انگریزی زبان کا مشہور شاعر اور دنیا کا بڑا ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر محبت کے اندھے پن کے بارے میں کہتا ہے کہ محبت انسانوں کو غلط فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہے یا انہیں حقیقت دیکھنے سے روکتی ہے محبت کی جذباتی شدت اور جنون کی اندھی کیفیت انسان کے رگ وپے میں سرایت کر جاتی ہے۔ میں بھی ان دنوں اس طرح کی کیفیات میں مبتلا ہوں اگرچہ زمانے میں محبت کے سوا اور بھی بہت سارے دکھ ہیں مگر میری محبت نے مجھے ہررنج والم سے بیگانہ کر دیا ہے میں اپنی محبت میں جنون کی حدوں کو چھوچکا ہوں کبھی مجھ پر بھی محبت کے موسموں میں رومانس کی پھلجھڑیاں ٹوٹ کر گرتی تھیں اور محبت کی لذتوں کے نرم گلابی تخیلاتی نظارے میری روح کو تازگی بخش دیتے تھے رومانس کی موسمیاتی تبدیلیوں سے عجب دھوپ چھاؤ ں رہتی تھی مگر اب میرے اندر ایک ہی موسم ٹھہرچکا ہے معلوم نہیں میں اندھا ہوں یایک رخایک رنگا ہوچکا ہوں کیونکہ مجھے اپنی اسی محبت کے ڈرامے کے دوسرے سین کا علم ہے مگر میں اس سے انجان ہوں میری محبت نے میری نفسیا ت پر گہرا اثر ڈالا ہے اور مجھے اندھے پن کا مرض لاحق ہو چکا ہے بہت پہلے میرے اندر یہ عارضہ شروع ہو ا تھا اور یہ بیماری جان کر نہ ماننے کی ہے جس کی شدت کا احساس مجھے ہو جانا چاہیے کیونکہ یہ مرض میری عقل و خرد کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور اب میں اندھا ہوچکا ہوں اس اندھے پن کی بھول بھلیوں میں کبھی میرے محبوب قائد میاں نوازشریف بستے تھے تب میں سمجھتا تھا کہ میاں نواز شریف ہی میری آخری محبت ہیں مگر جب سے میری محبت کے زاویے بدلے ہیں اور میرا عشق عمران خان ٹھہراہے تب سے مجھے محسوس ہواکہ ہر محبت آخری محبت ہوتی ہے میں اپنی محبت کی آگ میں تپ کر کندن ہو چکا ہوں مجھے اسکے علاوہ کچھ نظرنہیں آرہا۔ میرا محبوب مرشد جیل کی سلاخوں کے پیچھےہے میں جانتا ہوں اس کا ذمہ دار وہ خود ہے مگر میں مانتا نہیں ہوں ،میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ میرے زخم خوردہ پاکستان کی 78سالہ زنگ آلودریت ہے جس کی زد میں کبھی شہیدملت خان لیاقت علی خان کبھی مادرِملت فاطمہ جناح آتی ہیں اور کبھی قائدذوالفقار علی بھٹواس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ میرے قائد نواز شریف بھی اس ریلے کی زد میں آئے جس نے جمہوریت کے بلند ساحل زمین برد کردئیے۔
میں یہ بھی جانتا ہو ں کہ 2010ء میں جب میاں نواز شریف نے جمہوریت کے مرجھائے ہوئے پھولوں کو تازگی بخشنے کے لیے پاکستان کے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے سامنے میثاق جمہوریت پیش کیا توتمام سیاسی قائدین اس 12نکاتی ایجنڈے پرمتفق ہوگئے مگر میرے مرشد میثاق جمہوریت کے خلاف تحریک لے آئے اور اس زنگ آلودریت کا حصہ بن گئے جس نے جمہوریت کے قلعوں کو تاراج کیا ۔میں جانتا ہوں جب پرویز مشرف نے جمہوریت پر شب خون مارا تو میرے مرشد پھولے نہ سماتے تھے اور خود کو وزارت عظمی کی سیج کا سب سے زیادہ مستحق سمجھ رہے تھے حتیٰ کہ جب 2001میں جنرل پرویز مشرف نے امریکیوں سے عہد وفا کا فیصلہ کیا اور قبائلی علاقوں میں فوج بھیجی تو میرے مرشد مشرف کے ہم نوالہ وہم پیالہ ہوگئے اور انہوں نے بیان جاری کیا کہ وارآن ٹیررکے علاوہ مشرف کے پاس دوسرا کوئی آپشن موجود نہیں ۔وزارت عظمیٰ کا قلمدان نہ ملنے پر بعد ازاں میرے مرشد جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کے سخت ترین ناقد بن گئے ۔میں جانتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ اور میرے مرشد کے تعلقات سرد مہری کا شکار کیوں ہو ئے جسکی وضاحت برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے دی کاش وہ اپنے گھرکے اندرونی معاملات کودرست کرلیتے تونوبت یہاں تک نہ پہنچتی ۔میرے مرشد توفوج سے دشمنی پر اتر آئے اور ان کی کمین گاہوں سے ایسے زہریلے تیر نکلے جنہوں نے فوج اور عوام کے درمیان بدترین تصادم کو ہوادی اور سانحہ ۹ مئی نے جنم لیا جس نے میرے مرشد کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ۔میں جانتا ہوں بزدار پلس اور وسیم پلس نے صوبوں کادھڑن تختہ کردیا اوربیڈگورننس کی بدولت ملکی معیشت خلیج بنگال میں ڈبکیاں لینے لگی کیا سے کیا ہوتا رہا مجھے خبرہے میں سب جانتا ہوں لیکن مانتا نہیں ہوں کیوں کہ مجھے اندھے پن کا مرض لاحق ہو چکاہے میں اس قدراندھاہوچکاہوں کہ مجھے اس کے علاوہ کچھ نظرنہیں آرہا کہ میرا مرشد قید ہے ،میں اس انتظار میں ہوںکہ میرا مرشد روایتی پشتون چپل پہنے خوب صورت لباس زیب تن کیے نخریلی چال چلتے ہوئے اور اپنے سیاسی مخالفوں کو کال کوٹھڑیوں میں ڈالتے ہوئے کب نظر آئے۔ باقی سب بھاڑمیں جائے مجھے کچھ پروا نہیں۔کیوں کہ میں اس قدر اندھے پن کے مرض کا شکارہو چکا ہوں کہ مجھے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔