امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف اربوں ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے، الزام لگایا گیا ہے کہ یونیورسٹی نے یہودی اور اسرائیلی طلبہ کے شہری حقوق کے تحفظ میں ناکامی دکھائی ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی نے غزہ جنگ کے خلاف ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران کیمپس میں یہود مخالف رویوں کو بڑھنے دیا جس کے باعث یہودی طلبہ کو تعلیمی مواقع تک مساوی رسائی حاصل نہیں رہی۔
دوسری جانب ہارورڈ یونیورسٹی نے اِن الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کو ٹرمپ انتظامیہ کی ’انتقامی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔
یونیورسٹی کا اپنے مؤقف میں کہنا ہے کہ اس نے کیمپس میں یہود مخالف واقعات روکنے کے لیے تربیتی پروگرام اور تادیبی اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت ہارورڈ کو اکتوبر 2023ء کے بعد ملنے والی تمام وفاقی گرانٹس واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے جن کی مالیت تقریباً 2.6 ارب ڈالر ہے۔
یہ مقدمہ امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ اسٹرنز کی عدالت میں سنا جائے گا جنہیں سابق صدر بل کلنٹن نے مقرر کیا تھا۔
جامعات پر دباؤ کی مہم
عرب میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے ہی امریکی جامعات پر دباؤ ڈال رہی ہے اور فلسطین کے حق میں ہونے والے احتجاج کو روکنے کے اقدامات کر رہی ہے۔
اس سے قبل کولمبیا یونیورسٹی کی 400 ملین ڈالر کی وفاقی فنڈنگ معطل کی گئی تھی جس کے بعد یونیورسٹی نے حکومت سے معاہدہ کرتے ہوئے تقریباً 220 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اسی طرز پر براؤن یونیورسٹی، ہارورڈ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین کے حامی غیر ملکی طلبہ کی گرفتاری اور ملک بدری کی کوششیں کی گئیں تاہم ایک وفاقی جج نے ایسے اقدامات کو آزادیٔ اظہار کی خلاف ورزی قرار دیا۔
گزشتہ برس امریکی عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا تھا کہ ہارورڈ کی گرانٹس میں 2 ارب ڈالر سے زائد کی کٹوتی غیر قانونی تھی۔
ادھر صدر ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں سوشل میڈیا پر ہارورڈ سے ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔