• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ٹرمپ کو اچانک ایران سے مذاکرات کا خیال کیسے آیا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو

امریکی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ اچانک مذاکرات اور جنگ بندی کی بات اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ ہفتے وہ فلوریڈا روانگی کی تیاری کر رہے تھے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق روانگی سے قبل ٹرمپ کا مؤقف سخت تھا اور اُنہوں نے کہا تھا کہ جب آپ دوسرے فریق کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں تو سیز فائر نہیں کرتے۔

اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے تین دن کی مہلت اور ایران میں ایک پراسرار اہلکار سے مبینہ رابطے کے بعد ان کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی۔

ٹینیسی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں اور ہم یہ کرنے جا رہے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق اب تجویز زیر غور ہے کہ پاکستان رواں ہفتے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ ملاقات کی میزبانی کرے جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت بھی متوقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی مؤقف میں یہ تبدیلی خلیجی اتحادیوں کی جانب سے موصول ہونے والی وارننگز کے بعد آئی جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران کے توانائی مراکز پر کسی بھی حملے سے خطے میں خطرناک سطح تک کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اعلان کا وقت بھی اہم تھا، کیونکہ اسے پیر کے روز امریکی اسٹاک مارکیٹ کھلنے سے دو گھنٹے قبل جاری کیا گیا جس کے فوری بعد وال اسٹریٹ میں تیزی دیکھی گئی جبکہ برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق مارکیٹ کا ردِعمل اور توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے لیے اہم تشویش کا باعث بنا ہوا تھا جس نے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے فیصلے میں کردار ادا کیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید