• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے توسط سے امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کی خاطر جاری مذاکرات عالمی امن کیلئے بلاشبہ امید کی کرن ہیں۔ملک کی موجودہ سیاسی وعسکری قیادت کو اس ضمن میں بیک وقت ایران، امریکہ، سعودی عرب، دیگر خلیجی ریاستوں نیز چین اور روس سب کا اعتماد حاصل ہونا، پاکستان کیلئے یقیناً ایک قابل فخر اعزاز ہے۔ ایران کی قیادت اور امریکی صدر دونوں پاکستان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ دونوں فریقوں کے مطالبات پاکستان کی وساطت سے ایک دوسرے تک پہنچ رہے ہیں اور دونوں جانب غور و خوض کا عمل جاری ہے۔

صدر ٹرمپ دھمکیاں دے کر ایران کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات کا تصفیہ کرنے کی خاطر انہوں نے ایران کو بزعم خود پانچ دن کی جو مہلت دی تھی ، اس میں اس بنیاد پر مزید دس دن کا اضافہ کردیا ہے کہ پاکستان کے توسط سے جاری بات چیت کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات نمایاں ہیں۔بھارت کے سرکاری حلقے پاکستان کی اس عالمی مقبولیت کو دیکھ کر انگاروں پر لوٹ رہے ہیں اور اپوزیشن اس صورتحال پر نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے کہ انہوں نے غزہ میں شہری آبادی کا قتل عام کرکے عالمی رائے عامہ کی نفرت کا ہدف بن جانے والے اسرائیلی وزیر اعظم کو بھائی بنا کر بھارت کو عالمی تنہائی میں مبتلا کردیا ہے جبکہ پاکستان بہترین سفارت کاری کے ذریعے عالمی منظر نامے پر مسلسل ترقی کا سفر طے کررہا ہے۔

ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی مشترکہ کارروائی کی بنا پر مودی بظاہر یہ سمجھ رہے تھے کہ ایران بھی وینزویلا کی طرح ایک ہی ہلے میں ڈھیر ہوجائے گا اور نیتن یاہو کے گریٹر اسرائیل منصوبے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ اس مہم میں اسرائیل کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرانے کیلئے انہوں نے فوری طور پر اسرائیل کا دورہ کیا اور نیتن یاہو سے مل کر پاکستان کے خلاف بھارت اسرائیل مشترکہ سازشوں کا منصوبہ بنایا جس کا اظہار دونوں لیڈروں کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں بھی کیا گیا تھا لیکن پہلگام ڈرامے اور جنگ مئی کی طرح خدا کے فضل سے مودی کو ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی۔بھارت نے ایران سے دیرینہ دوستی کو بھلا کر اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا جو مظاہرہ کیا، امید ہے کہ اس کے بعد ایرانی قیادت پھر کبھی بھارت کی جھوٹی دوستی کے فریب کا شکار نہیں ہوگی اور امریکہ ایران مفاہمت نیز سعودی عرب اور ایران کو قریب لانے کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کوششیں پاک ایران دوستی کو ناقابل شکست بنادیں گی۔

پاکستان کے توسط سے جاری امریکہ ایران مذاکرات کی کامیابی دنیا کو ایک ایسی ہولناک اور ہمہ گیر جنگ سے بچاسکتی ہے جو چھڑ گئی تو اس کی براہ راست یا بالواسطہ تباہ کاریوں سے کرہ ارض کا کوئی خطہ محفوظ نہیں رہے گاجبکہ فی الوقت بھی تیل کے بحران کی شکل میں دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ جنگ کے منفی اثرات بھگت رہا ہے اور بین الاقوامی معیشت کو سنگین نتائج کا سامنا ہے۔ ایران اور شرق اوسط کے تمام ممالک میزائل حملوں کے نتیجے میں بڑا نقصان اٹھا چکے ہیں اور تیل و گیس کی تنصیبات کے ساتھ اگر پانی کے ذخائر بھی جنگ کا ہدف بنے تو کروڑوں انسان پینے کے پانی سے محروم ہوکر ہلاکت سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ دنیا کو اس ابتر صورت حال سے دوچار کرنے کے سب سے زیادہ ذمے داریقینی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں ۔ انہوں نے گزشتہ سال جون اور اس سال فروری کی آخرمیں تہران کے ساتھ کامیاب ہوتے مذاکرات کے آخری مرحلے میں کھلی دھوکا دہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کی ملی بھگت سے ایران پر تباہ کن میزائل حملوں کے ذریعے ایران کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت اور سائنسدانوں کو نشانہ بنایا۔تاہم امریکہ اور اسرائیل کی یہ چالبازی الٹی ان کے گلے پڑگئی۔ ایرانی قیادت اور پوری ایرانی قوم نے بے مثال عزم، حوصلے اور دلیری کے ساتھ جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے فوجی اہمیت کے ٹھکانوں اور خلیجی ملکوں میں موجود امریکی اڈوں پر مسلسل میزائل برساکر امریکی و اسرائیلی مفادات کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ ایرانی قیادت ٹرمپ کی کسی دھمکی کو خاطر میں نہ لائی اور اپنے رہنماؤں کی پے درپے شہادت کے باوجود پوری ثابت قدمی سے محاذ پر ڈٹی رہی۔آبنائے ہرمز کی بندش نے ایران کی تزویراتی پوزیشن بہت مضبوط کردی ۔ اسے پانچ دن میں کھولنے ورنہ خطرناک نتائج بھگتنے کی امریکی دھمکیاں کارگر نہ ہوئیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوئے اور اس ضمن میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں میں پورا تعاون کررہے ہیں۔ ایران کو دیے گئے الٹی میٹم میں دس دن کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں پاکستان کی سہولت کاری کے نتیجہ خیز ہونے کی خاصی توقع ہے جس کا اظہار انہوںنے اپنے بیان میں بھی کیا ہے۔ امریکہ کے خصوصی ایلچی وٹکوف نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کا پندرہ نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچادیا گیا ہے جبکہ ایران کی پانچ شرائط سے پاکستان نے امریکہ کو مطلع کردیا ہے۔

ایران نے امریکہ اور اسرائیل جیسے لامحدودوسائل کے حامل ملکوں کو اپنی قومی انا و خودداری اور اللّٰہ پر بھروسے کی طاقت سے جس رسوائی سے دوچار کیا ہے، انسانی تاریخ میں اس کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔موجودہ واقعاتی صورتحال سے یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہے کہ ایرانی قوم کسی ظالم و جابر طاقت کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سرکٹانے کو تیار ہے لہٰذا یہ توقع عبث ہے کہ امریکہ اس سے غیرمنصفانہ مطالبات منوا سکے گا۔ ان حالات میںپاکستان کی ثالثی اگر کسی ایسے امن معاہدے کا ذریعہ بن گئی جو جنگی وسائل کے بل پر من مانی کی خواہشمند طاقتوں کو لگام دے سکے تو یہ ایک تاریخ ساز کارنامہ ہوگا اور بین الاقوامی سطح پر اس کے اثرات نہایت خوشگوار اور دور رس ہوں گے۔

تازہ ترین