پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے انٹیلی جنس بیورو میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (بی پی ایس-17) کی تقرری سے متعلق دائر رٹ درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس صادق علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزار محمد آفاق کی درخواست کی سماعت کی ۔ درخواست میں اسکے وکیل میاں ذاکر حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے کیلئے باقاعدہ طور پر منتخب اور سفارش کئے جانے کے باوجود تاحال تقرری کا خط جاری نہیں کیا گیا۔درخواست گزار کے وکیل میاں ذاکر حسین ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے تحریری امتحان اور انٹرویو دونوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی، جبکہ تمام قانونی تقاضے، جانچ پڑتال اور تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد وفاقی پبلک سروس کمیشن نے انہیں تقرری کیلئے سفارش بھی کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے تحت درخواست گزار کو قانون کے مطابق مساوی سلوک اور تقرری کا حق حاصل ہے۔وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ایک بار جب کمیشن کسی امیدوار کی سفارش کر دے تو متعلقہ حکام کے پاس تقرری کا حکم جاری کرنے کے سوا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، تاہم اس کیس میں بلاجواز اور غیر قانونی طور پر تقرری کا عمل روکا گیا ہے۔ اگر اس آسامی کو دوبارہ مشتہر کیا گیا تو یہ درخواست گزار کے حقوق پر اثرانداز ہوگا۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ اداروں کو نئی بھرتی کا اشتہار جاری کرنے سے روکا جائے اور ایک نشست درخواست گزار کیلئے خالی رکھی جائے جب تک کہ کیس کا حتمی فیصلہ نہ ہو جائے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔