• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2021ء میں طالبان کی افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں واپسی، پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی وجہ

کراچی( ثاقب صغیر )2021میں طالبان کی افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں واپسی ،پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی بڑی وجہ،ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی جانب سے بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے سکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا کر دیے ، یرغمال بنائے جانے کے واقعات بڑھ گئے،دہشت گردی سے ہونے والی اموات زیادہ تر برکینا فاسو ،پاکستان ،نائجر ، نائجیریا اور کانگو تک محدود ر،2025میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 2020کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ رہی،پاکستان عالمی دہشتگردی انڈیکس میں پہلے نمبر پر آ گیا،گزشتہ برس دہشت گردی سے ہونے والی اموات زیادہ تر 5 ممالک میں مرکوز رہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے،پاکستان میں سال 2014سے 2019کے دوران دہشت گردی میں کمی آئی تھی تاہم 2025میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 2020کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ رہی جبکہ اموات 2013کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، برکینہ فاسو دوسرے،نائجر تیسرے، نائجیریا چوتھے، مالی پانچویں،شام چھٹے،سومالیہ ساتویں، کانگو آٹھویں،کولمبیا نویں،اسرائیل دسویں نمبر پر۔امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ پیس( IET ) کے گلوبل ٹیررازم انڈیکس ( GTI ) 2026 میں پاکستان پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق پاکستان کا جی ٹی آئی رینک 1اور جی ٹی آئی اسکور 8.574 ہے۔دوسرے نمبر پر برکینہ فاسو،تیسرے پر نائجر ، چوتھے پر نائجیریا، پانچویں پر مالی، چھٹے پر شام ، ساتویں پر سومالیہ ، آٹھویں نمبر پر کانگو ،نویں پر کولمبیا اور دسویں نمبر پر اسرائیل عالمی دہشت گردی انڈیکس میں موجود ہے۔اس انڈیکس میں بھارت کا رینک 13، ایران کا 18، فلسطین کا 22، امریکہ کا 28،ترکیہ کا36، فرانس کا35، برطانیہ کا38، چین کا54اور سعودی عرب کا80ہے۔جی ٹی آئی کی رپورٹ انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس نے تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلی مرتبہ پاکستان نے انڈیکس میں سب سے زیادہ اسکور حاصل کیا ہے اور دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے۔ یہ صورت حال دہشت گرد سرگرمیوں میں تیز رفتار اضافے کے باعث پیدا ہوئی جس کی ایک بڑی وجہ 2021 میں طالبان کی افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں واپسی بھی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی جانب سے بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے سکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات اب 2013 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں جہاں 2025 میں ملک میں 1,139 افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے جبکہ 1,045واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں دہشت گردی کے واقعات،اموات اور زخمیوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ یرغمال بنائے جانے کے واقعات وہ واحد اشاریہ تھے جن میں اضافہ ریکارڈ ہوا۔ یرغمالیوں میں یہ اضافہ زیادہ تر جعفر ایکسپریس ٹرین کے اغوا کے واقعہ کی وجہ سے ہوا جس میں 442 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔ اگر یہ واقعہ پیش نہ آتا تو 2024 سے 2025 کے درمیان یرغمالیوں کی مجموعی تعداد میں 30 فیصد کمی ہوتی۔اموات اور واقعات میں کمی کا اثر دنیا کے بیشتر حصوں میں دہشت گردی کے مجموعی اثرات میں بہتری کی صورت میں سامنے آیا۔ 2025 میں 81 ممالک نے گلوبل ٹیررازم انڈیکس (GTI) میں اپنی درجہ بندی بہتر کی جو اس انڈیکس کی تاریخ میں سال بہ سال دوسری بڑی بہتری ہے جبکہ صرف 19 ممالک کی صورتحال خراب ہوئی جو اب تک کی سب سے کم تعداد ہے۔رپورٹ کے مطابق چار مہلک ترین دہشت گرد گروہوں میں سے تین نے 2025 میں 2024 کے مقابلے میں کم اموات ریکارڈ کیں۔داعش سے منسوب اموات میں 12.5 فیصد، الشباب میں 23.9 فیصد اور جماعت نصرت الاسلام ولمسلمین میں 12.5 فیصد کمی ہوئی تاہم دنیا کے تیسرے مہلک ترین گروہ تحریک طالبان پاکستان میں اموات میں 14.8 فیصد اضافہ ہوا۔ ان چار بڑے گروہوں کی عالمی سرگرمیوں کا دائرہ بھی کم ہوا اور یہ 2024 میں 22 ممالک کے مقابلے میں 2025 میں 16 ممالک تک محدود ہو گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس دہشت گردی سے ہونے والی اموات زیادہ تر 5 ممالک میں مرکوز رہیں جن میں برکینا فاسو ،پاکستان ،نائجر ، نائجیریا اور کانگو شامل ہیں۔یہ پانچوں ممالک مل کر عالمی اموات کا تقریباً 70 فیصد حصہ بنتے ہیں تاہم برکینا فاسو میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی جہاں اموات 686 (45 فیصد) کم ہوئیں۔ نائجر میں بھی اموات 944 سے کم ہو کر 703 ہو گئیں۔ وسطی ساحل(Central Sahel) میں اموات میں کمی اس خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کو ظاہر کرتی ہے جہاں جماعت نصرت الاسلام ولمسلمین اب ریاستی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے سپلائی چینز کو نشانہ بنا رہا ہے۔نائجیریا میں اموات میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا جہاں 2025میں 237مزید ہلاکتیں ہوئیں۔ اسی طرح کانگو میں بھی اموات میں نمایاں اضافہ ہوا جہاں داعش سے وابستہ گروہ الائیڈ ڈیموکریٹک فورسز نے کئی مہلک حملے کیے اور اموات 365 سے بڑھ کر 467(28فیصد اضافہ) ہو گئیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان پہلی بار انڈیکس کے آغاز کے بعد دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک قرار پایا۔

ملک بھر سے سے مزید