اسلام آباد( مہتاب حیدر) پرائم انسٹی ٹیوٹ کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو حالیہ برسوں میں 50 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 1.75 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ پاکستان کی مقامی موبائل انڈسٹری ابھی تک 49 فیصد لوکلائزیشن کے ہدف کے مقابلے میں 10 فیصد سے بھی کم سطح پر ہے۔اسلام آباد میں ہفتے کے روز ہونے والی دو روزہ ٹیکس پیئر الائنس کانفرنس کے دوران PRIME انسٹی ٹیوٹ نے موبائل ڈیوائسز پر 18 فیصد جی ایس ٹی کی شرح کو ہم آہنگ (harmonise) کرنے کی سفارش کی۔رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں درآمد ہونے والے موبائل فونز پر ایک ٹائرڈ سیلز ٹیکس نظام لاگو ہے:500 ڈالر تک قیمت والے ڈیوائسز پر 18 فیصد ٹیکس ہے جبکہ 500 ڈالر سے زائد قیمت والے ڈیوائسز پر 25 فیصد (زیادہ بھاری) ٹیکس ہے۔اگرچہ اس پالیسی کا مقصد مہنگی درآمدات کی حوصلہ شکنی اور مقامی اسمبلرز کا تحفظ ہے، لیکن اس کے نتائج الٹ ثابت ہوئے ہیں، جن میں گرے مارکیٹ کا پھیلاؤ اور ریونیو لیکیج شامل ہیں۔سیلز ٹیکس 1990 کے ایٹھ شیڈول میں تجویز دی گئی ہے کہ درآمدی موبائل فونز پر قیمت کے لحاظ سے مختلف شرح ٹیکس کو ختم کر دیا جائے۔