کراچی(اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی کے طلبہ کے والدین اور اہلِ خانہ نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر جامعات و بورڈز اور دیگر متعلقہ حکام کو ایک کھلا خط ارسال کرتے ہوئے جامعہ میں جاری امتحانی بائیکاٹ اور ہڑتال کے خاتمے کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا میں وائرل اس خطمؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے سیمسٹر امتحانات کے بائیکاٹ کے باعث طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں جبکہ ہزاروں طلبہ اور ان کے خاندان ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ طلبہ پہلے ہی کورونا وبا اور بعد ازاں ہائبرڈ تدریسی نظام کے باعث تعلیمی مشکلات سے دوچار رہے ہیں، تاہم اب امتحانات کے التوا نے ان کے مستقبل کے حوالے سے مزید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔والدین نے دعویٰ کیا کہ اساتذہ اور ملازمین کے بعض مطالبات، جن میں ہاؤس سیلنگ میں اضافے اور لیو انکیشمنٹ کی ادائیگی شامل ہے، حکومتی مالیاتی قواعد اور بجٹ ضوابط کے مطابق نہیں ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ہاؤس سیلنگ میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا تاہم اس کے لیے مطلوبہ فنڈز جامعہ کو فراہم نہیں کیے گئے جبکہ سندھ حکومت نے بھی تاحال اس فیصلے کو اختیار نہیں کیا۔