• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے تاجروں سے مشاورت

اسلام آباد(مہتاب حیدر) حکومت آنے والے بجٹ 2026-27 میں ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایک “فکسڈ اسکیم” متعارف کرانے پر مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق تاجردوست اسکیم (TDS) کی ناکامی کے بعد حکومت ریٹیلرز کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے لیے نئے طریقۂ کار پر تاجروں سے مشاورت کر رہی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی حتمی تجویز پر آئی ایم ایف مشن سے تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی تاکہ بجٹ اور مالیاتی فریم ورک کو حتمی شکل دی جا سکے۔اعلیٰ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ “ہم متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ریٹیلرز کے لیے نئی اسکیم کو حتمی شکل دینے پر بات کر رہے ہیں، ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اعتماد بحال کیا جائے اور ٹیکس نظام پر موجود بداعتمادی کو کم کیا جائے تاکہ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔”ذرائع کے مطابق پچھلی تاجردوست اسکیم اس لیے ناکام ہوئی کیونکہ اس کا ڈیزائن کمزور تھا، جس میں ریٹیلرز کو سال میں 12 بار آسان فارم جمع کرانے اور پھر سالانہ گوشوارہ دینے کی شرط تھی، جو عملاً ناقابلِ عمل تھی۔سرکاری حکام نے اعتراف کیا کہ گزشتہ 30 سالوں میں اس طرح کی کئی اسکیمیں ناکام ہو چکی ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ آئندہ ہفتے آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ ریٹیلرز اسکیم کے اہم نکات پر بات چیت ہوگی اور اسے صرف اسی صورت میں فنانس بل کا حصہ بنایا جائے گا جب فنڈ کا عملہ اس کی منظوری دے گا۔حکام کے مطابق حکومت کا مقصد ہے کہ اس بار ریٹیلرز کو اعتماد میں لے کر اسکیم کو کامیاب بنایا جائے اور اس کے بعد ہی اسے آئندہ بجٹ میں شامل کیا جائے۔

ملک بھر سے سے مزید