آسٹریلیا سے اپنے وطن پہنچنے والی ایرانی فٹ بال ٹیم کی کھلاڑی فاطمہ شعبان نے دعویٰ کیا ہے کہ آسٹریلوی پولیس نے ان پر ایران واپس نہ جانے کے لیے دباؤ ڈالا، تمام افراد کے پاسپورٹ چیک کیے، ہر کھلاڑی پولیس آفیسر کے ساتھ کمرے میں گئی، سب سے عجیب و غریب سوالات کیے گیے۔
انھوں نے محسوس کیا کہ وہ کہنا چاہ رہے تھے ان کی واپسی خطرناک ہوگی کیونکہ ایران حالتِ جنگ میں ہے۔
فاطمہ نے کہا کہ ان سے پوچھا گیا کہ فیملی سے بات کر کے پوچھ لیں کہ انہیں آسٹریلیا میں رکنا ہے یا جانا ہے، تو ان کا جواب تھا کہ جنہوں نے رکنا تھا وہ رک گئیں ہیں۔
مڈ فیلڈر فاطمہ شعبان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وطن واپس آکر بہت خوش ہیں، یہ ان کا گھر ہے، انہیں توقع نہیں تھی کہ اتنے لوگ استقبال کے لیے موجود ہوں گے، انہیں ایران کی بیٹی ہونے پر فخر ہے۔
خیال رہے کہ ویمن ایشیاء کپ میں قومی ترانہ نہ پڑھنے پر ایرانی فٹ بال ٹیم تنازعہ کا شکار ہوگئی تھی، فٹ بالرز کو آسٹریلیا میں پناہ کی پیشکش کی گئی 7 نے پناہ لی لیکن پھر 5 نے درخواست واپس لے لی تھی۔