• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلے وقتوں کی عیدوں کا اپنا ایک خاص مزہ اور لُطف ہوا کرتا تھا۔عید سے مہینہ ڈیڑھ پہلے ہی درزی کو کپڑے سِلائی کرنے کے لیے دے دئیے جاتے تھے ۔ درزی کے پاس رش کی صورت میں کبھی چھوٹی موٹی سفارش اور مِنت تَرلے کی بھی ضرورت پیش آجاتی تھی ۔ اِسی طرح ہفتوں پہلے گائوں کے موچی کو جُوتے تیارکرنے کا آرڈر دے دیا جاتا تھا اور آتے جاتے گزرتے ہوئے جُوتے کی تیاری کے مراحل کا مُشاہدہ بھی کر لیا جاتا تھا اور اگر کوئی کمی کوتاہی ہو تو اُس کی نشاندہی بھی کر دی جاتی تھی۔ خواتین عیدکیلئے میدے کی سویّاں گھر پر خود تیار کرتی تھیں اور عید کیلئے خصوصی طور پر سُوجی کا حلوہ دیسی گھی سے تیار کیا جاتا تھا۔ گائوں میں ایک ہی حجام ہوا کرتا تھا ایک دو دن قبل سب ہی حجام کے پاس بال کٹوانے کیلئے پہنچنا شروع کر دیتے تھے جبکہ بَااَثر اور بڑے زمیندار حضرات حجام کو اپنے ڈیروں پر ہی طلب کر لیا کرتے تھے۔ گلی محلوں کی صفائی کی جاتی تھی ۔ گلیوں میں اور مسجد و عیدگاہ کے راستوں پر چُونے کی لائنیں لگائی جاتی تھیں ۔ چُونے سے زمین پر پُھول اور ڈیزائن بھی بنائے جاتے تھے۔ گلیوں میں رَنگ برنگے کاغذوں کی جھنڈیاں بھی لگائی جاتی تھیں ۔ علاقے کے مُعتبرین اپنے کُلّے کے کپڑے کو کلّف لگوا کرشَملہ تیار کرتے تھے اور عید کے دن فخریہ انداز میں اپنے سر پر سجاتے تھے۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ جب عید کارڈز کا دَور شروع ہوا۔ بازاروں میں جا کر عید مبارک والے رنگ برنگے اور خوبصورت کارڈ خریدے جاتے تھے۔ سماجی اور معاشرتی طور پر زیادہ میل جول والے حضرات نے ناموں کی فہرست تیار کررکھی ہوتی تھی جن کو لازمی کارڈ بھیجے جانے ہوتے تھے۔ ڈاک خانے خود جا کر عید کارڈ پوسٹ کیے جاتے تھے اور تسلّی کی جاتی تھی کہ کوئی کارڈ آگے پیچھے نہ ہو جائے۔ دوستوں اور رشتہ داروں کے عید کارڈ کا بڑی شدت کے ساتھ انتظار کیا جاتا تھا۔ موصول شُدہ عید کارڈ کو دیواروں پر کئی کئی ہفتوں کیلئے چسپاںرکھا جاتا تھا جو کوئی دوست یا رشتہ دار عید کارڈ نہ بھیجے اُس سے ناراضی بھی ہو جایا کرتی تھی۔ عید کے روز آس پڑوس اور رشتہ داروں کے گھر مٹھائی،کھیر، حلوہ یا سویّاں وغیرہ بھیجی جاتی تھیں۔ جواباََ برتن خالی نہیں آتے تھے بلکہ میٹھا وصول کرنے والے بھی برتن میں کوئی میٹھی چیز ڈال کر واپس بھیجتے تھے۔ گھروں اور ڈیروں پر جا کر ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید کی مُبارک دی اور لی جاتی تھی اور جو دوست عزیز مبارک باد دینے نہ آئے اُ س کے نہ آنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جاتی تھی اور اگر کوئی معقول وجہ نہ پائی جائے تو پھر اُسے ناراضی کا اظہار پہنچایا جاتا تھا ۔ عید کی نماز پڑھتے ساتھ ہی قبرستانوں کا رُخ کیا جاتا اور اپنے بیگانے سبھی کیلئے دُعائے مغفرت کی جاتی ۔ جس کسی دوست رشتہ دار یا محلہ دار کی فوتیدگی کے بعد پہلی عید ہوتی تو وہاں خا ص طور پر جا کر فاتحہ خوانی کی جاتی ۔ بچے بڑوں سے عیدی وصول کرنے میں مشغول رہتے۔ عید کے تہواروں کے حوالے سے ہمارے معاشرے کی یہ عام مگر انتہائی خوبصورت اور قابلِ ستائش روایات تھیں جنہوں نے ایک دوسرے کو بغیر کسی طمع ولالچ کے مضبوطی سے جو ڑرکھا تھا۔ ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شرکت کا جذبہ ایک زندہ و جاوید معاشرے کی علامت سمجھا جاتا تھا ۔ بلاشبہ سماجی روابط اور غمی خوشی کے مواقع پر ایک دوسرے کی خبر گیری ہی معاشرے کو مضبوطی سے جوڑتی ہے ۔ پہلے وقتوں میں غُربت ضرور تھی اور وسائل و ذرائع بھی نہ ہونے کے برابر تھے مگر لوگ خوش و خُرم اور مطمئن تھے ۔ رشتوں کا ادب آداب، احترام او رپاس تھا مگر جب سے روپے پیسے کی ریل پیل شروع ہوئی ہے معاشرتی اقدار، تقاضے اور رسم و رواج بتدریج تبدیل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ پہلے پہل موبائیل فون نے زمانے کے اندا ز بدلے اور اب رہی سہی کسر Whatsapp نے نکال دی ہے ۔ بلا شبہ و تحقیق ایجادات اور سائنسی ترقی نے انسان کو طرح طرح کی آسائشوں سے مالامال کر دیا ہے اور زندگی کو اِس قدر آسان بنا دیا ہے کہ جس کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھامگر اِس ترقی نے معاشرے کی ہیئت، رسم ورواج، طور طریقوں اور باہمی میل جول کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ۔ اب تو بذریعہ ڈاک ملنے والے عید کارڈ کو آنکھیں تَرس سی گئی ہیں ۔ کسی دوست رشتہ دار کا بذریعہ ڈاک کوئی خط ملے بھی کئی برس گزر چُکے ہیں ۔ اب عید مبارک کے پیغام اور کارڈز بذریعہ Whatsapp ہی آتے ہیں ۔ ایک پیغام یا کارڈ تیا ر کر کے Broadcast List میں ڈال کر صرف ایک بٹن دبا دیا جاتا ہے اور عید مبار ک کا پیغام ٹھک کر کے 256 خوش نصیبوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ اِس طرح کے پیغام یا کارڈ بھیجنے والوں کی اکثریت کو شاید ٹھیک طرح سے یاد بھی نہیں ہوتا کہ اُن کی Broadcast List میں کون کون موجود ہے۔ ایسے پیغامات اور کارڈز کی پذیرائی کا عالم یہ ہے کہ اکثر و بیشتر ایسے پیغامات اور کارڈ وغیرہ Inbox میں رنگ برنگے پیغامات کی بھرما ر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ایک کے اوپر دوسرا پیغام اور دوسرے کے اوپر تیسرا پیغام، یہ سلسلہ اور عمل پیغام کی اہمیت کو خاصا کم کر دیتاہے۔بس یہ سب کچھ دورِ جدید کی پیداوار اور ٹیکنالوجی کا مرہونِ منت ہے جس سے نہ تو پہلوتہی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کنارہ کشی ۔ خیر عید جیسے بھی منائیں اور اپنے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کسی بھی ذریعے سے کریں۔بس باہمی پیا ر ، محبت ، لگن اور لگائو برقرار اور قائم ودائم رہنا چاہیے۔ خوشیاں بکھیرتے رہیں اِسی کا نام زندگی ہے۔

تازہ ترین