کراچی(سید محمد عسکری)ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں وزٹنگ فیکلٹی کی تقرری، تدریسی ذمہ داریوں، معاوضوں اور نگرانی کے نظام سے متعلق جامع گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں جن کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں تدریسی معیار بہتر بنانا، غیر شفاف بھرتیوں کی روک تھام کرنا اور طلبہ کو معیاری اساتذہ کی فراہمی یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔ایچ ای سی کی جانب سے جاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران جامعات میں وزٹنگ فیکلٹی پر غیر معمولی انحصار بڑھ گیا تھا جس کے باعث مستقل اساتذہ کی کمی، تدریسی معیار میں تفاوت، غیر مساوی معاوضوں اور بعض اداروں میں میرٹ سے ہٹ کر تقرریوں سے متعلق شکایات سامنے آرہی تھیں۔ ان خدشات کے پیش نظر کمیشن نے پہلی مرتبہ جامع اور یکساں پالیسی فریم ورک متعارف کرایا ہے۔گائیڈ لائنز کے مطابق وزٹنگ فیکلٹی کی تقرری صرف حقیقی تدریسی ضرورت کے تحت کی جاسکے گی اور جامعات کو پابند کیا گیا ہے کہ مستقل نوعیت کے کورسز کے لیے ریگولر فیکلٹی کی بھرتی کو ترجیح دی جائے۔ پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ وزٹنگ فیکلٹی مستقل اساتذہ کا متبادل نہیں ہوگی بلکہ صرف مخصوص مہارت، وقتی ضرورت یا محدود کورس ورک کے لیے خدمات حاصل کی جاسکیں گی۔ایچ ای سی نے ہدایت کی ہے کہ وزٹنگ اساتذہ کی تقرری مکمل شفافیت کے ساتھ مشتہر آسامیوں، واضح اہلیت اور مسابقتی عمل کے ذریعے کی جائے۔ تمام امیدواروں کی تعلیمی قابلیت، تدریسی تجربہ، تحقیقی کام اور پیشہ ورانہ مہارت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا جبکہ کسی بھی قسم کی اقربا پروری، مفادات کے ٹکراؤ یا غیر شفاف طریقہ کار کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔پالیسی کے تحت وزٹنگ فیکلٹی کے لیے کم از کم تعلیمی معیار بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ متعلقہ مضمون میں اعلیٰ ڈگری، تدریسی تجربہ اور بعض شعبوں میں عملی یا انڈسٹری تجربے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ایچ ای سی نے کہا ہے کہ پروفیشنل پروگرامز میں انڈسٹری ماہرین کو بھی وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر شامل کیا جاسکے گا تاکہ طلبہ کو عملی دنیا سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کی جاسکے۔