• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاگتے ہی موبائل فون کا استعمال دماغی صحت کیلئے کیسا ہے؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ جاگنے کے فوراً بعد موبائل فون چیک کرنے کی عادت دماغی کارکردگی اور مجموعی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ڈیجیٹل دور میں موبائل فون دیکھنا بہت سے افراد کے لیے صبح اٹھتے ہی پہلی سرگرمی بن چکا ہے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ رویہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق یہ رجحان تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کا ضرورت سے زیادہ یا غیر مناسب وقت پر استعمال صحت اور روزمرہ معمولات پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

سروے کے مطابق تقریباً 84 فیصد صارفین جاگنے کے فوراً بعد یا دن کے ابتدائی 15 منٹ کے اندر اپنا موبائل استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

تحقیقی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاگنے کے فوراً بعد دماغ مکمل طور پر متحرک نہیں ہوتا۔

ابتدائی مرحلے میں دماغ ڈیلٹا اسٹیٹ میں ہوتا ہے، جو گہری آرام کی کیفیت سے منسلک ہے۔ اس کے بعد یہ بتدریج الفا اسٹیٹ میں داخل ہوتا ہے، جہاں انسان بظاہر بیدار ہوتا ہے لیکن ذہن مکمل طور پر فعال نہیں ہوتا۔

بالآخر دماغ بیٹا اسٹیٹ میں پہنچتا ہے، جہاں وہ مکمل طور پر چوکنا اور روزمرہ سرگرمیوں کے لیے تیار ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جاگتے ہی موبائل فون دیکھنے سے دماغ کو اچانک پرسکون حالت سے مکمل سرگرمی کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے۔ یہ اچانک تبدیلی ذہنی دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے اور انسان کو بے چینی، چڑچڑاہٹ یا ذہنی تھکن کا شکار بنا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں اس سے دن بھر کام میں دلچسپی اور حوصلہ بھی کم ہو سکتا ہے۔

ماہرینِ صحت تجویز کرتے ہیں کہ جاگنے کے بعد کم از کم 30 منٹ سے ایک گھنٹے تک موبائل فون کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ یہ وقفہ دماغ کو قدرتی طور پر آرام سے مکمل بیداری کی طرف منتقل ہونے میں مدد دیتا ہے۔

ماہرین نے ایک اور بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی بھی کی ہے، جو سونے سے پہلے موبائل فون کے زیادہ استعمال سے متعلق ہے۔

رات کے وقت اسکرین دیکھنے سے نیند کے معمولات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نیند میں خلل جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

صحت سے مزید