• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران مذاکرات، پاکستان نیک نیتی سے کوشاں، نتیجہ اللّٰہ کے ہاتھ میں، وزیراعظم

انصار عباسی

اسلام آباد … ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور بالواسطہ سہولت کاری میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نیک نیتی کے ساتھ اپنی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وزیر اعظم کے حوالے سے ذریعے نے کہا کہ باقی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ذریعے، جس نے اس معاملے پر وزیرِ اعظم سے بات کی، نے بتایا کہ پس پردہ سفارت کاری کے جاری عمل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم انہوں نے کسی بڑی پیش رفت کا دعویٰ کرنے سے گریز کیا۔ ذریعے کے مطابق، وزیراعظم نے کہا کہ ہم خلوصِ نیت کے ساتھ اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، باقی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق بھی اس معاملے پر دوسروں کے ساتھ کچھ بھی شیئر کرنے میں احتیاط کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسحاق ڈار سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا وہ پاکستان کی سہولت کاری میں ایران امریکا بالواسط مذاکرات سے مطمئن ہیں اور کیا کوئی حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں؟ تو اس پر ان کا جواب تھا کہ ہم اپنی بہترین کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغام رسانی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سفارتی کوشش میں دونوں جانب سے تجاویز اور جوابات کی ترسیل شامل ہے۔ اس صورتحال سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ یہ بالواسطہ چینل بڑھتے تنازع اور باہمی عدم اعتماد کے باوجود رابطے کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔ پاکستان کا مقصد واضح ہے، غیر مستحکم خطے میں امن اور استحکام کا فروغ۔ سفارتی مبصرین کے مطابق، اسلام آباد کی شمولیت ایک جانب دونوں ممالک کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاس ہے تو دوسری جانب طویل تنازع کے وسیع تر معاشی اور سیکیورٹی اثرات پر اس کی تشویش کا اظہار بھی ہے۔ اگرچہ باضابطہ مذاکرات کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم پیغامات کے بالواسطہ تبادلوں کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خاموش سفارت کاری بدستور جاری ہے، جس میں پاکستان خود کو دو دیرینہ حریفوں کے درمیان ایک پل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید