جی ہاں! زمین انسانوں سے سخت ناراض ہے اور خفا بھی، لیکن شاید عام انسانوں سے نہیں کہ وہ تو خودستم کا شکار ہیں۔ زمین ان بزرجمہروں سے ناراض ہے جنہوں نے تجارتی ہوس کے زیراثر زمین کا سینہ و پیٹ چھلنی کر دیا ہے۔ زمین کے قدرتی وسائل پر غیرمنصفانہ قبضہ کیلئے چھوٹے بڑے ملکوں کی قیادتوں اور طاقتوں کی مدد سے امن عالم کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ وہ بالخصوص زمینی ایندھن یعنی تیل، گیس و کوئلہ کی تجارتی جنگ میں عام انسانوں کو، زمینی حیات کو ایندھن بنا رہے ہیں۔ نوعِ انسانی کو دشمنیوں کے زیراثر تقسیم کر رہے ہیں۔ ملٹی نیشنل تجارت کے زیراثر بڑی طاقتوں نے چھوٹے ملکوں کےبے وقوف گروہوں کو عوام کو نہ صرف مذہبی، لسانی، علاقائی عصبیتوں کا شکار کر دیا ہے، بلکہ انکے قدرتی وسائل اپنی جنگی مشینوں کے اخراجات کے بہانے زیر تسلط کئے جا رہے ہیں۔ کوئلہ، تیل اور گیس کے حصول کیلئے شروع کی گئی ان جنگوں نے زمین پر فساد برپا کیا ہوا ہے تو انکا استعمال بھی زمین اور خلق خدا کیلئے عذاب بن چکا ہے۔ یہ ہائیڈروکاربن زمینی حدت میں شدت کے بڑے ذمہ دار ہیں۔ دنیا بھر میں ماحولیاتی تباہی اور تبدیلیوں کی بنیادی ذمہ داری CO2 کا اخراج بھی ہائیڈروکاربن کے جلنے کا شاخسانہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قحط سالیاں، سیلاب، سمندری طوفان قیامت ڈھا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر صرف پاکستان میں ان تباہ کاریوں نے 40بلین ڈالر کا نقصان کیا ہے۔ ہر پانچ میں سے ایک موت ان ایندھنوں کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ کاربن گیسوں کے اخراج کی بنا پر محض 2018ء کے دوران اَسّی لاکھ بچوں کی نوزائیدگی میں اموات واقع ہوئیں، جبکہ فضائی آلودگی کی وجہ سے دل کی بیماریاں، پھیپھڑوں کا کینسر، سانس کی بیماریاں تیزی سے جنم لے رہی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق تیل کی بڑی کمپنیوں کے ماحول کش کاروباری استعمال کی وجہ سے 1985-2018ء کے عرصہ میں 80 ٹریلین ڈالر کا ماحولیاتی نقصان ہوا۔ سمندری طوفانوں، فضائی آلودگیوں کے تدارک کیلئے امریکہ کو 2016-2020ء کے چار سال میں 606بلین ڈالر کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ تصور کیجئے پوری زمین پر اس نقصان کا تخمینہ کیا ہو گا۔ چنانچہ زمین کی انسانی قیادت پر خفگی بے جا نہیں۔
زمین ہرگز قدرتی وسائل کے استعمال سے انکاری نہیں ہے، لیکن اس کا مقدمہ ہے کہ ان وسائل کو انسانی نسلیں اپنے اور دیگر مخلوقات کے منصفانہ استعمال کیلئے حاصل کریں، خرچ کریں، بے جا تصرف نہ کریں، اپنی تجارتی ہوس کے زیراثر جلد خاتمہ نہ کریں، آنے والی نسلوں کے لئے بھی رکھ چھوڑیں۔ قدرتی وسائل کے استعمال کے دوران زمینی ماحولیات کو پراگندہ نہ کریں۔ اگر وہ پراگندہ ہو جائیں تو ماحولیاتی اصلاح کے لئے تمام بنی نوع انسان مشترکہ ذمہ داریوں کو نبھائیں۔ یہ پھول، پھل اور غذائیں فراہم کرتے ہیں۔ یہ ساری بہاریں اور نعمتیں زمینی سرپرستیوں میں ہی تو زیرعمل ہیں۔ زمین بنیادی عوامل ہے اور یہ عمل لاکھوں کروڑوں سال سے جاری ہے، کیوں کہ ان ساری زمینی نعمتوں کے استعمال کے بعد یہ ہوائیں، پانی، معدنیات، نمکیات دوبارہ دھرتی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ بار بار استعمال ہوتے ہیں، پھر واپس زمین کی طرف مراجعت کر جاتے ہیں۔ اسی لئے زمین کو ان نعمتوں کی چنداں فکر نہیں۔ ہاں البتہ زمینی ایندھن یعنی کوئلہ، تیل، اور گیس بارے یہ دھرتی بہت حساس ہے۔ یہ ہائیڈروکاربن زمین کی ریڈلائن ہیں۔ انکوزمین نے کروڑوں سال تک الجائی، بیکٹیریا اور پودوں کی کثیر تعداد اور مقدار کو اپنے بطن میں محفوظ رکھا۔ ان کو اپنے بدن کی حدت سے گرماتی رہی۔ تب یہ سارے نباتات اور مائیکرو اجسام کوئلہ، تیل اور گیس کی شکل میں ڈھل گئے۔ نہ جانے کس مقصد کے لئے اور کس استعمال کے لئے یہ نعمتیں زمین کی تہوں میں کروڑوں سال سے محفوظ چلی آ رہی تھیں، لیکن شاید وہ شیطانی قوتوں کے لئے خوش قسمتی کی گھڑی تھی کہ اس زمینی ایندھن کے وجود اور استعمال کی انسانی آبادیوں میں مخبری ہو گئی۔ جو اپنی حرص و ہوس کے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنی طاقتوں کو لے کر اس پر چڑھ دوڑے اور یوں بنی نوع انسان کے بدقسمت ادوار 17ویں اور 18ویں صدی عیسوی میں صنعتی انقلاب کے ساتھ سے شروع ہو چکے تھے۔ کوئلہ، تیل اور گیس کی توانائی آج عالمی تجارت اور اقتصادیات کی جان بن چکی ہے۔ عالمی نقل و حمل میں 90فیصد حصہ اسی توانائی کا ہے۔ انسان کی ابتدائی لغزش تھی کہ اس نے صنعتی مقاصد کیلئے ایندھن کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا۔ دوسری حماقت میں ان ذخائر اور خطوں پر قبضہ کے لئے عسکری قوتوں کا استعمال عالمی امن کیلئے نیک فال ثابت نہ ہوا۔ 1970ءکے بعد تو ہائیڈروکاربن ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔ 1990 کی گلف وار ہو، 2003 ءکے دوران عراق پر امریکی قبضہ، عراق اور ایران کی طویل جنگ ہو، یا انگولا کی خانہ جنگی، حالیہ ایام میں وینزویلا پر امریکی فوجیوں کا دھاوا ہو یا اس وقت جاری ایران، اسرائیل، یو اے ای، سعودی عرب کے مابین غیرعلانیہ جنگی جھڑپیں، یہ سب عالمی تجارتی اداروں، عالمی، علاقائی قوتوں کے حلیفوں اور حریفوں کے مابین تیل و گیس کی چھیناجھپٹی کے لئے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ آئل فیلڈز، تیل کے کنوئوں، پائپ لائنوں، آبنائوں، سمندری راستوں پر تسلط کے لئے قبضہ کرنے کے لئے زمین دشمن قوتوں نے امن عالم کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے۔ اب بھی وقت ہے انسانی قیادتیں کہ جنہوں نے باہمی اتحاد کر کے جنگوں کا تماشا لگایا ہوا ہے، عام انسانوں اور دھرتی ماں کی تذلیل و تحقیر اور استحصال کے سلسلے شروع کئے ہوئے ہیں، وہ اپنی شیطانی حکمت عملی سے تائب ہو جائیں۔ تیل و گیس کی بجائے ماحول دوست وسائل ازقسم شمسی توانائی، ہوائی توانائی، جدید ایٹمی توانائی، فیوژن توانائی، جدید جیوتھرمل، Digital-twin وغیرہ کی طرف رجوع کر لیں تاکہ انسان، زمینی مخلوق اور دھرتی ماں پُرسکون ہو سکیں۔