر لیا ۔ساتھ بھکاریوں کی طرح نوبل انعام مانگتے رہے ۔ کہا: نیٹو کی ساری قوت امریکہ سے ہے ، ہم نکل جائیں تو تم کس قابل ہو ۔ یہ جو یورپ اتنا رنجیدہ ہے ، اسکی وجہ گرین لینڈ ہتھیانے کی کوشش بھی ہے ۔ نیٹو کی فنڈنگ کم کر دی ۔ یوکرین کی معدنیات ہتھیانے کی کوشش کی ؛حالانکہ امریکہ یوکرین کی مدد خود اپنی مرضی سے روسی جنگی قوت کم کرنےکیلئے کر رہا تھا ۔ امریکہ یہ سب کچھ عالمی چوہدراہٹ کیلئےکر رہا تھا ۔معدنیات کا توکبھی کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ مودی سرکار نے کہا کہ ہم نے پاکستان سے جنگ اپنی مرضی سے ختم کی تھی ، امریکہ کے کہنے پر نہیں ۔ اس کے بعد پے درپے بھارت کی بے عزتی کی اور اتنی دفعہ کی کہ کسی ملک کا کوئی صحیح الدماغ صدر کبھی یہ حرکت نہ کرتا۔
جس شخص نے بھی صدر ٹرمپ کے سامنے لیٹ جانے سے انکار کیا، وہ اسکی بے عزتی کے درپے ہو گئے ۔ 2025ءمیں جنوبی افریقن صدر سرل رمافوسا کی بے عزتی شروع کی تو اس نے کہا : میرے پاس (عرب بادشاہوں کی طرح ) کوئی طیارہ نہیں جو میں آپ کو تحفے میں پیش کروں (اور اپنی جان چھڑوا سکوں )۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ملک کو انتہائی پولرائز کر دیا۔ جھوٹ پہ جھوٹ بولتے چلے جانا ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے ۔ اب نیشنل کائونٹر ٹیررازم کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی خاطر یہ جنگ چھیڑی گئی ۔ امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔پوری دنیا میں ٹرمپ نے ایران جنگ کےنتیجے میں امریکی وقار کا جنازہ اٹھوا دیا ہے ۔ اب ٹرمپ کے حلیف اس ڈوبتی کشتی سے چھلانگیں لگاتے نظر آرہے ہیں کہ کم از کم اپنی عزت توبچا سکیں ۔
ٹرمپ جیسے جو انسان ہوتے ہیں ، انہیں اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ لفظ ہے Bully۔امریکہ میں مقیم غیر ملکیوں کی ٹرمپ نے بے بار بار بے عزتی کی۔ جوبائیڈن پہ الزام لگایا کہ چونکہ وہ مذاکرات کی صلاحیت نہیں رکھتے؛لہٰذا وہ ایران پہ حملہ کر دیں گے۔جوبائیڈن نے تو نہیں کیا ، ٹرمپ نے خود کر دیا۔ ٹرمپ کی پہلی صدارت سےمیں لکھتا آرہا ہوں کہ اس میں امریکہ کو تباہ کرانے کی مکمل استعداد موجود ہے ۔ جیسا کہ شیخ حسینہ کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ اگر قتل ہو جائے تو حیرت نہ ہوگی ۔ قتل تو نہ ہوئی ،خوشبو لگا کر اب بھارت بیٹھی ہوئی ہے۔ بہرحال ٹرمپ اور شیخ حسینہ جیسے حکمرانوں پہ جناب شعیب بن عزیز کا یہ شعر صادق آتا ہے ۔
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتاہے اس طرح کے کاموں میں