• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی ثالثی، حملے 10 دن کیلئے مؤخر، مذاکرات بہت اچھے، ایران نے 10 تیل جہازوں کا تحفہ دیا، ٹرمپ

تہران/واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک) پاکستان کی ایران اور امریکا کی جنگ میں ثالثی کے کردار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملے مزید10روز کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات بہت اچھے جارہے ہیں ‘ٹرمپ نےاس تاثر کو مسترد کیاہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بے چین ہیں یا جنگ سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں‘ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ایران ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے‘ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سےپاکستانی پرچم بردار 10 آئل ٹینکرزکو گزرنے کی اجازت بطور تحفہ یہ ظاہر کرنے کے لیے دی کہ وہ جنگ بندی کے لیے سنجیدہ ہے تاہم انہوں  نے خبردار کیا ہے کہ تہران مذاکرات میں سنجیدگی دکھائے قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے‘ایک بار دیر ہو گئی تو دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کابینہ کے اجلاس میں تہران کی جانب سے مذاکرات کے لیے تیار ہونے کے "مضبوط اشاروں" کا ذکر کیا، اور پہلی بار عوامی سطح پر اس بات کی تصدیق کی کہ واشنگٹن نے پاکستانی حکام کے ذریعے تہران کو 15 نکات پر مشتمل ایک "ایکشن لسٹ" (عمل درآمد کی فہرست) فراہم کی تھی۔دوسری جانب ایران کے سینئر سیاسی وسکیورٹی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تہران نے واشنگٹن کی 15نکاتی تجاویز پر ردعمل دیدیاہے اور اب سے جواب کا انتظار ہے‘ایرانی عہدیدار نے امریکی تجاویز کو یکطرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا تاہم یہ بھی کہا کہ سفارت کاری راستہ بدستور کھلا ہےجبکہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکی تجاویز کو ملک کی اعلیٰ قیادت تک پہنچا دیا گیا ہے ۔ فی الحال ہماری پالیسی مزاحمت جاری رکھنے اور اپنے ملک کا دفاع کرتے رہنے کی ہے‘ فی الوقت ہمارا مذاکرات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی کوئی مذاکرات ہوئے ہیں ۔ ایران نے خبردار کیاکہ اگر امریکا نے جزیرہ خارگ پر زمینی کارروائی یا قبضے کی کوشش کی تو وہ آبنائے باب المندب کوبھی بند کر سکتا ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن کو ملاتی ہے جبکہ یمن کے حوثیوں نے بھی جنگ میں شامل ہونے کی دھمکی دیدی ہے ۔مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کابینہ اجلاس کے دوران بتایاکہ ایسے مضبوط اشارے ملے ہیں کہ تہران لڑائی ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر تیار ہے‘ہم ایران کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے جہاں ان کے پاس موت اور تباہی کے سوا کوئی دوسرا بہتر راستہ نہیں ہے ‘ معاہدہ ہونے کے اچھے امکانات ہیں اور اگر ایسا ہو جاتا ہے کہ یہ ایران ، خطے اور بلکہ دنیا بھر کے لیے اچھا ہوگا۔ وٹکوف کا کہنا ہے کہ15نکاتی امن منصوبہ بذریعہ پاکستانی حکومت ایران تک پہنچایا گیاہے‘ مذاکرات میں پاکستانی حکومت ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر امریکی صدرنے اعلان کیاکہ تہران حکومت کی درخواست کے بعد ایرانی پاور پلانٹس پر فی الحال وہ حملے نہیں کریں گے‘ان حملوں کو6اپریل تک یعنی دس روز کیلئے ملتوی کردیاگیاہے ۔انہوں نے مزید لکھاکہ مذاکرات جاری ہیں اور فیک نیوز میڈیا اور دیگر کے متضاد اور غلط بیانات کے باوجود مذاکرات بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔قبل ازیں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سخت لہجے میں لکھاتھاکہ بہتر ہے کہ ایران جلد سنجیدہ ہو جائے ‘ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، کیونکہ ایک بار ایسا ہو گیا تو واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا اور یہ صورتحال اچھی نہیں ہوگی۔ بعد ازاں کابینہ اجلاس میں ٹرمپ نے بتایا کہ ایران نے خیر سگالی کے طور پر 10 تیل بردار بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ مذاکرات میں اپنی سنجیدگی ثابت کر سکے‘ وہ اپنی بات میں سچے تھے اور ان جہازوں پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ وائٹ ہاؤس میں90منٹ تک جاری رہنے والے اجلاس کے دوران ٹرمپ کبھی ایران کو "نیست و نابود" کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے اور کبھی یہ دعوے کہ ایران ہتھیار ڈالنے کے قریب ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کے تیل کے ذخائر کا کنٹرول سنبھال سکتا ہےتاہم یہ ایک آپشن ہے۔اجلاس کے دوران ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے تین ہفتے پہلے طیارے بھیجنے کی پیشکش کی تھی یہ وہ وقت تھا کہ جب جنگ پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔میں نے انہیں کہاکہ آپ کا بہت شکریہ۔ زحمت نہ کریں، ہمیں اب اس کی ضرورت نہیں ۔ ٹرمپ کے مطابق برطانیہ کے طیارے اتنے بہترین نہیں ہیں‘وہ ہمارے مقابلے میں کھلونوں جیسے ہیں۔نیٹونے ایران کے خلاف بالکل مدد نہیں کی‘میں نے دنیا پر ایک عظیم احسان کیا ہے‘دنیا نے اس کا صلہ نہیں دیا‘ یہ انہیں بہت مہنگا پڑے گا‘ ٹرمپ کا مزید کہناتھاکہ ایرانی بیکارجنگجو مگر زبردست مذاکرات کارہیں ۔اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ٹرمپ کودنیاکی آزادی کیلئے کام کرنے پر سراہا اورکہاکہ ہم معاہدے کیلئے دعاگو ہیں اوراس کا خیرمقدم کرین گے لیکن اس دوران محکمہ جنگ بموں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا ۔ ادھریمن کی ایران نواز حوثی تحریک کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ضرورت پیش آئی تو حوثی اپنا ’’عسکری ردعمل‘‘ بھی دکھائیں گے۔عبدالمالک الحوثی نے کہاکہ یمن کے عوام کے طور پر ہم وفاداری کا جواب وفاداری سے دیتے ہیں۔ جنگ میں اگر کوئی ایسی پیش رفت ہوتی ہے جس پر فوجی ردعمل ضروری ہوا، تو ہم فوری طور پر اقدام کریں گےجیسا کہ ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید